Naveed Chaudhry, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 اپریل 2021 (11:26) 2021-04-09

حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت کرنے کا فیصلہ کرکے واپس لے لیا۔ بہت مختصر وقت میں جو شدید ردعمل سامنے آیا اس کے سبب ایسا کرنا مجبوری بن چکا تھا ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہونگے ۔ غالب امکان ہے کہ مخالفین کے حوالے مناسب تیاری کے بعد اسی حکومتی بندوبست کے دوران بھارت سے تجارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش پھر سے کی جائے گی۔ پنجابی کے ایک محاورے کے مطابق ہاتھوں سے لگائی گئی گانٹھیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں ۔ مطالعہ پاکستان سمیت حب الوطنی اجاگر کرنے والے تمام ذرائع اسی مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے رہے کہ بھارت ازلی دشمن ملک ہے۔ یہ بیانیہ افراد سے لے کر اداروں تک میں جڑیں بنا چکا ہے ۔ چنانچہ جب موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے بھارت کے ساتھ پیار بھرے تعلقات کا سلسلہ وہیں سے آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی جہاں جنرل مشرف چھوڑ کر گئے تھے تو پذیرائی نہیں ملی ۔ بھارت نے اس حوالے اس قدر رعونت آمیز رویہ اختیار کیا کہ وزیر اعظم مودی اپنے پاکستانی ہم منصب کا فون تک سننے کے لیے آمادہ نہیں ہوا۔ پھر ہمیں عالمی میڈیا سے پتہ چلا کہ دونوں ممالک کے درمیان خفیہ طور پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایک بڑی پیش رفت کے طور پر اچانک یہ خبر سامنے آگئی کہ جنرل مشرف کے دور ہونے والے 2003 ء کے فائر بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ یہ بھی واضح ہوگیا کہ پاک بھارت معاملات طے کرانے کے لیے امریکہ کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی متحرک ہیں ۔سو اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ تجارت کھولنے کا فیصلہ کرکے مستقل طور پر واپس لے لیا گیا تو یہ درست نہیں ہوگا۔ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس سلسلے میں پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے فوری بعد سے خود متحرک ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کے موقع پر سابق کرکٹر بھارتی سیاستدان سدھو کو  مدعو کرنا اسی امر کا اشارہ تھا۔پھر اس کے بعد تمام دیگر مسائل کو پس پشت ڈال کر بھاری اخراجات کے ساتھ بجلی کی رفتار سے کرتار پور راہداری مکمل کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ میں اب تک جتنی بھی رکاوٹیں ڈالی گئیں ان میں سے بیشتر بھارتی حکام کی جانب سے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کو تو حد ہی ہوگئی جب بھارت نے مقبوضہ کی خصوصی حیثیت ختم کرکے ریاست کو ضم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس موقع پر ہماری جانب سے یہی ردعمل آیا کہ آخر جنگ تو نہیں کرسکتے تاہم اتنا ضرور ہے 2019 ء کا غیر قانونی اقدام واپس لینے تک بھارت کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوگی لیکن بعد کے واقعات سے پتہ چلا ایسا کچھ نہیں ۔ کسی نا کسی طور پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا ۔ پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کا اعلانیہ موقف ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے کشمیر کو بیچ ڈالا ۔ مولانا فضل الرحمن نے فاٹا کے انضمام کے فیصلے پر کہا کہ اس سے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی موقف کو تقویت ملے گی ۔ پھر پتہ چلا ملک کی سیاسی قیادت کو ایک اہم جگہ مدعو کرکے بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی تیاری کرلیں ۔ اس پر بھی اپوزیشن جماعتوں کا موقف یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی اقدام کی توثیق سے گریز کیا جائے۔ اب اطلاعات یہ ہیں اگلے مرحلے میں  آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد اس خطے کو بھی صوبے کی حیثیت دے دی جائے گی۔ ایسا ہوگیا تو مسئلہ کشمیر حتمی طور پر نمٹ جائے گا۔ پھر امن کی آشا روشن ہوگی ، دوستی ہوگی ، تجارت ہوگی۔ سرحدیں کھل جائیں گی۔ یاد رہے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بھارتی اقدام کے فوری بعد قومی اسمبلی 

