انتخابی عمل پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات 
09 اگست 2018 2018-08-09

جذبات کی رو میں بہہ کر کچھ تحریر کرنا کوئی اچھا عمل نہیں ۔ایک تجزیہ نگا ر کا کام حالات کا غیر جانبداری سے جائزہ لینا اور قوم کو حقائق سے آ گاہ کرنا ہو تا ہے ۔اس عمل میں اس کی پسند نا پسند شامل نہیں ہونی چاہے ۔ میں نے بہت سارے انتخابا ت دیکھے ہیں ۔مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ق اور ایم ایم اے کا عروج بھی اور زوال بھی دیکھا ہے ۔ مگر کبھی جذباتی ہو کر کالم نہیں تحریر کیا ۔کیونکہ میرا کام حالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق صورتحال کو بیان کر دینا ہے ۔صحیح غلط کا فیصلہ کا قارئین پر چھوڑ دینا چاہے ۔
بد قسمتی ہے کہ ہمارے بہت سارے تجزیہ نگار ،صحافی اور دانشور وں کے کر دارکسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔25جولائی کا دن بھی ایسا دن تھا جب بہت سارے لوگوں کے دلوں کا غبار نکل کر باہر آگیا ۔اب جبکہ ملک میں انتخابات کا عمل جیسے تیسے اختتام پذیر ہو گیا مگربہت سارے سوالات کو جنم دے گیا ہے۔اندازہ درست ثابت ہو ا کہ اس بار ۔۔پی ٹی آئی سوا سو کے قریب قومی اسمبلی میں سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔اب چونکہ پی ٹی آئی114نشستوں سے وفاق اور 60صوبائی نشستوں سے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حکومت سازی کے حوالے سے جوڑ توڑ شروع کر چکی ہے تو یہ کہنا در ست ہو گا کہ آئندہ پنجاب ،خیبر پختو نخوا اور وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو گئی ۔پنجاب میں مسلم لیگ ن نے 127جبکہ پی ٹی آئی نے 123 نشستیں حاصل کی ہیں۔ق لیگ نے 7اور آزاد 28کے قریب ارکان ہے ۔چنانچہ ق لیگ اور آزاد ارکان کی اہمیت دونوں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے لئے بہت بڑھ چکی ہے ۔دونوں جماعتیں اپنی پوری کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح آزاد افراد کو ساتھ ملا کر پنجاب میں حکومت سازی کی جائے ۔پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری دکھا ئی دیتا ہے ۔کیونکہ آزاد افراد کیAttraction جیتی ہوئی پارٹی ہی ہوتی ہے اور خاص کر جب پارٹی وفاق میں بھی حکومت میں ہو تو اسکی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے ۔ا س حساب سے پی ٹی آئی ،مسلم لیگ ق اور آزاد مل کر پنجاب میں اپنی حکومت قائم کریں گے اور ان کی عددی پوزیشن 149ہو جائے گی ۔آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن او ر پی ٹی آئی کی سیٹیوں کی تعداد میں کچھ کمی بیشی ہو سکتی ہے ۔کیونکہ 
30حلقے ایسے ہیں جو خالی ہونگے اور جہاں پر ضمنی الیکشن ہونا ہے۔اس طرح 17حلقے ایسے ہیں جہاں ہار جیت کا مارجن 1500ووٹوں سے بھی کم ہے اور ان حلقوں میں دوبارہ گنتی کا عمل جا رہی ہے ۔ انتخابی عمل میں 9619 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو ئیں۔ 
الیکشن کے نتائج،بے ضابطگیوں اور دھاندلی پر مسلم لیگ ن ،پیپلز پارٹی ،ایم ایم اے ،ایم کیوایم پاکستان ،عوامی نیشنل پارٹی ،پی ایس پی سمیت آٹھ جماعتوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ایم ایم اے کے مرکزی صدر مولانا فصل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر حلف نہ اٹھانے کا اعلان تک میڈیا کے سامنے کر دیا ہے ۔اس کے اثرات اور اس حکمت عملی کے موثر ہونے پر گفتگو آئندہ کسی اپنے کالم میں کروں گا ۔فارم 45کا نہ ملنے کی شکایات سب سے زیادہ موصول ہوئی ہیں۔اسی طرح نتائج کا اعلان دو گھنٹوں کی تاخیر سے کرنے پر بھی مختلف حلقوں کی طر ف سے شکوک و شہبات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔خیر یت انگیز بات تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما ابرار الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر دھاندلی ہو ئی ہے ۔پی ٹی آئی کے ہی ایک اور رہنما عبد العلیم خان نے بھی ایسے ہی کچھ الفاظ کو کچھ یوں دوہرایا ہے کہ ’’واقعتا پولنگ ایجنٹوں کے ساتھ ووٹوں کی کاونٹنگ نہیں کی گئی ‘‘یہ کیا ماجرا ہے ؟۔۔۔ری کاونٹنگ کی بہت ساری اپیلیں دائر کی گئی ہیں جن کے بعد بہت سارے حلقوں میں واضح تبدیلی ہو گئی ہے ۔دکھ کا مقام تو یہ ہے کہ اب ایسی اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ الیکشن کمیشن دوبارہ گنتی کے درخواستوں کو بھی مستر د کرتا جا رہا ہے ۔ 
آخر میں میں یہ بات اپنے تحریک انصاف کے دوستوں کو باور کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اقتدار کانٹوں کی سیج ہوا کرتی ہے جبکہ اس کے مقابل اپوزیشن کرنا بے حد آسان ہوتا ہے ۔لوگوں کی بہت ساری امیدیں آپ سے وابسطہ ہیں۔ انتخابی منشور میں کچھ ایسے وعدے بھی چیئرمین صاحب نے کئے ہیں جن پر عمل درآمد کرنا اگرچہ نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔مثال کے طور پر بر سر اقتدار آکر 90روز میں بلدیاتی الیکشن کروائیں گے۔100دنوں میں جنوبی پنجاب صوبے بنا یا جائے گا،50لاکھ گھر تعمیر اور ایک کروڑ نوکریاں عوام کو دیں گے ۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت تما م اہم سرکاری اداروں کو سیاسی اثرو رسوح سے پاک کریں گے ۔ماحولیات کے تغیر کو مٹانے کے لئے 10ارب نئے درخت لگائے جائیں گے ۔میں سمجھتا ہوں کہ۔۔۔ خان صاحب اور انکی ٹیم کا اصل امتحان تو اب شروع ہو ا ہے ۔اسدعمر نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ انتخابی منشور بناتے وقت عمران خان صاحب کو ادراک رکھنا چاہئے تھا کہ یہ ایک مشکل راستہ ہے انتے ہی عوام کے ساتھ وعدے کئے جائیں جتنے نبھائے جا سکیں۔بہر کیفاگلے چند دنوں میں ملک مین پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہو نے جارہی ہے تو ان کو اپنے منشور کے مطابق حکومت کرنے کا پورا موقع ملنا چاہے ۔تاکہ لو گ پی ٹی آئی کی کارکردگی کو جانچ سکیں۔ 


ای پیپر