مکس پلیٹ....
09 اگست 2018 2018-08-09

دوستو، نپولین کا نام تو آپ لوگوں نے سنا ہی ہوگا، جب وہ زندگی کے آخری ایام جیل میں گزاررہا تھا تو، اعلیٰ پائے کے کچھ صحافیوں کو اس سے ملاقات کی اجازت مل گئی۔۔ جیل پہنچے تو دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ نپولین جیسی شاندار اور مشہور شخصیت کو ایک بہت ہی چھوٹا سا کمرہ کہ جس میں ایک چھوٹی سی میز ، ایک لکڑی کی ٹوٹی ہوئی کرسی اور زمین پر پڑا ایک گدا بطور بستر دیا گیا تھا۔۔۔ کرسی پر بیٹھا نپولین سامنے میز پر پڑے کاغذ کے ٹکرے پر کچھ لکھ رہا تھا۔۔ صحافیوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور ایک صحافی جذباتی انداز میں بولا۔۔ آپ جیسے عالمی معیار کی شخصیت کیساتھ یہ سلوک عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، آپ اپنا احتجاج قلمبند کرائیں ، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اِس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے ۔۔۔ نپولین مسکرایا اور وہ الفاظ کہے جو آج تک ا±س کی شان کی گواہی دیتے ہیں، اس نے کہا۔۔ بادشاہ احتجاج نہیں کرتے ، یا حکم دیتے ہیں یا پھر خاموش رہتے ہیں۔۔ اور میں اِس معاملے میں خاموش رہنا پسند کرونگا ۔۔ صحافی لکھتا ہے کہ میں واپسی پر یہ سوچتا رہا کہ بڑے لوگ بلاوجہ بڑے نہیں بن جاتے ، ا±ن کی شخصیت اور خمیر میں ضرور کوئی ایسی بات ہوتی جو ا±نہیں عام لوگوں سے منفرد بناتی ہیں۔
ایس ایچ او اپنے علاقے کے تھانے میں بیٹھا اپنے بال نوچ رہا تھا،اس کے ”سسرالیوں“ کے باغ سے ہرہفتے آم چوری ہورہے تھے لیکن چورہاتھ نہیں لگ رہا تھا، اس نے ایک سپاہی کو بلایا اور کہنے لگا۔۔تم دوسال سے اس تھانے میں ہو، لیکن آج تک تم نے ایک بھی مجرم پکڑ کر نہیں دکھایا، تمھاری اس کارکردگی پر ہی تبادلہ کر سکتا ہوں، لیکن ایسا کرنے سے پہلے میں تمھیں یہ آخری موقع دے رہا ہوں۔ باغ سے روزانہ آم چوری ہو رہے ہیں ،اگر تم نے تین دن کے اندر آم چوری کرنے والے کو نہ پکڑا تو میں سچ مچ تمھارا تبادلہ کردوں گا۔۔تبادلے کے خوف سے سپاہی نے رات کو پہرا دینا شروع کیا ۔۔آخر کار دوسری رات کو اس نے ایک شخص کو باغ کے کونے میں دھر لیا، جس کے پاس ایک بھرا اہوا تھیلا تھا ،سپاہی کے حکم پر اس آدمی نے تھیلا ا±لٹ کر دکھا دیا تو اس میں کچھ زیورات اور روپے پیسے تھے ،یہ دیکھ کر سپاہی نے ہنس کر کہا۔۔
معاف کرنا بھائی مجھ سے غلطی ہو گئی ،اب تم اپنا یہ سامان ا±ٹھا کر جاو¿ اور خدا کا شکر ادا کرو کہ تمھارے تھیلے سے آم برآمد نہیں ہوئے۔۔برائے کرم اس واقعہ کو حال ہی میں ہونے والے الیکشن سے نہ جوڑا جائے،جہاں تھیلے میں سے آم کی جگہ کچھ اور ہی نکلے۔۔
ایک شادی شدہ جوڑا باغ میں ٹہل رہا تھا،اچانک ایک بڑا سا کتا بھونکتا اور غ±راتا ہوا ان کی طرف لپکا ،دونوں کو ہی لگا کہ یہ انہیں کاٹ لے گا ، بچنے کا کوئی راستہ نہ دیکھ کر شوہر نے فوری طور پر اپنی بیوی کو اوپر اٹھا لیا تاکہ کتا بیوی کو نہ کاٹ سکے اور کم از کم بیوی تو کتے کے حملے سے بچ جائے۔ کتا بالکل نزدیک آکر رکا، کچھ دیر تو بھونکا اور پھر پیچھے کی طرف بھاگ گیا۔۔ شوہر نے چین کی سانس لی اور اس امید میں بیوی کو نیچے اتارا کہ بیوی کو آج میری محبت کا یقین ہو گیا ہو گا ،خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے،لیکن اس کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے اس کی بیوی چلائی ۔۔میں نے آج تک لوگوں کو کتے کو بھگانے کے لئے ڈنڈا مارتے یا پتھر پھینکتے تو دیکھا تھا ،پر ایسا آدمی پہلی بار دیکھ رہی ہوں جو کتے کو بھگانے کے لئے اپنی بیوی کو بھی پھینکنے کے لیے تیار تھا۔۔اس واقعہ کا بھی ہم خیال جماعتوں کے اپوزیشن الائنس سے کوئی تعلق نہیں ، جو کئی نشستوں پر ایک دوسرے سے ہی ہارے اور الیکشن میں دھاندلی کا شور مچانے میں لگے ہوئے ہیں۔۔یعنی کتے کو مارنے کے لئے ”اپنے“ کو پھینکنے کو تیاربیٹھے ہیں۔۔
