Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 اپریل 2021 (11:18) 2021-04-09

ہمارے یہاں عام تاثر ہے کہ پولیس کا کام معاشرے میں برائیوں کا خاتمہ کرنا اور جرائم کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اگر معاشرے میں جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی کی جائے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس، عدالتیں اور مجرم نظامِ قانون کی تکون ہیں اور اگر ان میں کسی ایک میں بھی کمزوری یا کوتاہی ہو تو معاشرے میں بگاڑ ، عدل و انصاف کا قتل ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر ایسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں جن کی بدولت روایات، اقدار اور حسن معاشروں سے دور ہو جاتے ہیں۔  جرم ہو جاتا ہے لیکن ملزم پکڑے نہیں جاتے، پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ پولیس خود بھی جانتی ہوتی ہے اور مدعی کو بھی مجرم کے ٹھکانے کا پتہ ہوتا ہے لیکن پولیس ہے کہ اس سے نامزد ملزم پکڑا نہیں جاتا۔ حتیٰ کہ وہ اشتہاری بھی ہو جاتا ہے لیکن پولیس اسے پکڑنے سے لیت و لعل سے کام لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد میں اشتہاریوں کی تعداد سنگین حد تک بڑھ چکی ہے۔ فیصل آباد پولیس کے اپنے مہیا کئے گئے ریکارڈ کے مطابق اس وقت فیصل آباد میں 11507 مجرمان اشتہاری ہیں۔ اسی وجہ سے شہر میں لاقانونیت انتہا درجے کو پہنچی ہوئی ہے۔ ڈکیتیاں، چوریاںاور دیگر جرائم کی شرح حد سے زیادہ ہے۔ پولیس نے چپ سادھ رکھی ہوئی ہے۔ اس حد تک زیادہ اشتہاری اگر شہر میں دندناتے پھریں گے تو عوام بیچارے کیسے محفوظ رہیں گے۔ میں یہاں تھانہ سمن آباد فیصل آباد کے ایک واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گا جس میں ایک اشتہاری اسی مقدمے میںلوگوں کو تنگ کر رہا ہے جس میں وہ اشتہاری ہے جب کہ تھانہ اسے پکڑنے سے گریزاں ہے۔ سی پی او آفس کے نوٹس میں وقوعہ کو لایا گیا تو انہوں نے بھی اسے ہوا اڑا دیا۔ پولیس پر عدم اعتماد کی وجہ ہی سے گزشتہ دنوں فیصل آباد میں ڈکیتی کرتے چار مجرموں میںسے دو کو پکڑ کر لوگوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا انہیں معلوم تھا کہ اگر پولیس کو دیا تو یہ اشتہاری قسم کے مجرم پولیس کی ساز باز سے رہا ہو جائیں گے۔ نامزد ملزموں اور اشتہاریوں کی گرفتاری کے لئے پولیس کے اقدامات ملزموں کے رشتہ داروں تک محدود ہیں اکثر یہی ہوتا ہے کہ اشتہاری پولیس کے سامنے کبھی موٹر سائیکل پر اور کبھی موٹر کار پر فرار ہو جاتا ہے۔ عرصہ سے مفرور سیکڑوں ملزم اور اشتہاری حکام کے سخت احکامات اور کئی ایک مہمات کے 

باوجود پولیس کے ہاتھ نہیں آ سکے۔ اشتہاریوں کو نہ گرفتار کرنا در اصل مجرموں کو تحفظ دینے کے مترادف ہے۔  ہم نے دیکھا تو نہیں لیکن بزرگوں سے سنا ہے کہ انگریز دور میں ریاست کی ایسی دھاک تھی کہ بس ایک پولیس والا گاؤں میں جاتا اور ملزم کی کلائی میں رسی باندھ کر تھانے تک پیدل لے آتا۔ گاؤں والوں کی آپس کی دشمنیاں کیسی بھی سہی مگر ریاست اور اس کے نظامِ انصاف پر اکثریت کو اعتبار تھا۔

