عوام کا خلافِ توقع سیاسی شعور : سیاسی جماعتوں کیلئے غیر متوقع 
09 اگست 2018 2018-08-09

آزادی کے حصول کے لئے لاکھوں کروڑوں جان و مال کی قربانیاں دیں تب جا کر ملک آزاد ہوا ۔ لیکن آزادی حاصل کرتے ہی ہم نے کیا کیا گل کھلائے ساری دنیا محوِ حیرت ہے۔ آزادی کے 70سالوں کے دوران بہت سے واقعات رونما ہوئے مفادات و اقتدار کی رسی کشی کی ایسی ایسی مثالیں ہیں جن کا تذکرہ بہت طویل ہے۔ سیاست دانوں کی اپنی غلطیوں سے اکثر و بیشتر جمہوریت زوال پزیر رہی اور انتخابات کے بعد مدت پوری کرنا ہی مئلہ بنا رہا۔ دنیا کہ دیگر ممالک میں بھی انتخابات ہوتے ہیں وہاں بھی لوگ اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور انتخابی عمل کا حصہ بن کر سرخرو ہو جاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں انتخابات ہوتے ہی کوئی ایسا ایشو گھڑ لیا جاتا ہے جو سارے انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ حقیقت نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکے گی کہ پوری قوم کو اس حال میں پہنچانے اور اس کے اندر بے حسی اور شکست خوردگی کا بد ترین احساس پیدا کرنے کی تمام تر ذمہ داری ہمارے ان نام نہاد سیاسی قائدین پر ہی عائد ہوتی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کی آبیاری کے لئے قومی مفادات کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ان سیاستدانوں نے اپنی اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے پوری قوم کو یرغمال بنا لیا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی نظریں ہمیشہ ہی اپنے گروہی، ذاتی مفادات پر ٹکی رہتی ہیں اور جو قوم و ملک کو بتدریج تباہی کی جانب دھکیل رہے ہیں جس کے نتیجے میں آج پورے ملک کا سیاسی منظر کشیدہ ہے اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا ہے۔ یہ کوئی بات اب پوشیدہ نہیں ہے کہ ملک اس وقت سنگین حالات کا شکار ہے، خواہ امن اور استحکام کی بات ہو یا بیرونی دباؤ کی یا اقتصادیات کی تمام محاذوں پر اس وقت بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ جب کہ اندرونی صورتحال کی بات کریں تو وطنِ عزیز میں کئی ایسے علاقے جہاں آج بھی لوگ غربت، احتیاج اور مفلوک الحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں دو ٹائم پیٹ بھر کے کھانا نصیب نہیں، پہننے کے لئے مناسب کپڑے نہیں اور رہنے کے لئے چھت میسر نہیں جب کہ ہمارے قائدین اربوں کھربوں میں کھیل رہے ہیں۔ جب ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے بجائے خود غرضی، اقرباء پروری ، رشوت ستانی، فرقہ پرستی جیسی بھیانک خرابیاں اس میں در آئیں تو اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب سیاسی رہنماؤں اور پارٹیوں کا نظریہ محض اقتدار ہی رہ جائے اور وہ جو بھی قدم اٹھائیں ان کا مقصد صرف ذاتی اقتدار مضبوط تر ہو اور جیتے جاگتے انسانوں کی بجائے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے صرف ووٹ کو عزت دینے کی بات کریں تو نتیجتاً ایسا ہی بھیانک انجام ہو گا۔
حالیہ انتخابات میں لوگوں نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا اور اسے حکومت بنانے کے لئے ووٹ دئیے تو شکست خوردہ قوتیں دھاندلی کا شور مچانے لگ گئیں۔ انتخابات میں تحریکِ انصاف کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی ہے فیصلہ کن اکثریت نہیں مل سکی، شائد اسی لئے مخلوط حکومت بنانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ ان حالات میں ملک کا اقتدار کس جماعت کو حاصل ہوتا ہے اس سے قطع نظر اس وقت ملک میں اقتدار ایک امتحان گاہ ہے ۔ملکی سطح پر حالات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں اور وطنِ عزیز کو بہت سے مسائل سے نکالنے کی سہی کرنا ہو گی۔ اپوزیشن جماعتوں کو دھاندلی کی رٹ سے نکلنا ہو گا، احتجاج کو خیر آباد کہنا ہو گا اور مل جل کر ملک کو آگے لے جانے کی کوششیں کرنی ہو گی، ایسے اقدامات سے بچنا ہو گا جس سے جمہوریت کی جڑیں کمزور ہوں ۔ ہم ماضی میں جھانکیں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے جمہوریت کو کمزور کرنے میں سیاسی جماعتیں ہی پیش پیش رہیں۔ مسلم لیگ سے لے کر پیپلز پارٹی تک کوئی بھی جماعت پاکستانی عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ثابت نہ ہو سکی بلکہ ہوس و اقتدار کے ہاتھوں مغلوب حکمرانوں نے اپنے ہی عوام کی دولت کو لوٹا اور ان کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا۔ دھاندلی کے شور و غوغا کو نظر انداز کر کے مشاہدہ کریں تو عوام کو 2018ء میں ایک بار پھر اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے اپنی ترقی اور فلاح و بہبود کی خاطر عمران خان پر اعتماد کیا جس کی ایمانداری، مستقل مزاجی، فلاحی منصوبے اور 22سالہ جد و جہد ان کے سامنے تھی۔ یعنی عوام نے اپنی مشکلات سے نجات کے لئے عمران خان کو امیدوں کا مرکز بنا لیا۔ نتائج نے واضح کر دیا عوام کے عمران خان پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی جماعت کو 47 فیصد ووٹ دئیے جو پاکستان میں اب تک کسی بھی پارٹی کو ملنے والے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔ اس لہر نے بڑے بڑے قد آور لیڈروں کو پارلیمنٹ سے باہر کر دیا ۔ جماعتِ اسلامی، اے این پی، متحدہ مجلسِ عمل، ایم کیو ایم جیسی فلک بوس قیادتیں زمین بوس ہو گئیں تو انہوں نے میں نہ مانوں کی پالیسی اختیار کر لی۔ 25مئی کے پورے دن میں صرف پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد آر ٹی ایس کے ناکام ہونے پر عوام کے ووٹ کے ذریعے انتقالِ اقتدار کی جمہوری کوشش کو سبو تاژ کر دیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جمہوریت کی کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ عوام اپنی مرضی سے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کریں ۔ اس دفعہ 1970ء کے انتخابات کے بعد ایسا ہی ہوا اور اس بات کو وہ سیاستدان بھی جانتے ہیں جو دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں۔ عوام کا خلافِ توقع یہ سیاسی شعور سیاسی جماعتوں کے لئے غیر متوقع جیسا ہے اور اس صدمے سے یہ پارٹیاں نکل نہیں پا رہی ہیں۔ صرف یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائد کر دئیے۔ حتیٰ کہ بین الاقوامی مبصرین اور دوسرے بہت سے مشاہدین نے بھی انتخابات کو فےئر اینڈ فری قرار دیا ہے اسی لئے اندھا دھند دھاندلی کا شور کرنے والے سیاسی قائدین کو عوام میں پزیرائی حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ سڑکوں پر نکلے۔ یہ اس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ عوام نے جس کو ووٹ دئیے اسی کو ملے چوری نہیں ہوئے۔ ورنہ انتخابات سے قبل تو ہر ایک کی زبان پر یہی بات تھی کہ تحریکِ انصاف ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول نہیں ہے۔ پاکستانی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جمہوری اقدار اس قدر آسانی سے ایک جماعت سے دوسری جماعت کو منتقل ہو رہی ہیں۔ عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ ان موروثی سیاستدانوں سے تنگ آ چکے ہیں اور انہوں نے عمران خان کی شکل میں مسیحا ڈھوندا ہے۔ عمران خان نے بھی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر منتخب ہونے کے بعد ماضی کی روایات سے ہٹ کرملک کے تابناک مستقبل کے لئے ایسا لائحہ عمل پیش کیا ہے جو عوام کی امنگوں اور توقعات کا آئینہ دار ہے۔ اس پر حقیقی معنوں میں عمل ہو جائے تو عوام کی ان سے وابستہ توقعات ضرور پوری ہوں گی۔


ای پیپر