قیام پاکستان کا اعلان: حوصلوں اور امنگوں کی داستان
09 اگست 2018 2018-08-09

یوں توجنگ آزادی 1857ء سے 14اگست 1947ء تک ‘ہر دن اور ہر لحظہ ہی ہماری تاریخ جدو جہد آزادی کا زرتاب با ب ہے تا ہم 23مارچ 1940، 3جون1947اور14اگست 1947ء ‘ یہ ایسے ایام ہیں جو ہماری قومی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ان کا پس منظر قوم کے بچے بچے کے ذہن میں ہونا چاہیے،کیونکہ یہی وہ لمحات تھے جب خطہ برصغیر کی تاریخ ایک اہم ترین موڑ پر پہنچی ،تحریک پاکستان کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو ئی اور فضا میں سبز ہلالی پرچم لہرایا۔قرار داد پاکستان 23مارچ1940ء کو منظور ہوئی تھی۔ اس دن سے 3جون1947ء اور14اگست1947ء تک کا عرصہ قیام پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ ایک ایسا ہنگامہ خیز دور ہے جس کے متعلق نسل نو اور ہر محب وطن شہری کو علم ہونا ضرور ی ہے ۔
تین جون 1947ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب مسلمانان برصغیر کی جدو جہد رنگ لائی اور برطانیہ کے تعینات کردہ آخری وائسرائے ہند(نائب السلطنت) ایڈمرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہندکی تاریخ(یعنی 14اگست 1947ء ) کا باقاعدہ اعلان کیا۔ جس وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے آل انڈیا ریڈیو پر باقاعدہ تقسیم ہند کا اعلان کیا گیاتو اس کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے ریڈیو پر تقریر کی اور آخر میں بے پناہ جذبے اور ولولے سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا یا جو مسلمانان برصغیر کے دل کی آواز بن گیا اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی چلی گئی۔
برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد لارڈ ماؤنٹ بیٹن جنگ عظیم دو م میں جنوب مشرقی ایشیا میں برطانوی افواج کا سپریم کمانڈر رہ چکاتھا ۔ اس کا شمار دنیا کے بہترین جرنیلوں میں ہوتا تھا ۔ اسے برطانیہ کی طرف سے آخری وائسرائے ہند کی حیثیت سے مورخہ22مارچ 1947ء کو ہندوستان میں تعینات کیا گیا۔اس نے آتے ہی ہندوستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ،وہ کانگریس کو بہت اہمیت دیتاتھا ۔ اس نے پہلے پہل صرف کانگریسی قیادت سے ملاقاتیں کیں اورقائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ اس نے تقریباً دو ہفتے بعد ملاقات کی ۔در اصل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا منصوبہ تحریک پاکستان کوسبوتاژ کرنا تھا ۔اسے اپنی کامیابی کا مکمل یقین تھا لیکن محمد علی جناح کے ساتھ ملاقات کے بعد اس کی یہ غلط فہمی جلد ہی دور ہو گئی اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ محمد علی جناح جیسے قائد کے ہوتے ہوئے کوئی بھی قیام پاکستان کو نہیں روک سکتا۔کئی برس بعد اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا تھا کہ میں متحدہ ہندوستان کے مستقبل کے متعلق پر امید تھا لیکن اس ملاقات کے بعد میرا یقین متزلز ل ہوگیا تھا۔
