Riaz ch, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
09 اپریل 2021 (11:12) 2021-04-09

کرہ ارض پر جب کبھی زلزلہ، سیلاب، طوفان یا وبائی امراض جیسی ناگہانی آفات آتی ہیں تو یہ اپنے ہمراہ اَن گنت تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے اور زندہ انسانوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ لیکن الخدمت فاؤنڈیشن نے وطنِ عزیز پر آنے والی ہر آفت کے سامنے ڈھال بن کر قوم کو سہارا دیا۔ الخدمت فائونڈیشن چونکہ پاکستان میں رضاکاروں کا سب سے بڑا نیٹ ورک رکھنے والا ادارہ ہے، اِسی لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہمیشہ سے الخدمت فائونڈیشن کی پہلی ترجیح رہی ہے۔

 الخدمت فاؤنڈیشن اسی احساس کی ایک حقیقی تصویر ہے جو مواخات پروگرام کے ذریعے نئے کاروبار کے اجرا یا پہلے سے جاری کاروبار میں توسیع کے خواہش مند ایسے مرد و خواتین کو جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام نہیں کرپاتے، قرضِ حسنہ فراہم کرتی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد باصلاحیت افراد کو نیا کاروبار شروع کرنے یا پہلے سے جاری کاروبار کو مستحکم کرنے کے لیے، یا پھر خراب معاشی صورت حال کے باعث سود کے چنگل میں پھنس جانے والے افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قرض فراہم کیا جاتا ہے۔

 پانی ایک بہت بڑی نعمت ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پانی زندگی ہے اور پانی کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے۔ لیکن یہی پانی جب آلودہ ہوجائے تو یہ نعمت ایک زحمت بن جاتا ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان کا شمار اْن 17 ممالک میں ہوتا ہے جن کو شدید ترین آبی مسائل کا سامنا ہے۔ اس صورتِ حال میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ لیے الخدمت نے ملک بھر میں ناصرف آلودہ پانی کے حوالے سے آگہی مہم شروع کی، بلکہ صاف پانی مہیا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام کیا۔ شہری علاقوں، تھرپارکر، اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں کھارے پانی کو صاف کرنے کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے، 

پانی کے کنویں کھدوائے،کمیونٹی ہینڈپمپ اور سولر واٹر پمپ لگوائے۔ اب تک 150کے قریب واٹر فلٹریشن پلانٹ، پہاڑی علاقوں کے لیے واٹر اسکیمیں، 2 ہزارکے قریب پانی کے کنویں،7ہزار کے قریب کمیونٹی ہینڈپمپ،ایک ہزار سب مرسیبل واٹر پمپ اور 6سو کے قریب دیگر منصوبہ جات مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ صاف پانی کے درجنوں منصوبے زیرتکمیل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کو آلودگی سے بچانے اور صحت کے لیے اس کے مضر اثرات سے لوگوں کو آگہی کا کام بھی سر انجام دیا جارہا ہے۔ ہر سال اقوام متحدہ کے بینر تلے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی 22 مارچ کو پانی کے عالمی دن کے طور پر منانے کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔

ہمارا معاشرہ امیراور غریب دو طرح کے طبقات میں منقسم ہے۔ لیکن یہ تقسیم بھی ایک خاص نظامِ قدرت کے تحت چل رہی ہے۔ جہاں اس سے دردِ دل رکھنے والے صاحب ِاستطاعت لوگوں کو نیکی کا موقع ملتا ہے وہیں یہ معاشرے میں موجود ہر مستحق اور مجبور فرد تک بنیادی حقوق کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ الخدمت ’’شعبہ سماجی خدمات‘‘ کے ذریعے ملک کے لاکھوں نادار اور بے سہارا افراد کے لیے امید کی کرن ہے۔ رمضان المبارک میں راشن، عیدالفطر پر تحائف، عیدِ قرباں کے موقع پر ضرورت مندوں کو گوشت کی فراہمی، مسیحی اور ہندو اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر تحائف کی تقسیم کے ساتھ ساتھ جیلوں میں قیدیوں کی بہبود کا کام سارا سال بڑے پیمانے پر جاری رہتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کئی افراد وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہیل چیئر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور معذوری کے باعث معاشرے سے کٹ جاتے ہیں۔ ہر سال ایسے ہزاروں معذور مستحق افراد کو فری وہیل چیئر فراہم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ وہیل چیئر کی تقسیم کا مقصد اْن کا احساسِ محرومی کم کرنا اور زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ 

ملک بھر میں مصیبت میں گھرے اپنے بھائیوں کو شدید موسم کے جبر سے بچانے کے لیے ان میں ونٹر پیکیج تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مخیرحضرات کے تعاون سے ملک کے دور دراز علاقوں میں مخدوش مساجد کی مرمت اور نئی مساجد کی تعمیر بھی الخدمت سماجی خدمات پروگرام کا حصہ ہے۔

 الخدمت تپتی دھوپ میں 4000ہزار روپے ماہانہ سے یتیم بچوں اور ان کی ماؤں کے لیے ٹھنڈی چھاؤں کا سائبان کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد 42لاکھ ہے جبکہ اس میں سے الخدمت 14 ہزار کے لگ بھگ بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت، خوراک و مربوط نظام کیساتھ کفالت کر رہی ہے۔الخدمت کے پروگرام آغوش ہومزکے تحت سٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگز شیخوپورہ،گوجرانوالہ، اٹک، اسلام آباد (طالبات) ، راولپنڈی،مری، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر لوئر، مانسہرہ، باغ، کوہاٹ،راولا کوٹ اورشامی یتیم بچوں کے لئے شام ترک بارڈر میں قائم ہیں۔ہر مشکل میں پیش پیش الخدمت کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی خدمات میں شیلٹر ہومز 3,157، راشن پیکجز،38رسپانس سنٹر ز، ہزاروں تربیت یافتہ رضاکارشامل ہیں اوراس پروگرام میں 236 ملین روپے کے ذریعے سے 221,066 افراد کو مستفید کیا ہے۔

 الخدمت فاؤنڈیشن کی بنیادرکھنے والوںمیں قاضی حسین احمد، نعمت اللہ خان، ڈاکٹر حفیظ الرحمان، محمد عبد الشکور(موجودہ صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان) اور حامد اطہر ملک کے نام ہیں۔ 1990ء  سے بلا تفریق مذہب اور رنگ و نسل دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف الخدمت فاؤنڈیشن فلاحی تنظیموں کے لیے ایک سند اور برینڈ بن چکا ہے۔الخدمت کا شمار ایشیا کی پہلی تین بڑی آرگنائزیشنز میں ہوتا ہے۔


ای پیپر