پاس کر یا برداشت کر

09 اگست 2018

شاہزاد انور فاروقی

پولیس اور سرکاری افسران کے حوالے سے عمومی رائے اچھی نہیں ہوتی اور اسی عوامی تاثر کے پیش نظر پولیس اور دوسرے سروس گروپس کے اچھے افسران کے اچھے کام نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سارے پولیس والے اور سرکاری افسران برے ہوتے ہیں، صرف یہ ہے کہ تعداد میں کم ہونے کے باعث برا تاثر ہی غالب رہتا ہے، پولیس کی جانب سے تنگ کرنے کے واقعات اور ظلم و زیادتی کی خبریں زیادہ اچھالی جاتی ہیں اس لیے صفوت غیور، فیاض احمد سنبل، ملک محمد سعد خان، عابد علی، محمد ہلال، سید شوکت شاہ، صفدر حسین، ظفر اقبال، محمد اصغر، محمد ریاض، محمد علی، ریاض احمد، زاہد اکبر، ظہیر ثاقب، شمشاد اکبر، مشتاق احمد، سلیمان ایاز خان، شیخ محمد سعود، شعیب عباس، رب نواز، شیر زمان نیازی، غلام رسول، نسیم حیدر زیدی اور عالیہ بی بی سمیت ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے ہمارے لیے اپنی جانیں جان آفرین کے سپرد کیں۔ جی ہاں! یقین رکھیے کہ انہوں نے ہمارے لیے ہی اپنا آج قربان کیا تھا، یہ پولیس والے جو ناکوں پر ہماری گاڑیوں کو روک کر تلاشی لے کر ہماری ناگواری مول لیتے ہیں، انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ جس گاڑی کو انہوں نے روکا ہے، جس گاڑی کے اندر وہ منہ ڈالتے ہیں، اس گاڑی کے اندر ڈاکو ہے، دہشت گرد ہے یا خود کش بمبار ہے، انہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ یہ انہی کا حوصلہ ہے کہ وہ انجانے خطرات سے روز کھیلتے ہیں۔ جتنی مرضی تنخواہ اور مراعات ہوں آپ اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالتے، جان ہتھیلی پر رکھنے کے لیے یا تو پاک فوج کی طرح ارض وطن کی حرمت ذہن میں ہوتی ہے یا اس کے اندر بسنے والے جیتے جاگتے لوگ!
پولیس اپنی برائیوں کے باعث ہمیشہ برے ناموں سے ہی یاد کی جاتی ہے لیکن اچھے لوگ بھی موجود ہیں۔ سرکاری افسران میں فواد حسن فواد اور احد چیمہ جیسے بدنام زمانہ افسران ہی موجود نہیں ہوتے عمر حمید خان، عارف ابراہیم، ڈاکٹر حیدر علی شاہ، سردار احمد نواز سکھیرا جیسے چمکتے اور جگمگاتے ستارے بھی موجود ہیں۔ پولیس میں مشتاق سکھیرا جیسے خوشامدی افسران کے ساتھ ساتھ ذوالفقار چیمہ اور پرویز راٹھور جیسے روشن ضمیر افسران بھی گزرے ہیں، فرق یہ ہے کہ اپنے ضمیر کی آواز پر کون کان دھرتا ہے اور کون ہے جو چند روزہ مفاد کے باعث حکمرانوں کے قدموں میں منہ کے بل جا گرتا ہے۔
نئی حکومت کی کامیابی اور ناکامی میں افسران کا بھی بہت کردار ہو گا، اس لیے ٹیم کا انتخاب ایک مشکل مرحلہ ہو گا کہ ہر جانب سے لابنگ اور سفارشیں زوروں پر ہیں۔
لابنگ اور سفارش نے ہی ہمیں اور ہمارے نظام کو یہاں تک پہنچایا ہے، حکمران ہمیشہ سے خواہش رکھتے ہیں کہ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، چیئرمین نیب، چیف الیکشن کمشنر میری مرضی کا تعینات ہو، نتیجہ کیا نکلا، اب چیخیں چاند سے گزر کر مریخ تک سنائی دے رہی ہیں۔ اٹک سے میاں محمد اکرم ایڈووکیٹ نے عمران خان کے لیے ترجیحات اور مشوروں پر مبنی خط مجھے بھجوایا ہے جس میں اسمبلی کی مدت چار سال کرنے، جنگلات کے رقبے میں اضافے، جاگیرداری کے خاتمے اور دو جماعتی انتخابات جیسی تجاویز تحریر ہیں، میاں اکرم صاحب حکمران عمران خان ہوں یا کوئی اور وہ بہرحال ہمارے مشوروں پر کان نہیں دھرتے کیونکہ ایوان اقتدار میں ان کو گھیرنے والے افراد اس کی آنکھیں اور کان اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں جس کے بعد حکمران کا عوام سے رابطہ کٹ جاتا ہے، جب حکمران اور عوام ایک ہی دنیا میں رہتے نہیں، ایک بازار سے خریداری نہیں کرتے تو آٹے، دال کے بھاﺅ میں بھی فرق پڑ جاتا ہے اس فرق کی قیمت بعد میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
برسبیل تذکرہ فواد چوہدری، شفقت محمود، عارف علوی، پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور شیریں مزاری مبارکباد قبول کریں کہ ان کے حوالے سے اچھی خبریں راہ میں ہیں، رہا معاملہ عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ووٹ راز داری سے کاسٹ نہ کرنے کا تو مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر عمران خان متعلقہ جگہ پر جا کر اکیلے میں بھی ووٹ کاسٹ کرتے تو یقینا اپنے آپ کو ہی ووٹ کاسٹ کرتے کیونکہ اگر انہوں نے شاہد خاقان عباسی یا نیئر بخاری کے بھائی کو ووٹ ڈالنا ہوتا تو انہیں اپنی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، خواجہ سعدرفیق کی دوبارہ گنتی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور عمران خان کی تقریر کو میڈیا پر دکھانے سے معاملہ حل نہیں ہو گا کیونکہ عمران خان نے بطور سیاسی جماعت کے سربراہ کے دیگر سیاسی جماعتوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ہر حلقہ کھولنے کو تیار ہیں لیکن جب وہ تمام جماعتیں جو الیکشن کے دن تک ایک دوسرے کے مخالف اور متضاد نظریات کے ذریعے ووٹر کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں بطور سیاسی جماعت بات کرنے کے بجائے احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کی کال دے کر سڑکوں پر آ بھی چکی ہیں تو یکطرفہ رعایت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ویسے بھی کسی جماعت نے پی ٹی آئی پر دھاندلی کرنے کا الزام عائد نہیں کیا یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس ”دھاندلی“ کے جب تک یہ خود ”بینفیشری “ رہے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، سعد رفیق خود پانچ سال حکم امتناعی پر وزارت چلاتے رہے، اس سارے عرصے میں اصول اور سویلین بالادستی سب کچھ دیوار پر ٹنگا رہا، اب تمام تلواریں نیاموں سے باہر نکل آئی ہیں لیکن جو بویا ہے وہ کاٹنا پڑتا ہے، میں اس معاملے کو درست نہیں کہہ رہا بلکہ قانون فطرت بتا رہا ہوں۔اب تو شاید برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ۔

مزیدخبریں