ہمارے تھانے رشوت کا گڑھ ہیں۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ،' رشوت لینے والااور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔۔ہماری کچہری میں 200 روپے میں گواہ مل جاتا ہے۔۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے، جھوٹی گواہی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے ۔۔ہماری عدالتوں میں انصاف نیلام ہوتا ہے۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے، لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کرو ۔۔ہماری درسگاہیں جہالت بیچتی ہیں۔۔مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ، علم حاصل کرو، ماں کی گود سے لیکر قبر کی گود تک ۔۔ہمارے اسپتال موت بانٹتے ہیں۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے، اور جس نے ایک زندگی بچائی اس نے گویا سارے انسانوں کو بچایا۔۔ہمارے بازار جھوٹ ، خیانت ، ملاوٹ کے اڈے ہیں۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے ، جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔۔ہماری مسجدیں ذاتی پراپرٹی ہیں۔۔ مگر وہاں لکھا ہوتا ہے، وان المساجد للہ۔۔۔ اور مسجدیں اللہ کی ہیں۔۔ہم جو لکھتے ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اور جو کرتے ہیں یہ ہمارا عمل ہے۔ جب عمل عقیدے کے خلاف ہو تو اس کا نام منافقت ہے۔۔ اور فی زمانہ ہمارے معاشرے میں منافقت کثرت سے پائی جاتی ہے۔ جو لوگ پوچھ رہے ہیں کہ چودہ اگست کو جھنڈا نیا ہوگا یا پرانا؟؟ ان کے لئے عرض ہے کہ جھنڈا پرانا ہی ہوگا البتہ ڈنڈا نیا ہوگا۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے۔۔14اگست کو یہ مت کہنا کہ ،ہم ”آزاد“ ہیں ورنہ جہانگیرترین اٹھا کر بنی گالہ پہنچادے گا۔۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کھانے میں بے احتیاطی کی وجہ سے ”پمز“ پہنچے۔۔دوسری جانب حیرت انگیز طور پر ”نیب والے“ بھی اڈیالہ جیل پہنچنے کی یہی وجہ بتاتے ہیں۔۔حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، کل تک جو سیاسی ورکر ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگاتے تھے، اب گائے، لیلے،بکرے کو عزت دو کو اپنارہے ہیں۔۔بقرعید کی آمد آمد ہے، شہرشہر منڈیاں لگ گئی ہیں، جہاں قربانی کے لئے مویشیوں کی بڑی تعداد کے سودے ہورہے ہیں، وہیں ایوانوں میں پہنچنے کے لئے بھی سودے بازیاں عروج پر ہیں۔۔اراکین کی خریدوفروخت دھڑلے سے جاری ہے۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر لوگ ہر بات میں، ہر چیز میں، ہر وقت، ہر جگہ بس مَیں مَیں ، میرا میرا ، میری میری، طوطے کی رٹ لگائے رہتے ہیں۔ بکری کی طرح ممیاتے رہتے ہیں، مگر یاد رہے کہ یہ اندازِ گفتگو فخر و غرور پر دلالت کرتا ہے، مَیں مَیں کی رٹ لگانا تواضع و خاکساری، سنجیدگی و متانت اور حلم و بردباری کے منافی ہے، کیونکہ مومن بڑا متواضع، ملنسار، خوش اخلاق اور خوش طبع ہوتا ہے، اپنے آپ کو لوگوں سے کمتر و کہتر سمجھتا ہے، اپنی خامیوں، کوتاہیوں، لغزشوں، خطاو¿ں اور گناہوں کو تسلیم کرتا ہے، عجب پسندی کا شکار نہیں ہوتا ، مگر ہم اپنی اصلاح اور درستگی کی بجائے دوسروں کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں، دوسروں پرکیچڑ اچھالتے ہیں، دوسروں کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں، دوسروں کی خدمات و حسنات اور محاسن و مناقب کو کچل کر بدنام اور ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لوگوں کی عزت و ناموس کو خاک میں ملاتے ہیں، لوگوں کے عزت و وقار اور ادب و احترام کا خون کرتے ہیں، مگر اس کے مقابلے میں مومن صرف اپنی اصلاح کرتا ہے، اسے فرصت کہاں ملتی ہے کہ دوسروں پر انگلی اٹھائے، کیوں کہ یہی تو عقلمندی دانشمندی ہوشیاری ہوش مندی اور دانائی کی بات ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر