کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟
09 اگست 2018 2018-08-09

اقتدار میں آنے یا اقتدار میں رہنے کے لیے سیاست دان وہی طریقے استعمال کرتے ہیں جو میکاولی نے اپنی کتاب ’’ پرنس‘‘ میں واضح کیے ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ ایسے معاہدوں اور مفاہمتی یاد داشتوں سے بھری پڑی ہے جو اقتدار میں آنے کے لیے ضروری تھے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ قلا بازی کھاتے ہوئے کسی اصول کی پروا نہیں کی جاتی یہاں تک کہ مدینہ کی ریاست بنانے اور قائد اعظم کے اصولوں پر چلنے والے دعوے تو بڑے کرتے ہیں مگر ان کی لیاقت اس فلسفے سے کافی دور ہے۔ حقیقی خاندانی اور موروثی سیاست کے خلاف آواز بلند کرنے والے کپتان اقتدار میں آنے کے لیے تقریباً چھ سے زائد جماعتوں سے اتحاد کر چکے ۔ اکثریت نہیں ملی جسے ملی اس پر کافی گہرے اور سنجیدہ سوالات اُٹھے ہیں۔ ایک صوبہ تو کپتان جام کمال کی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں خوب اودھم مچا۔ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک جو کپتان کے دھرنوں کو افرادی قوت اپنے صوبے سے فراہم کرنے والا سب سے بڑا ’’ سورس‘‘ تھے یہاں تک جب خٹک اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے لیے سرکاری گاڑیوں پر لوگوں کو لائے تو پنجاب حکومت نے بھی منہ توڑ جواب دیا۔ کے پی کے کا سرکاری ہیلی کاپٹر تھا جس کو کپتان مال مفت دل بے رحم کی طرح اڑاتے رہے حتیٰ کہ سرکاری ہیلی کاپٹر تھا یا رکشہ پشاور سے حیات آباد تک بھی سفر اس پر ہی کیا گیا۔ یہاں تک کروڑوں روپے کے پی کے ہاؤس میں کپتان اور اس کے کھلاڑیوں کی مہمان نوازی پر اڑا دیئے۔

کے پی کے میں حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو کپتان کی پہلی چوائس مردان سے کامیاب ہونے والے عاطف خان تھے وزیر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے کافی کام کیا ۔ کپتان ان کے بارے میں اشارے دیتے رہے کہ وہ مستقبل میں انہیں آگے دیکھنا چاہیے ہیں پر قربت پرویز خٹک کو پسند نہیں آئی۔ ایسا ہی رویہ پرویز خٹک کا سپیکر اسد قیصر کے ساتھ تھا۔ مردان سے کپتان نے علی احمد کو ٹکٹ دینے کی بجائے صوبائی کے ساتھ قومی کا ٹکٹ بھی دے دیا۔ پھر واپس بھی لے لیا۔ کپتان کو وزیر اعظم بننے کے لیے قومی نشستوں کی اشد ضرورت ہے اس کی زد میں پرویز خٹک بھی آگئے۔ کپتان کی بات ماننے سے انکار کرتے رہے کہ صوبے میں ان کی اشد ضرورت ہے پرویز خٹک نے لابنگ کی ارکان اسمبلی کی اکثریت ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ مگر کپتان عاطف خان پر ڈٹ گیا۔ آخر کار کپتان نے پرویز خٹک سے سودا کر لیا۔ اور قرعہ پی کے 9 سے کامیاب ہونے والے محمود خان کے نام نکلا جو پرویز خٹک کے اعتماد کے ساتھی ہیں۔ 2013 ء میں ان کو صوبائی وزیر بنایا گیا اپریل 2014 ء میں جن چھ وزیروں سے وزارتیں واپس لی گئیں ان میں محمود خان بھی شامل تھے۔ چھ وزیروں کو مبینہ کرپش کے الزام کی وجہ سے الگ کیا گیا۔ کپتان نے محمود خان کو کے پی کے کا وزیر اعلیٰ 3 ماہ کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ فیصلہ بھی کپتان نے کیا ہے اور پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ بھی وہ خود کریں گے۔ کپتان نے قائد اعظم کا وہ کردار نہیں پڑھا جو انہوں نے صوبوں کے بارے میں اپنایا تھا پنجاب کی وزارت اعلیٰ افتخار ممدوٹ کے پاس تھی ان کی کابینہ میں ممتاز دولتانہ وزیر خزانہ اور متحدہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ سر سکندر حیات کے بیٹے سردار شوکت حیات وزیر مال تھے۔ سیاسی طور پر ممتاز دولتانہ ہوشیار اور وزارت اعلیٰ کی گدہی تک جانا چاہتے تھے۔ اختلافات شروع ہوئے اور معاملہ قائد اعظم تک گیا ممتاز دولتانہ اور وزیر اعلیٰ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں دونوں کا موقف سنا اور حکم دیا کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھیں۔ اکثریت کا فیصلہ دوسرا فریق قبول کرلے۔ ایسا ہی معاملہ وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو اور ان کے حریفوں کا تھا۔ جبکہ صوبہ سرحد میں خان عبدالقیوم خان نے اپنے مسلم لیگی مریضوں یوسف خٹک اور پیر آف مانکی کو نیچا دکھانے کا عمل شروع کر رکھا تھا کوئی ایسا ایک قدم بھی قائد اعظم نے نہیں اٹھایا کہ پنجاب اور سندھ میں وہ حکومت رہے گی جسے میں چاہوں گا بابائے قوم نے تو رہنما اصول ریاست چلانے کے اپنی 11 اگست 1947 ء کی تقریر میں ہی بتا دیے تھے کہ ریاست پاکستان کو کیسے چلانا ہے نہ جانے کیوں قائد اعظم کی جمہوریت کا نام لیتے ہیں۔ حکومت قائم کرنے کے لیے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل سے بھی معاہدہ کر لیا ہے۔ ان کے چھ نکات ہیں۔ ان کو تحریری طور پر مان لیا ہے کہ وہ ان کو پورا کریں گے۔ جن میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ ہے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی ہے اس پر کافی عرصے سے جانے والی حکومتوں سے ان کا تنازعہ چلتا رہا۔ لاپتا کیے گئے افراد پر یقیناًکافی سنگین الزام ہوں گے پہلا نکتہ ہی بہت مشکل ہے۔ نقل مکانی روکنے کے لیے ڈیم کا قیام ، وفاقی ملازمتوں میں 6 فیصد کوٹہ اور 

دیگر مطالبات ہیں۔ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا چے گی والا معاملہ ہے ۔ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ایک طرف دھاندلی کے خلاف احتجاج پر ہے دوسری طرف پی ٹی آئی کی طرف۔ بلوچستان عوامی پارٹی ’’ مگ مکا سے‘‘ بلوچستان حکومت بنائے گی ۔ مسلم لیگ ق کا اپنا ایجنڈا ہے۔ چکوال کے جس نوجوان کو وزیر اعلیٰ بنایا جا رہا ہے۔

وہ عام کلاس سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان کا خاندان جاگیر دار اور جرنیلوں کا خاندان ہے۔ پنڈی سازش کیس جس کے ذریعے جنرل اکبر نے لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ یاسر سرفراز کے خاندان سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ جنرل راجہ افتخار پاکستان کے پہلے نامزد کمانڈر انچیف تھے انہی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یاسر کے دادا راجہ سرفراز گورنر کی نامزد لیجلٹو کونسل کے رکن تھے۔ یہ کونسل انگریزوں نے اپنے وفاداروں سے بنا رکھی تھی۔ قائد اعظم دشمن یونینسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے راجہ سرفراز کامیاب ہوئے۔ 1951 ء میں راجہ سرفراز کو ایاز امیر کے والد نے شکست دی مگر یہ کامیابی کالعدم ہو گئی۔ کپتان کا نائب کپتان کا خاندان انگریزوں کا نوازا ہوا ہے یہ موروثی سیاست دان ہیں ان کا بیٹا، بھائی اور خود شاہ محمود قریشی اسمبلی کے ممبر ہیں فواد چوہدری کے انکل الطاف حسین ان کے دادا، چچا اور کزن ان کی بھی موروثی سیاست ہے۔ پرویز خٹک کے بھائی بھتیجا اور بھابی بھی ممبر قومی اسمبلی ، علیم خان وفاداریاں بدلنے کے ماہر کرپشن کے مقدمات زیر سماعت، میجر (ر) طاہر صادق دو قومی ایک صوبائی سے کامیاب برادر نسبتی پرویز الٰہی دو قومی اور صوبائی سے کامیاب حسین الٰہی قومی سے کامیاب ، محمد میاں سومرو کے دادا وزیر اعلیٰ چچا سپیکر قومی اسمبلی والدہ ضلع ناظم خود دو مرتبہ چیئر مین ، گورنر اور نگران وزیر اعلیٰ، راجن پور کے لغاری، مزاری، اور ڈی جی خان کے کھوسے، جلال پور پیر والا کے نون، منڈی بہاؤالدین کے گوندل، سیال کے گدی نشین، جھنگ کے لالی، بھروانے، سیال سلطان باہو کے گدی نشین، رحیم یار خان کے خسرو بختیار کا خاندان اوچ شریف کے سجادہ نشین، اوکاڑہ کے وٹو، کرمانوالہ کے گدی نشین سب کے سب کس کے کہنے پر کپتان کے پیچھے آئے ، جنون اور سونامی کارکن ان کے سامنے کیڑے مکوڑے، بے حیثیت ہیں ۔ ان لوٹوں کی کہانی تو چڑھتے سورج کی پوجا ہے۔ اتنی حمایت ملنے کے باوجود ابھی تک 172کا ہندسہ عبور نہیں ہو رہا ایک طرف اعداد و شمار کا کھیل ہے، دوسری جانب کپتان کے خلاف دھاندلی کے خلاف تحریک ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی کپتان کی نا اہلی کی درخواست لے کر پہنچ گئے ہیں۔ سب سے اہم پریشانی کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب سے قبل ہی دھاندلی کے خلاف بڑی اور طاقتور اپوزیشن سڑکوں پر آ چکی ہے۔ مداخلت ہر جگہ ہی تھی ’’پوری قوم انتخابات کو مسترد کرتی ہے‘‘، ’’الیکشن کمیشن مستعفی ہو جائے‘‘، ’’جعلی وزیراعظم کو اس منصب پر بیٹھنے کا اختیار نہیں‘‘۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا مظاہرہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے تھا جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے کامیاب اور ناکام ممبران تو شریک ہوئے مگر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری اور اے این پی کے صدر اسفند یار ولی شریک نہیں ہوئے ، شہباز شریف کا بہانہ تھا کہ وہ خراب موسم کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے مگر سوال یہ اٹھا ہے کہ نوا زشریف کے بیانیے سے اختلاف ہے یا کوئی اور وجہ پیپلزپارٹی دھاندلی کے خلاف اٹھنے والی تحریک سے خوفزدہ ہے کیونکہ ایک طرف سپریم کورٹ میں آصف زرداری کے خلاف این آر او مقدمہ میں نیب نے بتایا ہے کہ 6 ارب کا یہ مقدمہ نہیں کھل سکتا کیونکہ اس کے خلاف کسی نے اپیل ہی نہیں کی تھی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سوئس حکام کو پیپلزپارٹی کے دور میں جہاں زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کا خط لکھا گیا وہاں یہ بھی خط خفیہ طریقے سے لکھا گیا کہ حکومت آصف زرداری کے خلاف مقدمات نہیں کھولنا چاہتی ۔ جن لوگوں نے موجودہ جمہوری ڈھانچہ ترتیب اور تشکیل دیا ہے، اس میں پیپلزپارٹی کا کردار یہی ہے جو ادا کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اعلیٰ سطح کا جو اجلاس کل کیا ہے اس میں عمران خان کی حکومت کو پورے 5 سال چلنے دینا ہے اور پارلیمنٹ کے اندر تو اپنا اپوزیشن کردار ادا کرے گی مگر سڑکوں اور احتجاج کا راستہ وہ سکرپٹ کے مطابق ادا نہیں کرے گی۔ احتجاج ہوا خوب ہوا ریڈ زون میں واقعہ الیکشن کمیشن کے دفتر جانے والی رکاوٹوں کو توڑ کر پر امن مظاہرین وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس احتجاج میں راجہ ظفر الحق ، احسن اقبال، مشاہد حسین سید، مشاہد اللہ خان اور نہال ہاشمی شریک ہونے یہ بھرپور شرکت ہے جبکہ پی پی پی کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی شیری رحمان، نوید قمر، فرحت اللہ بابر محمود اچکزئی مولانا فضل الرحمن، راجہ ظفر الحق جیسے لیڈر نے بھی اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جنہوں نے ووٹ کو عزت نہیں دی ۔ انہوں نے قوم کا نقصان کیا ہے البتہ مولانا فضل الرحمن کی تقریر کافی سخت تھی جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ٹکراؤ کافی آگے تک جائے گا۔ صوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر بھی مظاہرے ہو چکے۔ اگر ملک میں ایجی ٹیشن ہو گی تو ریاست کیسے آگے بڑھے گی اپوزیشن تو عمران خان کا ادھار اتارنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ 

دلچسپ اور اہم فیصلہ تو سنایا ہے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے حکم آیا ہے الیکشن کمیشن نے جو نتیجہ مرتب کر دیا درست ہے یہ حکم انہوں نے عمران خان کی اس درخواست پر سنایا کہ این اے 131 کا حلقہ نہ کھولا جائے عمران خان جنہوں نے انتخابی نتائج کے بعد اپنی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ دھاندلی کے الزام کے حوالے سے جتنے مرضی حلقے کھولے جائیں ان کو اعتراض نہیں ہو گا۔ ان کے حریف خواجہ سعد رفیق نے آر او کو دوبارہ گنتی کی درخواست دی ابھی 5 تھیلے ہی کھلے تھے گنتی میں سعد رفیق کے ووٹ بڑھنا شروع ہوئے کپتان نے اپنے وکیل بابر اعوان کو طلب 5 تھیلوں کی گنتی کے بعد معاملہ رکوا دیا ۔ 2017ء کے الیکشن ایکٹ کے تحت 5 فیصد سے کم کامیابی والی حلقے میں دوبارہ گنتی ہو سکتی ہے اس قانونی نکتے پر لاہور ہائی کورٹ نے کپتان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک لیا تو عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے فیصلہ دیا گنتی نہیں ہو سکتی نتیجہ مرتب ہو چکا ہے جو ہونا تھا ہو چکا۔ فیصلہ حیران کن ہے۔ کپتان دھاندلی کی تحقیقات کے لیے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں کیوں ہٹے اس نے بہت سے سوالات اُٹھا دیئے ہیں کہ کپتان کے پانچوں حلقوں کی دال میں کافی کچھ کالا ہے یہی وجہ ہے کہ این اے 131 اگر ٹیسٹ کیس ثابت ہو جاتا تو پورا انتخابی عمل جس پر پہلے ہی کافی سوالات اُٹھ چکے ہیں شک وشبہ یقین بن کر سامنے آجاتا۔ یہ تو اقتدار حاصل کرنے کی بے صبری ہے سیاست کا کوئی اصول نہیں ہے۔ یہ یقیناًیوٹر ن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جھرلو کی سیاست جو کبھی فوجی حکومتوں میں ہوتی رہی اور کبھی سول اور نیم سول حکومتوں میں اس کو رکنا چاہیے اداروں کو قائداعظم کے فرمان کے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار میں واپس جانا پڑے گا۔ 


ای پیپر