میں شہباز شریف کی کسی تجویز پر وزیر اعظم عمران خان نے برہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’ تاریخی ‘‘ جملہ کہا تھا کہ کیا بھارت سے جنگ چھیڑ دوں عین ممکن ہے آنے والے دنوں میں یہ سننے کو ملے بھارت سے تجارت نہ کروں تو کیا لوگوں کو بھوکا مرنے دوں ؟ موجودہ حکومتی نظام میں بھارت سے تعلقات کا معاملہ آگے جاتا نظر آرہا ہے۔ پی ڈی ایم کو توڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے نرم موقف سے فائدہ اٹھایا جائے۔ رہ گئی جماعت اسلامی تو وہ اتنی سکت بھی نہیں رکھتی کہ مقتدر حلقوں کی مرضی کے بغیر ڈھنگ کی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرسکے ۔ ہمیں تو افسوس اس بات پر ہے کہ خالی خول بیانات ، جن پر کچھ خرچ نہیں ہوتا ان کے حوالے سے بھی احتیاط برتی جارہی ہے۔ بھارت ہماری ان کاوشوں کو کس نظر سے دیکھ رہا اس حوالے ان کے آرمی چیف کی گفتگو سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں سردمہری کی برف پگھلنے کے حوالے سے انڈیا کی برّی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نراونے ٹائمز نائو کے زیر اہتمام ہونے والے انڈیا اکنامک کانکلیو کے ایک سیشن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ چھ برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ لائن آف کنٹرول پر خاموشی ہے۔مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد سے ابتک لائن آف کنٹرول پر ایک گولی بھی نہیں چلی ’پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایک حالیہ بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کو ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا، کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے جنرل منوج نے کہا کہ کافی عرصے سے سرحد پار سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی نہ ہی سرحد پر دخل اندازی کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایسا مجبوری کے تحت کیا ہے۔میرے خیال میں ان کے اپنے چند اندرونی مسائل تھے اور اسی وجہ نے انہیں سرحد پر سیز فائر کے لیے قدم بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اب بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور لانچنگ پیڈ موجود ہیں۔دہشت گرد آج بھی وہاں موجود ہیں اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انڈین فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورتحال، ’’ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کی لٹکتی تلوار‘‘ اور ملک کے اندرونی حالات کے باعث مجبور ہے۔ بھارتی فوج کے سربراہ کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان اپنی مشکلات کے سبب دوستی کا ہاتھ آگے بڑھا رہا ہے اور امن کی آشا روشن کرنے کے لیے بے صبری کا مظاہرہ کررہا ہے ۔حیرت انگیز بات ہے کہ بھارتی آرمی چیف کی یہ اشتعال انگیز گفتگو عالمی ذرائع ابلاغ پر دکھائی گئی مگر حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ، شاید کسی بڑی طاقت نے کہہ دیا ہے کہ اب نرم نرم باتیں کریں ۔ اس حوالے تازہ ترین رپورٹ دنیا کے موقر اخبار فنانشنل ٹائمز نے شائع کی ہے ۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وزیر اعظم عمران خان کی بھارتی وزیر اعظم مودی کے ساتھ ملاقات کرانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں ۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے اپنے تمام فیصلے ہمیشہ عالمی طاقتوں کی آرا کی روشنی میں ہی کیے ہیں ۔ اب بھی ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے ، ریاست پاکستان کو قابو کرنے کے لیے معاشی طور پر شکنجے میں لیا جاچکا ہے۔ یہی آج کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے ہمارے اندرونی حالات کا ذکر کرکے اقتصادی مشکلات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ وہ افغانستان کو بھی ہمارے لیے سردرد قرار دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ایک مسئلے میں الجھے چار دہائیاں بیت گئیں مگر پاکستانی قوم کو صرف اور صرف نقصان ہی اٹھانا پڑا۔ گنتی کے افراد کھرب پتی ضرور ہوئے مگر ملک کو کچھ نہیں ملا ۔ ہم آج بھی اس مسئلے میں فریق بنے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے آگے بھی کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ ایف اے ٹی ایف ایک ایسا المناک تماشہ ہے کہ جس کے اثرات سے وہ بائیس کروڑ پاکستانی مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں جن کا اس معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ اب تو ایسا نظر آرہا ہے کہ ہم نے بھارت کے ساتھ برابری کی سطح معاملات طے کرنے کے مواقع گنوا دئیے ہیں ۔ اس کھیل کے پیچھے موجود عالمی طاقتیں آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گی ۔ پاکستان کو مزید مشکلات میں پھنسانے کے لیے آئی ایم ایف کے ہتھیار کا استعمال مسلسل جاری ہے۔ ایک تازہ ترین واردات جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سٹیٹ بنک سے متعلق آرڈیننس ہے ۔ اس کارروائی کو اقتصادی شہ رگ کاٹنے کے مترادف قرار دیا جارہاہے، ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے بجلی، پانی، گیس، تیل، اشیا خورونوش، تعلیم، میڈیکل کے بلوں میں ایسی تیزی آئیگی کہ پہلے سے مشکلات کی چکی میں پس رہے عوام کا جینا محال ہو جائیگا۔ ویسے تو یہ آرڈیننس واپس لے لیا جائے تب بھی آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملنے والا لیکن بعض معاملات براہ راست ملکی سلامتی سے منسلک ہوتے ہیں ۔ سٹیٹ بنک سے متعلق آرڈیننس کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا ۔ رہ گئے 22 کروڑ پاکستانی تو  یہ طے ہے کہ جب تک حکمران اشرافیہ کے بھاری اخراجات اور ہر طرح کے مشاغل کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہے گا ، عام لوگوں کی حالت زار اور چیخ و پکار کے حوالے سے ان کی آنکھیں اور کان بند رہیں گے۔


ای پیپر