عمران خان اور ہمارے بچوں کے خواب 
09 اگست 2018 2018-08-09

1988ء کے عام ا نتخابات کے بعد اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی تھی جو اس زمانے میں بہت سے کالموں کاموضوع بھی بنی۔ یہ وہ دور تھا جب جنرل ضیاء کی موت کے بعد ایک طویل جدوجہد ثمر آور ہوتی دکھائی دے رہی تھی اور ہم سب نہ صرف یہ کہ پرامید تھے بلکہ ہمیں یقین بھی ہوگیاتھا کہ ہمارے خوابوں کو تعبیر اب ملنے ہی والی ہے۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ پیپلزپارٹی ہمیں وہ سب حقوق دلوادے گی جن سے ہمیں آج تک محر وم رکھاگیا۔آیئے پہلے اس خبر کی جانب ہی چلتے ہیں جو الیکشن کے بعد شائع ہوئی۔خبر یہ تھی کہ ملتان کے نواح میں ایک پولنگ اسٹیشن میں ووٹوں کی گنتی کے موقع پر پریذائیڈنگ آفیسر اور دوسراعملہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بیشتر بیلٹ پیپروں پر کوئی مہرہی نہیں لگی اور جس جگہ ووٹر وں کو بیلٹ پیپر دے کر مہرلگانے کے لیے بھیجا جاتاتھاوہاں ووٹ کا تقدس برقراررکھنے کے لیے جو پردہ لگایاگیاتھا وہ مہروں سے بھراہوا تھا۔یہ معمہ بہت دیر تک تولوگوں کو سمجھ ہی نہ آیا۔ آخر ووٹ ڈال کر باہر جانے والے ایک ووٹر کی زبانی ہی 

