احتساب عدالت نے نواز شریف اور واجد ضیاء کو کب طلب کر لیا
09 اگست 2018 (11:39) 2018-08-09

اسلام آباد: احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اور پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو پیر (13 اگست) کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت پہلی بار احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے کی ہے۔ یہ مقدمات احتساب عدالت نمبر ایک سے نئی عدالت میں منتقل کیے گئے ہیں۔سماعت شروع ہوئی تو نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں ریفرنسز یہاں منتقل کر دیے ہیں، نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹے ان ریفرنسز میں ملزمان ہیں۔سردار مظفر نے عدالت کو بتایا کہ حسن اور حسین نواز دونوں عدالتی کارروائی کا سامنا نہیں کر رہے، عدالت نے دونوں کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی گئی اور وہ جیل میں ہیں، سیکیورٹی خدشات کے باعث انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

سردار مظفر عباسی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کے بعد صرف ایک گواہ کا بیان باقی ہے۔ عدالت نے نواز شریف کو آئندہ سماعت پر جیل سے طلبی کے لیے سمن جاری کرتے ہوئے گواہ واجد ضیا کو بھی طلب کیا ہے۔ نواز شریف کے وکیل کی عدم حاضری کے باعث سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی بھی کی گئی،دوسری جانب عدالت نے استغاثہ کو بھی واجد ضیا کو پیر کو طلبی کیلئے سمن جاری کر دیئے، عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کو نواز شریف کی پیشی یقینی بنانے اور سکیورٹی انتظامات کیلئے بھی سمن جاری کر تے ہوئے سماعت پیر(13اگست) تک ملتوی کردی


ای پیپر