ریاست مدینہ بارے عمران خان کی لاعلمی

09 اگست 2018

ڈاکٹر ابراہیم مغل

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ملا نصیرالدین کے پاس ایک دیہاتی خط لے کر آیا کہ ملا صاحب اسے پڑھ کر سنائیں۔ ملا صاحب نے دیہاتی کو جواب دیا کہ میں تو اَن پڑھ ہوں۔ دیہاتی نے ملا صاحب کی جانب غصے سے بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ’’تو پھر اتنی بڑی پگڑی کیوں باندھی ہوئی ہے؟‘‘ ملا نصیرالدین نے پگڑی اتار کر اس کے سر پر رکھ دی اور کہا: ’’لے اب تو خود پڑھ لے۔‘‘ صاحبو! یہاں یہ حکایت درج کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ عمران خان جو اس وقت بائی ہک آر بائی کروک 2018ء کے عام انتخابات میں کامیاب قرار دیئے جاچکے ہیں، یعنی فیصلے کرنے والی اتھارٹی کی پگڑی ان کے سر پر سجا دی گئی ہے، لہٰذا وہ یہ پگڑی پہن کر وہ سب کرکے دکھائیں جس کا وہ مطالبہ نواز شریف حکومت سے کرتے رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ عمران خان پاکستان میں ریاست ِ مدینہ کی بنیاد رکھنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ڈاکواور قاتل کو اپنے ساتھ ملا کر کس برتے پر ریاست مدینہ کی بنیاد رکھنے کی بات کرسکتا ہے؟ میں تو اپنے ان صحافی دوستوں پہ حیران ہوتا ہوں جو عمران خان کے سر پر اقتدار کی پگڑی رکھنے کی یہ تو جیہہ پیش کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سمیت سب ہی پارٹیوں کو آزما چکے ہیں۔ لہٰذا اب عمران خان کا حق بنتا ہے کہ اسے بھی حکومت کرنے کا ایک موقع دے کر آزمالیا جائے۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دورِ اقتدار میں خیبرپختونخواہ پہ حکومت کرنے کے اختیارات مکمل طور پر عمرا ن خان کے حوالے کردیئے تھے تو پھر کے پی کے میں ان کی کارکردگی کیا رہی تھی؟ کیوں عمران خان وہاں ریاست ِ مدینہ جیسی ریاست کی بنیاد نہ رکھ سکے؟ اسی لیے تاکہ دراصل تحریک انصاف کی صورت کوئی سیاسی پارٹی کہلانے کی مستحق نہیں، وہ تو عمران خان کے ا ر د گرد ان کے مداحوں کے ایک ٹولے کا نام ہے۔ ایسا ٹولہ جس نے گالیاں بکنے اور اپنے مخالفوں پر ان کی حرمت کا احساس کیے بغیر تشدد کرنے کا کلچر عام کیا۔ مجھے یاد آتا ہے وہ دور جب حضرت سید ابوالاعلیٰ مودودی حیات تھے۔ ایک مرتبہ جب اسلامی جمعیت طلبہ کے چند عہدیداروں نے اپنے اساتذہ سے بدتمیزی کی تو یہ بات حضرت مولانا کو اس حد تک رنجیدہ کر گئی اور انہوں نے برملا کہا کہ میری عمر بھر کی کمائی برباد ہوگئی۔ اللہ اکبر! یہ تھا حضرت مولانا کا وہ عمل جو اس ملک میں ریاست مدینہ کی بنیاد رکھنے کا باعث بن سکتا تھا۔ مگر کیا کیا جائے یہاں کے مفاد پرست سیاستدانوں کا۔ ان سیاست دانوں نے حضرت مولانا کی تعلیمات کو عام ہونے نہ دیا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرت مولانا کی تعلیمات سے روگردانی کا نتیجہ عمران خان اینڈ کمپنی کے پھولنے پھلنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس بارے میں کوئی 
دو رائیں نہیں کہ عمران خان نے ایک ٹی وی شو میں اپنے لیے اللہ پاک سے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ مجھے شیخ رشید جیسے سیاست دان کبھی نہ بنانا۔ عمران خان نے تو یہ کہا تھا کہ میں شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی تک رکھنا پسند نہیں کرتا۔ اسی شیخ رشید کو اپنے پہلو میں بٹھا کر کس طرح اس ملک میں ریاست ِ مدینہ کی بنیاد رکھنے کی بات کرسکتے ہیں؟ شیخ رشید کے قصے کو بھی ایک طرف رکھیں اور دیکھیں کہ انتخابات سے چند روز قبل منعقدہ جلسوں میں عوام کو سبق پڑھاتے نظر آتے ہیں کہ وہ آزاد امیدواروں کو کسی صورت اپنا ووٹ نہ دیں اور یہ کہ کوئی آزاد امیدوار الیکشن میں کامیابی کے نتیجے میں تحریک انصاف میں شمولیت کا سوچے بھی نہ۔ جبکہ سب نے دیکھا کہ کس طرح نااہل قرار دیئے گئے عمر ا ن خا ن کے دستِ راست ، ا ور ثا بت شد ہ کر پٹ جہانگیر ترین اپنے جہاز میں کامیاب آزادامیدواروں کو لا لا کر عمران خان سے ملواتے رہے۔ کیا یوں بنیاد رکھی گئی تھی عرب میں ریاست ِ مدینہ کی ؟ استغفراللہ! عمران خان اور اس کے یوٹرن ٹولے کے بارے ہی میں تو عوامی شاعر حبیب جالب پیشگی کہہ گئے تھے ؂
