عمران خان کو درپیش حقیقی چیلنجز!!!
09 اگست 2018 2018-08-09

اگرچہ خان صاحب پرالزام ہے کہ وہ امپائرکی مدد سے میچ جیتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کھلاڑی نے "اسٹیٹس کو "کی قوتوں کیخلاف چومکھی لڑائی لڑی ہے۔ حالیہ انتخابات میں صرف ووٹرزکے ٹرن آؤٹ کو ہی دیکھا جائے تو یہ عمران خان کی کرشماتی شخصیت اور"اسٹیٹس کو " کو للکارکا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں پہلی بارنوجوان اورخواتین اتنی بڑی تعداد میں ووٹ کیلئے نکلے، یہ غیرمراعات یافتہ طبقے کا عمران خانن پریقین کامل تھاکہ وہ ملک کو درپیش چیلنجزاوربحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔ ہیوی پروٹوکولز ، طبقاتی نظام ، جاگیردارانہ مائنڈسیٹ ، سرمایہ دارانہ نظام اورہٹو بچوکلچرکی ماری قوم نے عمران خان پراعتمادکیا ہے کہ آکسفورڈ کا پڑھا لکھایہ شخص پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیرکرسکتا ہے۔اگرچہ بینظیربھٹو اور نواب اکبربگٹی جیسے آکسفورڈ کے فارغ التحصیل رہنماؤں کے سر سے جاگیرداری یا قبائلی سرداری کا نشہ کبھی نہ اترا تھا تاہم اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے عمران خان کی آزمائش کے دن شروع ہوا چاہتے ہیں۔ 

خان صاحب کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ خود کو لیڈرثابت کرتے ہیں یا حکمران!کہا جاتا ہے کہ سیاستدان کی نظر آئندہ انتخابات پرہوتی ہے اورلیڈرکی نظرقوم کے مستقبل پر۔سیاستدان اورحکمران طبقہ قوم کو انفرااسٹرکچراورترقیاتی منصوبوں کی گاجردکھاتا ہے جبکہ لیڈرزقوم کے ہارڈویئرسے کہیں زیادہ سوفٹ ویئرپرتوجہ دیا کرتے ہیں۔انڈونیشی رہنما سوئیکارنو نے ایک ملاقات میں نہروسے پوچھا کہ آپ نے بھارت کیلئے کیا کیا ہے، نہرونے کہا کہ میں نے سڑکیں اورپل بنوائے ہیں جو بھارت کی ترقی کا منہ بولتاثبوت ہیں۔ سوئیکارنو نے کہا کہ یہ تو انجینئرزکا کام ہے آپ نے کیا کیا ہے؟ نہرو نے لاجواب ہوکرپوچھا آپ نے انڈونیشیاء کیلئے کیا کیا ہے تو سوئیکارنو نے جواب دیا میں نے انڈونیشی عوام کو ایک قوم بنایا ہے۔ اگرچہ کمیونسٹ سوئیکارنوکیخلاف عالمی طاقتوں نے سوہارتوکے فوجی انقلاب کو ممکن بنایاتاہم سوئیکارنوکو تاریخ ایک قومی معمارکے طورپریادرکھے ہوئے ہے۔اگرچہ خان صاحب کی کامیابی پرقوم بقول فیض یہ کہنے پرمجبورہوئی ہے ’’گلشن میں چاک چند گریباں ہوئے تو ہیں،،، روشن ابھی بہارکے امکاں ہوئے تو ہیں‘‘ 

مگرابھی امکانات ہی ہیں حقیقی سوال ان امکانات کا حقیقت میں ڈھلنا ہے۔بہرحال خان صاحب نہ تو قائداعظم محمد علی جناح ہیں اور نہ ہی نیلسن منڈیلاکہ ان سے بڑے انقلاب کی توقع پالی جائے تاہم خواب دیکھنے اوراسے تعبیردینے کاعزم صمیم اورجہد مسلسل جیسے نادرونایاب موتی وہ اپنی زنبیل میں ضروررکھتے ہیں۔اس راہ میں درپیش خجالت اورقربانی کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ یہ خوبیاں ہماری قومی سیاست کے افق پرنایاب ہیں۔ ن لیگ قیادت ہو یا پیپلزپارٹی قیادت، جے یوآئی کے فضل الرحمان ہوں یا پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے اچکزئی، اے این پی کے اسفندیارولی وغیرہ سب اول وآخرحرص وہوس اورعہدوں کے غلام ہیں قوم دیکھ چکی ہے۔ ان کے نزدیک اقتدارباریوں کا کھیل ہے اور بس! سب آزمائے جا چکے اور اب خان صاحب کی باری ہے۔ بیوروکریسی ، تھانہ کلچر اور پٹواریوں کے ذریعے ن لیگ کی انتخابی عمل پرگرفت کا یہ عالم تھا کہ طاہرالقادری کو کہنا پڑا آج اگراقبال اور جناح بھی آجائیں تو وہ ن لیگ سے یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے مگرقوم نے ثابت کیا ’’اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تندجولاں بھی،،، نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ وبالا‘‘ مگر اب عمران خان کی باری ہے ، ایسا نہ ہو کہ وہ پاکستان کے اوباماثابت ہوں اوران کے بعد ’’اسٹیٹس کو ‘‘ لوٹ آئے یا کوئی مودی یا ٹرمپ جیسا اقتدار سنبھالے۔

