نئی حکومت کے لئے!
09 اگست 2018 2018-08-09

ملک کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے انتخابات کے بعد شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی عوام نے روائتی سیاسی پارٹیوں کے بجائے ایک تیسری بڑی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ وفاق میں حکومت بنا سکے۔ نئے لوگ آنے سے کم از کم یہ تو ہوا کہ عوام کے پاس تیسرا آپشن بھی آگیا کہ وہ ایک یا دوسری پارٹی کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے، اُن کے پاس تیسری قوت کا آپشن موجودتھا۔ ان انتخابات سے کم از کم یہ ضرور ہوا کہ آئندہ کے لئے عوام کے پاس روائتی پارٹیوں کے علاوہ ایک تیسری قوت بھی سامنے آئی ہے جسے اگر اس کی موجودہ انتخابات کے بعد پہلی حکومت بنتی ہے اور وہ ڈیلیور کرنے میں بھی کامیاب ٹھہرتی ہے تو وہ آئندہ پانچ سال بعد ہونے والے انتخابات میں پھر سے اُنہیں موقع دے سکتے ہیں۔ ڈیلیور نہ کرنے کی صورت میں یقیناً عوام اُن کو دوبارہ منتخب نہ کرنے اور پہلی سیاسی پارٹیوں میں سے کسی کو دوبارہ موقع دینے کا حق رکھتے ہوں گے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں اس مرتبہ یہ روایت ٹوٹی ہے کہ انہوں نے اُسی برسرِ اقتدار رہنے والی پارٹی کو آئندہ پانچ سالوں کے لئے منتخب کیا ہے۔ وگرنہ پختونخوا میں ایک مرتبہ ایم ایم اے تو دوسری مرتبہ اے این پی اور تیسری مرتبہ پی ٹی آئی کو کامیاب کروا کر وہاں کے عوام نے اپنے جمہوری اور سیاسی شعور کا ثبوت دیا کہ اپنے ووٹ سے جسے چاہیں منتخب کرسکتے ہیں۔ بہر طور ان انتخابات میں ایک نئی پارٹی پہلی مرتبہ وفاق میں حکومت بنانے جارہی ہے جہاں حکومت بنانے والی پارٹی کے رہنماؤں نے عوام کے ساتھ بلند و بانگ دعوے اوروعدے کررکھے ہیں وہاں عوام الناس نے بھی ان کے ساتھ بہت بڑی بڑی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں اور لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید نئی پارٹی کے پاس کوئی جادو کا چراغ ہے جسے وہ رگڑتے جائیں گے اور کام ہوتے جائیں گے۔ انتخابات سے پہلے اور پھر کامیابی کے بعد کا ماحول یکسر مختلف ہوتا ہے۔ انتخابات جیتنے کے لئے تو پی ٹی آئی کے پاس پانامہ کیس تھا، مختلف پارٹیوں کے سیاستدانوں کے خلاف کرپشن اور غبن کے کیسز تھے، انہوں نے صبح و شام اس کرپشن کا ڈھنڈورہ پیٹا اور ملک میں ایک ایسا ماحول بن گیا کہ دوسروں کی کی گئی کرپشن پی ٹی آئی کے حق میں گئی اور لوگوں نے کرپشن سے چھٹکارہ پانے کے لئے نئے لوگوں کو منتخب کیا جوان کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ لیکن اب اگر حکومت آنے کے بعد بھی اُسی قسم کی کرپشن مخالف تقریریں کی جانی ہیں اور مخالف پارٹیوں کے سیاستدانوں کے نام لے لے کر لوگوں کو آرے لگائے جانے کی کوئی کوشش کی گئی تو وہ یقیناً یہ سودا نئی پارٹی کے حکومت میں آنے کے بعد نہیں بکے گا۔ اب جب وہ حکومت میں آگئے ہیں تو ان سے عوام کی توقعات کچھ اور طرح کی ہوں گی۔ وہ اب ان سے ان کاموں کی توقع کریں گے جو سابقہ اداوار میں نہیں ہو پائے۔ عوام چاہیں گے کہ ملک کی معیشت بہتر ہو اور اس کے لئے نئی حکومت کو اپنے پہلے تین ماہ ایسی قابلِ عمل پالیسیاں دینا ہوں گی جن سے واقعتاً یہ عیان ہو کہ نئی حکومت تباہ ہوتی ہوئی معیشت کے جِن پر قابو پاسکتی ہے۔ پچھلے ادوار میں لوگوں کو میرٹ پر جابز نہیں ملیں۔ اداروں کو مضبوط کرنے اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ریگورلر ریکروٹمنٹ کے بجائے کنٹریکٹ کلچر کو فروغ دیا گیا اور بھاری تنخواہوں پر لوگوں کو تعینات کیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ عدالتیں آئے روز کسی نہ کسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ز کو بلا کر ان کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی بابت پوچھتی ہیں۔ تو صحیح اعداد و شمار معلوم ہونے پر عدالتوں کے بھی تراہ نکل جاتے ہیں۔ یہ بھی شاید پاکستان ہی میں ہوتا آیا ہے کہ جو ادارے تباہ ہورہے ہوتے ہیں وہاں کے ملازمین لاکھوں میں تنخواہیں لے رہے ہوتے ہیں۔ نئی حکومت کو میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر تقرریوں کو یقینی بنانا ہوگا۔ اور میرٹ میں شفافیت کو صرف اور صرف فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ جو ادارہ جاتی بھرتیاں ہوتی ہیں یا سپیشل کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں وہ تو امیدواروں کی اہلیت کی سکروٹنی کرنے کی اہل نہیں ہوتیں۔ وہ میرٹ کو کیونکر یقینی بناسکتی ہیں۔ لہٰذا نئی حکومت کے کندھوں پر یہ بھاری ذمہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اہم آئینی اور دیگر اداروں میں متعلقہ کوالیفیکیشن کے لوگوں کو ہی تعینات کرے تاکہ وہ ڈیلیور بھی کرسکیں۔ وگرنہ دوسری صورت میں وہ حکومت کے لئے صرف اور صرف جگ ہنسائی ہی کا باعث بنیں گے۔ نااہل اور میرٹ پر پورا نہ اُترنے والے لوگ کبھی بھی کسی حکومت کے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتے اور اگر کوئی حکومت موثر انداز میں کام نہ کرپائے تو ریاست اور ریاستی ادارے کمزور ہوتے ہیں۔ 
عوام الناس کو درحقیقت نئی حکومت جو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی ہے اس سے توقعات بھی اُسی لیول کی ہیں۔ وہ چاہیں گے کہ نئی حکومت پانی اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے اہم اقدامات اٹھائیں۔ وہ ڈیم جو اب تک نہیں بنے اُنہیں بنانے کے لئے حکومت کوئی واضح حکمتِ عملی لائے اور عملی اقدامات کا آغاز کرے۔ ملک میں احتساب کے کلچر کو فروغ دیا جائے اور خود احتسابی کا کلچر متعارف کروایا جائے۔ حکومت اور ان کے حواری اگر خود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کریں گے تو پھر عوام کو تسلی ہوگی۔ اگر یہ لوگ خود بھی اس قسم کے کام شروع کردیں گے جو پہلے لوگ کرتے رہے ہیں تو لوگوں میں مایوسی پھیلے گی۔ لہٰذا احتساب بیورو کے ادارے کو آئینی اور قانونی اعتبار سے مضبوط اور خود مختار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ آزادانہ انداز میں حکومت ، اپوزیشن یا کسی بھی شعبے میں کرپشن اورمِس کنڈکٹ کا مظاہرہ کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچا سکے۔ احتساب بیورو کی بھرتیاں بھی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونی چاہئیں تاکہ قابل اور لائق لوگ ایسے اداروں کا حصہ بن کر ملکی ترقی اور خدمت کے لئے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ گزشتہ کئی سالوں میں یہ روائت رہی ہے کہ مختلف اداروں میں سیاسی تعیناتیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ سٹیٹ بنک جیسے مرکزی و قومی مالیاتی ادارے میں بھی باہر سے کوئی بندہ لا کر بٹھا دیا جاتا ہے۔ گورنر اور ڈپٹی گورنرز کی تعیناتیاں سیاسی بنیادوں پر کردی جاتی ہیں۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ڈپٹی گورنر اور گورنر، سٹیٹ بنک ہی کے تجربے کار اور سینئر افسران میں سے تعینات کیا جائے۔ اسی طرح دیگر اداروں میں بھی چاہئے کہ ان اداروں ہی کے سینئر اور پروفیشنل لوگوں کو تعینات کیا جائے۔ اگر خدانخواستہ نئی حکومت نے بھی پک اینڈ چوز والی پالیسی پر کام شروع کردیا تو عوام کی اُمیدوں پر پانی پھر جائے گا۔ لہٰذا اس حوالے سے نئی حکومت کو بہت سنجیدگی اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ عوام الناس کی طرح سرکاری ملازمین بھی نئی حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ مشرف دورمیں، سول سروسز رولز کا حُلیہ بگاڑ دیا گیا تھا۔ اور اگلے گریڈ میں موواوور کا قانون ختم کردیا گیا۔ بلکہ مختلف گریڈوں کی سٹیجز بنا دی گئیں اور اب ایک خاص مدت کی سروس کے بعد ملازمیں کی اینکریمنٹ بھی نہیں لگتی۔ اسی طرح بعض وفاقی اداروں میں آفیسرز کی ایکس کیڈر پوسٹیں ہیں جس کی وجہ سے افسران گزشتہ بیس بیس سال سے ایک ہی گریڈ میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ نئی حکومت کو ایکس کیڈر افسران کے لئے کوئی پالیسی وضع کرنے چاہئے جس کے لئے اُنہیں کم ازکم اگلے گریڈوں میں ترقی تو مل سکے۔ جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی جوانی اور ساری عمر ایک ادارے کو دے کرجب ریٹائرڈ ہورہے ہوں گے تو اُنہیں پینشن کسی سینئرگریڈ کی مل سکے گی اور وہ اپنا بڑھاپا باعزت انداز میں گزار سکیں گے۔
اسی طرح نئی حکومت کو ٹیکس سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا اور ٹیکس ریٹرن فارم کو بہت آسان بنانا ہوگا تاکہ ہر کوئی اپنی آئی ڈی کے ذریعے اپنا اکاؤنٹ کھولے اور اُسے اپ ڈیٹ کرتا رہے۔ عام ٹیکس پیئر تو کسی انکم ٹیکس لائیر کمپنی کی مدد کے بغیر فارم ہی مکمل نہیں کرپاتا۔ اس سلسلے میں نادرہ جیسے اہم ادارے کی خدمات لی جاسکتی ہیں اور کوئی ایسا نظام متعارف کروایا جائے جو آرٹی ایس کی طرح انہیں موقع پر جواب نہ دے جائے۔ الیکشن کمیشن نے کئی سالوں بعد الیکشن کروانے ہوتے ہیں ان پر بھی انگلیاں اٹھتی رہیں تو وہ ریاست کے لئے اچھا نہیں۔
الغرض کسی بھی پارٹی کے لئے اقتدار میں آنا پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں اور مشکلات سے بھرپور ہوتا ہے۔ جس سے وہ اپنی نیک نیتی، شعور اور فراست کے ذریعے نمٹ سکتی ہے۔ دیکھیں اب تبدیلی کی دعویدار پارٹی کس حد تک بہتر گورنس کرسکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی زخموں سے چور ہے یہ مزید صدمے برداشت نہیں کرسکتا لہٰذا نئے لوگوں کو میرٹ ، شفافیت اور دیانتداری کے ذریعے عوام اور ملک کی خدمت کو یقینی بنانا ہوگا اور کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرکے عوام کو مطمئن کرنا ہوگا۔


ای پیپر