اصول بیچ کے مسند خریدنے والو
نگاہِ اہلِ وفا میں بہت حقیر ہو تم
وطن کا پاس تمہیں تھا نہ ہوسکے گا کبھی
کہ اپنی حرص کے بندے ہو بے ضمیر ہو تم
ذرا ان انتخابات کا بھی ذکر ہوجائے جن کے نتیجے میں عمران خان کے سر پر ملا نصیرالدین کی پگڑی پہنا دی گئی ہے۔ الیکشن والے روز الیکشن کمیشن نے پابندی لگائی تھی کہ کسی بھی ٹی وی چینل کو شام سات بجے سے قبل نتائج کا اعلان کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لیکن پھر دیکھنے میں آیا کم از کم تین ٹی وی چینلز ایسے تھے جنہوں نے 6 بجے کے بعد ہی سے نتائج نشر کرنا شروع کردیئے۔ آج تک اس بات کا جواب نہیں آ یا کہ کیوں پولنگ ایجنٹوں کو ووٹوں کی گنتی کرتے وقت کمروں سے باہر نکال کر دروازوں کو اندر سے لاک کردیا گیا؟ کیوں فارم 45 پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخطوں کے ساتھ نتائج انہیں حوالے کرنے کی بجائے سادہ کاغذوں پر یہ عمل کیا گیا ؟
نہ جانے کس بناء پر عمران خان کو کم از کم ایک موقع دینے کی سا ز ش پاکستان کے گرد بنی جارہی ہے۔ بیرونی سازشوں کو یہ عقل کے ا ند ھے کیو نکر نظر انداز کررہے ہیں۔ اہل و طن ا چھی طر ح جا نتے ہیں کہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہونے کی بناء پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی نگاہوں میں برے سے کھٹک رہا ہے۔ اب جبکہ ان تین ممالک کا گٹھ جوڑ تیزی سے نشوونما پارہا ہے، وطنِ عزیز کسی کمزور قیادت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کمزور ہوتے ہوتے اس ملک میں اب اتنی سکت باقی نہیں کہ یہ کسی نئے تجربے کا متحمل ہوسکے۔ ریاست مدینہ قائم کرنے کے لیے حد درجہ مضبوط کردار کی ضرورت اولین شرط ہے۔ ریاست مدینہ قائم کرنے والے عمران خان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے ایک قدم اور دو قدم آگے بڑھنے کی بات تو کرتے ہیں، لیکن کشمیر کے ذکر کا ان کے بیانات میں شائبہ تک نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے اب تک اپوزیشن کی سیاست کی ہے۔ جبکہ اپوزیشن کی سیاست اور اقتدار کی سیاست میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اپوزیشن کی سیاست میں آپ کو زیادہ مزاحمت کا سامنا اس لیے نہیں ہوتا کیونکہ باقی کی سیاسی پارٹیاں آپ کی ہم آواز بن جاتی ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس اقتدار کی سیاست میں دوسری سب ہی پارٹیاں آپ کے بیانات اور پالیسیوں پہ کڑی نظر رکھے ہوئے ہوتی ہیں۔ یہی وہ سیاست ہے جو عمران خان پہ اقتدار کی پگڑی کی صورت میں مسلط ہونے والی ہے۔ میڈیا کے اس حصے نے جس کا اپنا کوئی دین ایمان نہیں، عمران خان کی کوتاہیوں کو اپنے پسِ پشت پناہ دیئے رکھی ہے۔ لیکن آئندہ کب تک یہ حصہ یہ سب کچھ جاری رکھ سکے گا۔ میڈیا کے اس حصے کے اس مخصوص کردار کے بارے میں حساس شاعر نے کہا ہے ؂
اس دور بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو
جسموں کو برف خون کو پانی کوئی لکھو
کوئی کہو کہ ہاتھ قلم کس طرح سوئے
کیوں رک گئی قلم کی روانی کوئی لکھو
کیوں سرمۂ درگاہ ہے ہر ایک طائرِ سخن
کیوں گلستاں قفس کا ہے ثانی کوئی لکھو

مزیدخبریں