Dr Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 اپریل 2021 (11:21) 2021-04-09

سیا نے کہتے ہیں کہ جب جھو ٹ عا م ہو جا ئے تو اتنا جھوٹ بو لو کہ وہ سچ نظر آ نے لگے۔ سو حا ل وطنِ عز یز کا ہے۔اس وقت وہ حا لا ت ہیں جب ملکی معیشت اور اقتصادی صورت حال قیاس آرائیوں کی دھند میں چھپ گئی ہے اور حکومت کو ایک بڑے صبر آزما چیلنج کا سامنا ہے۔ کئی معاملات ہیں، عوام کو فوری ریلیف درکار ہے۔ کورونا ان دنو ں را ج کر رہا ہے اور رمضان المبارک قریب آ پہنچا ہے۔ معاشی اور سماجی حالات کو کسی سہارے کی ضرورت ہے اورارباب اختیار کو اپوزیشن سمیت اقتصادی مشکلات کی گمبھیرتا نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ بظاہر حکومت اقتصادی گرد آلود ہواؤں سے نمٹنے میں مصروف ہے، سوال اُٹھ رہے ہیں کہ عوام کے لیے معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے دعوے کرنے کے دن کیوں اتنے لمبے ہوگئے، ریلیف اور تبدیلی کو تو اب آجانا چاہیے تھا۔ حکومت کا چیلنج اس لیے ناقابل یقین ہے کہ جتنے چا رہ گر تھے ، سب کے تیر آزمائے جاچکے ہیں۔ معاشی مسیحاؤں سے جتنی توقعات وابستہ کی گئی تھیں ان کا نتیجہ کچھ نہ نکلا اور اب موسم گرما کے مصائب کا سامنا ہوگا۔ گرمی، ہیٹ اسٹروک اور بیروزگاری عوام کے صبر کو بھی آزمائے گی۔ ماہرین کا ایک طبقہ اس مسئلہ پر دم بخود ہے کہ اتنے عرصہ میں حکومت کو اپنا بنیادی معاشی و اقتصادی ہوم ورک مکمل کرلینا چاہیے تھا، کہیں سے تو اچھی خبر آنی چاہیے تھی۔ لوگ اب واقعی معاشی مسائل میں اضافہ سے گھبراگئے ہیں، ان کے لیے حالات فرسٹریشن پیدا کرنے کا باعث ہوگئے ہیں۔ غربت اور کورونا نے عوام کے لیے زندگی کو ایک اُفتاد اور چیلنج بنادیا ہے۔ ایک عالمی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لوگوں کو یہ فکر ہے کہ آسمان کو چھوتی قیمتیں کہاں جا کر رکیں گی۔ عوام کا یہ رجحان گلوبل مارکیٹ اور کنسلٹنگ فرم Ipsos کے سروے میں سامنے آیا۔ ایک ہفتہ قبل کیے گئے اس سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کا اعتماد بہت نیچے آگیا ہے اور وہ سرمایہ کاری سے متعلق فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ معیشت کے معاملات سے اشتباہ کا شکار عناصر نے ملکی سسٹم، سیاسی جمود اور پولرائزیشن کو بھی بحث کا موضوع بنالیا ہے۔ ان کا کہنا یہ کہ موجودہ دور میں جمہوریتوں سے یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ ان کی طرز حکمرانی بنیادی اقدار اور فکر و عمل میں تبدیلیاں کس حد تک بساط سیاست و معیار کمیت کے حوالہ سے عوام کی توقعات کو پور اکرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ اس حوالہ سے پاکستان کی سیاسی صورت حال کا سیاق و سباق امید افزا نہیں لگتا۔ ماہرین کے مطابق اصولی سوال پی ٹی آئی حکومت کی تبدیلیوں کے دعووں پر ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ تعلیم، صحت، روزگار، تفریحات، غربت کے خاتمے کی جدوجہد میں پاکستانی عوام کی زندگی میں کس قسم کی تبدیلی آئی ہے۔ کیا ان مسائل کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے نئی قیادت کو اقتدار میں لا کر وہ مسائل فری سیاست کی پہلی منزل عبور کرچکے۔ کیا غربت اور بیروزگاری میں کمی آئی؟ مگر جتنے سروے آئے وہ سابقہ اور موجودہ طرز حکمرانی میں کسی واشگاف تبدیلی کا عندیہ نہیں دیتے۔ سروے رپورٹس ایک عمومی جمود، یاسیت، شکوک و شبہات، بے منزلیت اور بے یقینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کورونا نے سارے انداز تلپٹ کردیئے ہیں۔ ہیلتھ انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے۔ اہم ترین سماجی ادارے زمین بوس ہونے کو ہیں، ماہرین تعلیم او رصحت کے حکام کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ نئی نسل کو صحت اور تعلیم کے شعبے میں مسائل کا کیا صائب اور تیر بہدف حل پیش کریں۔ماہرین تعلیم و صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ ہاتھ دھونے، ماسک لگانے، سماجی فاصلے کا خیال رکھنے او رپُرہجوم جگہوں پر نہ جانے جیسی ایس او پیز کا خیال رکھ کر وائرس کے پھیلاؤ کو روکا تو جاسکتا ہے لیکن اس کو ختم کرنے اور عام زندگی کی جانب لوٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے اکثر ممالک نے بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کے پروگرام شروع کردیئے ہیں۔ ان ممالک میں لاکھوں او رکروڑوں کی تعداد میں ویکسین لگ چکی ہیں۔ کچھ ممالک میں جہاں اس عمل کو شروع ہوئے کچھ وقت ہوچکا ہے وہاں دیگر بیماریوں کے شکار افراد اور بزرگوں (جنہیں ابتدائی مرحلے میں ویکسین لگائی گئی تھی) میں وائرس کے پھیلائو میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کئی ممالک میں صحت کے 

