If the constitution is removed, Pakistaniness will end and the federation will break up: Justice Qazi Faiz Issa
کیپشن:   فائل فوٹو
09 اپریل 2021 (12:02) 2021-04-09

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ آئین کا تحفظ کرنا ہر پاکستانی پر لازم ہے، اس لیے اس کی حفاظت کریں، آئین کو ہٹا دیں تو وفاق ٹوٹ جاتا اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے زیر اہتمام ’’بنیادی حقوق اور آئین‘‘ کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ آئین پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ پڑھ کر ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا۔ بانی پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ پاکستان کا آئین جمہوری اور اسلامی قوانین پر مبنی ہوگا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکھتا وہی ہے جو ہمیشہ اپنے آپ کو طالب علم تصور کرے۔ آئین میں 280 شقیں ہیں، ان میں سے دو درجن دفعات عوام کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ یہ دو درجن دفعات ہر شہری سمجھ لے جو ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت ہر صاحب اختیار جس نے بھی حلف اٹھایا اس پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا۔ اگر حلف پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو مسئلے بڑھتے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ پورے عالم پر اختیار اللہ کا ہے۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو زندگی بسر کرنے کے مکمل مواقع دیے جائیں گے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے۔ آئین سے غداری کرکے ناصرف اس جہاں بلکہ اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی۔

تقریب سے خطاب میں جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ امریکا کے سکولوں میں آئین سکھایا جاتا تھا تاکہ کم عمر سے ہی طلبہ کو آئین کا معلوم ہو، مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے یہاں کسی بھی سکول میں آئین پاکستان پڑھایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آئین کی بنیاد اس پر بات ہے کہ اقتدار اعلیٰ اللہ تعالی کا ہے۔ آئین کا تحفظ اس لیے ضروری ہے کیونکہ آئین سب کو تحفظ دیتا ہے۔ دفعہ 9 کہتی ہے کہ قانون کی اجازت کے بغیر کسی کو زندگی اور آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا جبکہ دفعہ چار یقینی بناتی ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔


ای پیپر