معروف محقق ڈاکٹر محمد سلیم نے اپنی شہرہ آفاق تحقیق ’’قائد اعظم محمد علی جناح،سیاسی و تجزیاتی مطالعہ‘‘میں لکھا ہے : ’’ماؤنٹ بیٹن کے تاثرات کبھی بھی قائداعظم کے متعلق خوشگوار نہیں رہے لیکن اپنی موت سے چند برس پیشتر اکتوبر1975ء میں اس نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اب عمر کے اس حصے میں ہوں کچھ پتہ نہیں کب موت آجائے۔ میری اہلیہ اور تمام ساتھی بھی فوت ہو چکے ہیں۔اس لئے میں زندگی کے اس موڑ پر سچ کہوں گا کہ میں پوری سیاسی زندگی میں جس شخص سے بہت متاثر ہوا وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔میں نے ان میں منافقت کا شائبہ تک نہیں دیکھا تھا۔ اتنا بڑا ،کھرا اورسچا لیڈر شاید ہی کبھی مسلمانوں کو دوبارہ مل سکے گا۔وہ اپنے موقف پر پہاڑ کی طرح مستحکم اور سخت تھے۔وہ علم نفسیات کے ماہر،نہایت نفیس و فطین انسان تھے ۔میرے لئے کبھی ممکن نہیں رہا کہ میں ان کے خیالات کو بھانپ سکتا۔مجھے برطانیہ کی جانب سے صرف اس مقصد کے لیے بھیجا گیاتھا کہ میں متحدہ ہندوستان کو ہی اقتدار منتقل کر وں اور اسے تقسیم نہ ہونے دوں لیکن میری راہ میں جو شخص چٹان کی طرح حائل ہو گیا وہ محمد علی جناح تھا۔ان کو قائل کرنے کی میری ہر کوشش ناکام رہی اور بالآخر اس کے آگے مجھے ہتھیار ڈالنا پڑے‘‘۔
لارڈماؤنٹ بیٹن کانگریس کا حامی تھا اور محمد علی جناح کے ساتھ اسے بیر تھالیکن برصغیر کے زمینی حقائق اور روز بہ روز پھیلتی پاکستان موومنٹ کو دیکھتے ہوئے وہ جلد اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ اب خطے کی تقسیم ناگزیر ہے ۔ ماؤنٹ بیٹن کی آمد سے پیشتر کانگریس نے بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے حق میں قرار پاس کر لی تھی ۔یہ وہ موقع تھا جب کانگریس کے لیڈر پاکستان کے خلاف بڑھ چڑھ کر بیانات دے رہے تھے۔ برصغیر کے ہندوؤں میں ایک شور وغوغا مچا ہوا تھا اور ہر ہندو پاکستان کے خلاف بول رہا تھااوریہ نعرے لگ رہے تھے :’’جو مانگے گا پاکستان ۔ا س کو د یں گے قبرستان‘‘۔ جواہر لال نہر اوردوسرے کانگریسی لیڈر تواتر کے ساتھ ’’ اکھنڈ بھارت‘‘ کا راگ الاپ رہے تھے اور کہتے تھے کہ کانگریس کی پنجاب اور بنگال کی تقسیم والی قرار داد سے ملک کی تقسیم کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔دوسرے اہم ترین کانگریسی لیڈر پٹیل زمینی حقائق یعنی مسلمانوں کا جذبہ آزادی دیکھ کر تقسیم ہند کے قائل ہو چکے تھے لیکن وہ کبھی کبھار اپنی جماعت کو خوش کرنے کے لیے تقسیم کے خلاف بھی بیان دے دیتے ۔ جواہر لال نہرو نے کہا تھاکہ تقسیم ہند کی تجویز برطانوی حکومت خود پیش کرے تو ہم اس کی حمایت کر سکتے ہیں لیکن اپنی زبان سے ہم کبھی بھی تقسیم ملک کا مطالبہ نہیں کریں گے ۔ 
نہرو اورلارڈ ماؤنٹ بیٹن میں شملہ کے مقام پر طویل ملاقاتیں ہوئیں جن سے قائد اعظم محمد علی جناح کو بے خبر رکھا گیا ۔شملہ میں نہرو خاندان کی موجودگی سے محمد علی جناح کو یقین ہو گیا تھا کہ ماؤنٹ بیٹن مکمل طورپر کانگریس کے ہم نوا ہو کر مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے لیکن محمد علی جناح ان تمام سازشوں کے باوجود پرعزم انداز میں اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ کانگریسی لیڈر تقسیم کے مخالف تھے اورلارڈ ماؤنٹ بیٹن ان کی بھرپور حمایت کر رہا تھا لیکن آخر کار مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے آگے یہ لو گ بے بس اور لاچار ہو گئے ۔ 
ان حالات میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کی ایک سکیم مرتب کی جسے ’’تین جون کامنصوبہ‘‘کے نام سے یاد کیاجاتا ہے ۔ اس سکیم کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ انگریز کے جانے کے بعد تمام صوبے خو د مختار ہو جائیں گے اور اس سے پیدا شدہ صورتحال کو وفاق میں تبدیل کرنے کاحق بھی صوبوں کو حاصل ہو گا ۔ تقسیم ہند کا یہ پلان لندن بھیج کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن شملہ جیسے صحت افزا مقام پر چلا گیا .......(جاری ہے)


ای پیپر