عملے اور بزرگوں کے بعد اب عام لوگوں کو بھی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو گا۔پاکستان میں ہمیں صرف چند لاکھ خوراکو ںکا ’تحفہ‘ ملا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ خریداری کے کچھ معاملے ابھی کیے جارہے ہیں اور خریدی گئی کچھ ویکسین ابھی راستے میں ہیں۔ ملکی آبادی کل 2 2 کروڑ ہے او رآج کی تاریخ تک ویکسین کی کل 10 لاکھ خوراکیں بھی نہیں لگائی گئی ہیں۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ ہماری نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کے لیے یہ وائرس نسبتاً کم مہلک ہے (اگرچہ یہ وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں) پھر بھی ملک کی تقریباً 10 کروڑ آبادی ایسی ہے جسے ویکسین کی ضرورت ہے۔ ماہرین نے سوال اٹھایا ہے تو آخر ہم ان کو ویکسین لگوانے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ اور ہم اتنی ویکسین کہاں سے لائیںگے؟ اگر ہم موجودہ رفتار سے ہی چلتے رہے تو ہمیں کورونا کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے میں کتنا وقت لگے گا؟گزشتہ ماہ ملک میں کورونا کے4 ہزار 797 نئے کیس سامنے آئے اور مجموعی طور پر مریضوں کی تعداد 53 ہزار 127 ہوگئی۔ مزید وائرس کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات کے حوالے سے یہ تیسری لہر بہت ہی خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ حکومت اپنے طور پر پابندیاں تو عائد کر رہی ہے لیکن وائرس کی اس تیسری لہر کا زور اب بھی باقی ہے۔ ان پابندیوں کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ وزیراعظم بار ہا یہ بات دہراتے رہے ہیں کہ ہم مکمل لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتے۔ جزوی لاک ڈاؤن کی بھاری قیمت ہوتی ہے۔ شاید ویکسین کی خریداری اور اسے لگانے کی قیمت سے بھی زیادہ ہو۔ پنجاب میں کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ قریبی واقع بازار بھی بند ہے۔ ریسٹورنٹس، بیکری اور میڈیکل اسٹورز کے علاوہ تمام دکانیں بند ہیں۔ شاید یہ سلسلہ اگلے ایک ہفتے تک جاری رہے۔ سوال یہ ہے کہ لاک ڈاؤن والے علاقے میں جن لوگوں کے کاروبار اور دفاتر موجود ہیں ان پر کیا اثر پڑے گا؟ علاقے کی سڑکیں بند ہیں جس سے لوگوں کے کام میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ لوگوں کی صحت مقدم ہے ۔مدعا یہ ہے کہ ان کی صحت کے تحفظ کا ایک نسبتاً سستا حل بھی موجود ہے اور وہ ہے بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن۔ جس وقت اس وائرس پر قابو پانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا، اس وقت لاک ڈاؤن قابل قبول تھے لیکن اب ، جبکہ ایک سستا حل موجود ہے تو پھر لاک ڈاؤن کیوں لگائے جائیں؟ تو کیا حکومت ویکسین کی خریداری میں تاخیر کر رہی ہے؟ کیا ہم نے اپنی امیدیں دیگر ممالک سے ملنے والی امدادی ویکسین سے باندھی ہوئی ہیں؟ یا ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے کہ جب ہر ڈامیونٹی پیدا ہوجائے گی اور یوں ہم بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن کے خرچے سے بچ جائیں گے؟ تو کیا یہ حساب کتاب کی گڑبڑ تھی یا پھر نااہلی؟ یا پھر منصوبہ ہی یہ تھا کہ خود ویکسین پر خرچہ کرنے کے بجائے عوام کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی جیب سے ویکسین خریدیں؟

مطلب یہ ہے کہ عجب گمبھیر تا کا عالم ہے۔کچھ سجھا ئی نہیں دیتا۔


ای پیپر