یہ مسئلہ حل ہوا۔اسے جب امیدوار کے کسی حامی نے پوچھا کہ تم کہاں مہر لگا کرآئے ہو تو اس نے بتایا کہ پریذائیڈنگ افسر صاحب نے کہا تھا کہ جاؤ پردے کے پیچھے مہر لگاآؤاور میں پردے کے پیچھے مہر لگا آیا ہوں۔ ووٹروں کی اس سادہ لوحی کا اس زمانے میں بہت مذاق اڑایا گیاتھا۔ اور یہ کہاگیاتھا کہ جن لوگوں کی ذہنی سطح یہ ہے وہ بھلا عوامی نمائندے کس سطح کے منتخب کریں گے۔اسی زمانے میں ووٹ کے تقدس ،ووٹرکی رائے کے احترام سمیت بہت سے دیگر موضوعات بھی زیربحث آئے تھے جو آج بھی اسی طرح زیربحث ہیں۔پردے کے پیچھے مہرلگانے والے ہوں یا بیلٹ پیپر پر مہر لگانے والے ، ان کے ووٹ کا نتیجہ تو ایک ہی نکلتا ہے اور وہ نتیجہ وہی ہوتا ہے جو الیکشن سے پہلے ہی کہیں مرتب کردیا جاتا ہے۔پیپلزپارٹی سے اس زمانے میں جو امیدیں وابستہ کی گئی تھیں وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی’’ عجلت ‘‘کی نذر ہوگئیں۔11سال تک جیلیں کاٹنے اور کوڑے کھانے والے پارٹی کارکنوں کے دباؤ کے نتیجے میں محترمہ نے بہت سی ناقابل قبول شرائط کے ساتھ اقتدار قبول کرلیا۔پھر آمریت کے ورثے سے انہیں غلام اسحاق خان جیسا صدر اور صاحبزادہ یعقوب علی خان جیسا وزیرخارجہ بھی قبول کرناپڑا۔صرف یہی نہیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے اقتدار کی خاطر اور بھی کئی سمجھوتے کیے۔ اور پھر 6اگست 1990ء کی صبح روزنامہ نوائے وقت اور دی نیشن میں عارف نظامی کی یہ منفردخبر شائع ہوئی کہ ’’آج بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کردی جائے گی‘‘۔بے نظیر بھٹو کو بھی 6اگست کی صبح اسی خبر سے معلوم ہوا کہ ان کے خلاف کوئی سازش تیارہوچکی ہے۔انہوں نے جب اپنے وزراء4 سے اس بارے میں دریافت کیا تو وہ بھی ایوان صدر میں ہونے والے اس فیصلے سے بے خبر تھے۔لیکن خبر وہ درست تھی۔ اور شام چار بجے کے بعد اس پر عمل درآمد بھی ہوگیا۔آج عمران خان جب وزارت عظمی کا حلف اٹھانے جارہے ہیں تو نئی نسل اور کچھ پرانے لوگوں کوبھی ان سے وہی توقعات ہیں جو ہماری نسل نے بے نظیر بھٹو اور ہم سے پہلے والی نسل نے ذوالفقارعلی بھٹو سے وابستہ کی تھیں۔بے نظیربھٹو کی طرح عمران خان بھی بہت سی شرائط قبول کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ان کے بارے میں یہ تاثر پھیلا دیاگیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ہیں اور انہیں دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار لایاجارہا ہے۔ الزام تراشیوں کااب وقت گزرگیاہے۔زمانے تبدیل ہوچکے۔ اقتدار کا کھیل اب نئے ڈھب سے کھیلا جاتا ہے۔ہم سوشل میڈیا اور جہاز کے استعمال سمیت بہت سے واقعات پہلی باردیکھ رہے ہیں۔اس لیے ہمیں حیرت ہورہی ہے۔ہمیں عمران خان سے بہتری کی امید رکھنی چاہیے اور الزامات کی روایت کو ختم کردینا چاہیے۔ہمیں مایوسی کی طرف جانے کی بجائے امید کا چراغ روشن کرنا چاہیے۔ہمیں عمر ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے اعتراضات نہیں کرنے چاہیں۔کردار کشی نہیں کرنا چاہیے۔ خواتین کے معاملات زیربحث نہیں لانے چاہیں۔ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ہمیں یہ دیکھناہے کہ ان کوحکومت چلانے کے لیے جو ’’ شرفاء ‘‘ دیئے گئے کیا وہ ان کی مدد سے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرلیں گے۔ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اقتدار کھیل میں بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں۔جو ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران بھی دیکھنے میں آئیں۔وہ لوگ جو ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کے ذمہ دار تھے عمران خان کے حوالے کردیئے گئے۔ وہ جو ضیاء4 الحق سے لے کر مشرف تک اور بے نظیر بھٹو سے لے کر نوازشریف تک ہر عہد میں اقتدار کاحصہ رہے وہ سب لوگ عمران خان کے سپردکیے گئے۔اس یقین کے ساتھ سپردکیے گئے کہ یہ وہ کپتان ہے جوبہت کمزور ٹیم کے ساتھ بھی میچ جیتنا جانتا ہے۔ عمران خان کوووٹ دینے والے اوراقتداردینے والے یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے قول وفعل میں بعض تضادات ہیں۔وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ بعض نیب زدہ لوگ موجودہیں۔انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی عمران خان کے اتحادی ہیں جن کا نام فورتھ شیڈول میں شامل تھا ، جواغوا ،قتل و غارت گری اوربھتہ خوری میں ملوث رہے لیکن ہمیں لوگوں کے ماضی پر تنقید کرنے کی بجائے مستقبل پرنظررکھنا ہے۔ اوراس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ عمران خان نے جس طرح پروٹوکول لینے سے انکار کیا ہے اسی طرح وہ ان قاتلوں اور بھتہ خوروں کو بھی نکیل ڈال دیں گے۔افسوس 

اس وقت ہوتا ہے کہ جب چینلز عمران خان اور شیخ رشیدکی ایک دوسرے پر الزامات والی پرانی ویڈیوزباربار دکھاتے ہیں اور انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اقتدار کا کھیل کبھی شرمندہ ہونے کے لیے نہیں کھیلا جاتا۔اقتدار میں وعدے اگرچہ مکرنے کے لیے ہی کیے جاتے ہیں اور خواب اس لیے دکھائے جاتے ہیں کہ انہیں مستقل طورپر ریزہ ریزہ کیا جاسکے۔لیکن کپتان ایسا نہیں ہے۔اس کے قول وفعل میں ماضی میں ضرور تضاد رہا ہوگا لیکن ہمیں انتظارکرنا ہے کہ کیا وہ برسراقتدارآنے کے بعد100روز میں وہ سب کچھ کردکھائیں گے جس کا انہوں نے وعدہ کیاتھا۔لیکن اگر ان کے کچھ ساتھیوں نے ابھی سے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ 100دن کاوعدہ تو انتخابی نعرہ تھا اور یہ وعدہ عملی طورپر 100روز میں پورانہیں کیا جاسکتا۔تو جناب ہم 100روز کیا عمران خان کو 100ہفتے بلکہ پورے پانچ سال دینے کو بھی تیارہیں۔ صرف اس لیے کہ جس طرح 1988ء میں ہمارے اور ہم سے پہلے ہمارے بزرگوں کے خواب ریزہ ریزہ ہوئے تھے کہیں آج ہمارے بچوں کے خواب کرچی کرچی نہ ہو جائیں۔


ای پیپر