ایک عظیم چیلنج حقیقی اقتدارکا ہوگاآیا کہ وہ آزادانہ حکومت چلاپاتے ہیں یاروایتی قوتوں کا Puppet show ثابت ہوتے ہیں یہ وزارت داخلہ اورخارجہ کے تعین سے واضح ہوجائے گا۔ سقراط نے کہا تھا کہ "کوئی بھی شخص اس تجارت میں ہاتھ نہیں ڈالتا جس کا اسے ادراک یا تجربہ نہ ہو چاہے وہ تجارت کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، مگرالمیہ یہ ہے کہ مشکل ترین تجارت حکمرانی ہے جس کیلئے ہرشخص خود کو اہل سمجھتا ہے"۔بھارت اورامریکا سے معاملات کادیرپا حل اورداخلہ امور پرگرفت چٹان سے پانی نکالنے کے مترادف بات ہوگی۔لگتا ہے سکیورٹی اورخارجہ امورپرخان صاحب ’’محافظ بریگیڈ‘‘ کا قبضہ تسلیم کریں گے کیونکہ احسان کا بدلہ چکانا بھی ایک اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے۔تاہم خان صاحب اگر پروٹوکولز کا خاتمہ کردیتے ہیں، سادگی اختیارکرتے ہیں وزیراعظم ہاؤس کے بجائے کہیں اورسادہ سا دفتربنالیتے ہیں ، گورنر ہاؤسز کو اور دیگر لگژری عمارات کو جامعات بنادیتے ہیں سر دست انہیں اجازت ہوگی تاکہ اچھا امیج بنے مگربہت جلد اسٹیٹس کو کی قوتیں دھاوابول کرخان صاحب کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں گی جس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں ۔ 

خان صاحب کا فین کلب نوجوان اورخواتین ہیں ان کی توقعات پرپورا اترنابڑا چیلنج ہوگا۔ خوشحالی کیلئے خان صاحب کے پاس چائنا ماڈل ہے مگرکوئی انہیں سمجھائے کہ موجودہ چینی قیادت کی راہ کے کانٹے ماؤزے تنگ ہٹاگئے تھے انہوں نے لینڈریفارمز سے روایتی جاگیرداراورمراعات یافتہ طبقے کو ٹھکانے لگانے کا سامان کردیا تھا مگرخان صاحب آپ کو صفرسے آغازکرنا ہے ۔ ملک کوروایتی جاگیرداراورسرمایہ دارطبقے سے نجات دلانا "دست تہہ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے" آپ نے انصاف اورقانون کی حکمرانی کا وعدہ اس ملک کے عوام سے کیا ہے جہاں " سنگ وخشت مقید ہیں اورسگ آزاد "آپ نے ایسی سول اورملٹری بیوروکریسی کا قبلہ درست کرنا ہے جس کی تربیت اس طرز پرہے کہ کیسے مقامی عوام کو جبری پالیسیوں کے زیرسایہ رکھ کرغیرملکی آقا کے اقتدارکو دوام دینا ہے۔آپ نے ایسے جاگیردارطبقے کیساتھ مل کرتبدیلی لانی ہے جس نے شہیدوں کا خون ،قومی حریت اورعزت وآبروبیچ کرجائیدادیں بنائیں۔آپ نے ایسے سرمایہ داروں کے ساتھ مل کرتبدیلی لانی ہے جو یتیموں اوربے نواؤں کے منہ سے لقمہ چھین لیتے ہیں۔ آپ نے ایسے گدی نشینوں کیساتھ مل کر انقلاب برپا کرنا ہے جو غریب کی بیٹی کے سرسے ردا چھین کرنثارمزارکردیتے ہیں ، خان صاحب آپ نے ان کیساتھ ملکر تبدیلی لانی ہے جن کے پڑوس میں غریب وبے آسرا سسک سسک کرمرجاتے ہیں اوروہ انہیں زکوٰۃ تک نہ دیں کجا کہ جہانگیر ترین انہیں کروڑوں میں خرید کرآپ کی آغوش میں ڈالیں اورجہانگیراس رقم کو صدقہ جاریہ سمجھ کربیٹھ جائیں اورملکی وسائل اورخزانوں پرہاتھ صاف نہ کریں ۔

میرکیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطارکے لونڈے سے دوا مانگتے ہیں 


ای پیپر