پنجاب خصوصاً فیصل آباد میں جرائم کی شرح ناقابلِ یقین حد تک خطرناک ہو چکی ہے ہر ماہ ڈکیتی، چوری، راہزنی اور اغوا وغیرہ کی سیکڑوں وارداتیں پولیس ریکارڈ کا حصہ بنتی ہیں، عدم تحفظ کا احساس اتنا بڑھ چکا ہے کہ ہر شخص دن ہو یا رات رقم لے کر کہیں آنے جانے سے ڈرتا ہے کیونکہ انہیں علم نہیں ہوتا کہ کب اور کدھر سے کوئی آئے اور رقم کے ساتھ ساتھ جان بھی لے جائے گھروں میں گھس کر اور سرِ راہ لوٹ مار کے واقعات عام ہو گئے ہیں حالات یہاں تک بگڑ چکے ہیں لٹنے والوں کی ڈاکو خوب درگت بھی بناتے ہیں ہلکی مزاحمت پر جان سے مار نے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔  میں ایک سرکاری بینک میں منیجر تھا میری برانچ کا سائیکل چوری ہو گیا۔ چونکہ سائیکل بینک کی ملکیت تھا میں نے علاقے کے تھانے میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے درخواست دی تو تھانہ کا محرر لیت و لعل سے کام لینے لگا، میں نے اوپر شکایت کی تو اگلے دن پولیس کا ایک اہلکار نیا سائیکل لے کر بینک آ گیا اور کہنے لگا یہ سائیکل لے لیں اور ہمارے افسران کو بتا دیں کہ آپ کا سائیکل مل گیا ہے۔

معاشرے میں قتل، اغوا، ڈکیتی، لوٹ مار اور دوسرے سنگین اور اذیت ناک جرائم جن میں لوگوں کو ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار بنایا جاتا ہے بلا شبہ معاشرے میں خوف اور جان و مال کے عدم تحفظ کے احساس میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کے تاثر کو گہرا کرتے ہیں اور یہ صورتحال حکومت اور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے بلکہ عدم اعتماد پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ لیکن مہذب جرائم کا قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ ان جرائم کا شکار ہونے والے جسمانی اذیت سے دوچار نہیں ہوتے اور شکار کرنے والے اور اپنے دام میں پھانسنے والے بھی معاشرے کے مہذب، باوقار افراد تصور کئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف مقدمہ درج کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ کبھی تھانیدار یا چوکی انچارج نہیں ملتا تو کبھی محرر چھٹی پر ہوتا ہے اوپر سے اہلکار متاثرہ شخص کی جو آؤ بھگت کرتے ہیں اس سے رہی سہی امید بھی دم توڑ جاتی ہے۔ اب تو عوام کا پولیس سے اعتماد اٹھ چکا ہے کہ کوئی واقعہ ہو جائے تو تھانے کا رخ کرنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ انہیں اس مال کی فکر ہوتی ہے جو ملزموں کے ہاتھ لگنے سے بچ چکا ہوتا ہے۔ 

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اس عزم کو بار بار دہراتے ہیں کہ پولیس میں اصلاحات لائے بغیر گزارہ نہیں ہے، تھانوں کو ظلم و خوف کی علامت کے بجائے امن اور فراہمیِ انصاف کا ذریعہ بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لئے پولیس کلچر میں تبدیلی لائیں گے۔ عمران خان اپنے مشن سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے راستے ایسے اہلکار ہی رکاوٹ ہیں جو کام کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ وہ پولیس کلچر میں تبدیلی کے خواہاں بھی ہیں لیکن یہ تبدیلی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک انسپیکشن اور احتساب کے کڑے نظام کے نفاذ کے ساتھ محکمے کو کالی بھیڑوں سے پاک نہیں کر دیا جائے۔آج ہر فرد کو پولیس سے شکایت ہے، اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں محکمہ پولیس ہی کو درست کر لیا جائے تو آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔پولیس کا ادارہ جو عوام کے تحفظ کے لئے قائم کیا گیا، آج اس کی شہرت خاصی بری ہے۔ اشتہاری جہاں چاہتے ہیں جدھر چاہتے ہیں اپنی من مانی کرتے رہتے ہیں انہیں کوئی خوف کوئی خطرہ اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ خوب اچھی طرح دیکھتے سمجھتے ہیں کہ ان کی راہ روکنے والا کوئی نہیں ہے اور ان کا راستہ صاف ہے۔ پولیس کے انہیں نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی شائد انہیں بھی خوب کھل کر کھیلنے کا موقع مل رہا ہے اور پوری جرأت، دلیری، بے خوفی سے اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں اور محفوظ ہیں۔ پولیس کی ناقص تفتیش اور استغاثے کا غیر منظم اور غیر مربوط نظام فوری اور سستے انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے حصولِ انصاف کے بنیادی تقاضے مجروح ہو جاتے ہیں۔ ناقص تفتیش کی وجہ سے با اثر ملزم قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے سزا اور احتساب کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ معاشرتی سکون اور امن و امان درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔


ای پیپر