آ ٹا چینی ر پورٹ اور وزیرِ اعظم کا امتحا ن
09 اپریل 2020 2020-04-09

پچھلے دنو ں وزیرِ اعظم عمران خا ن کے تا حا ل دستِ را ست جہا نگیر تر ین ٹی وی شو میں بتا رہے تھے کہ اب ان کے عمران خان سے ویسے تعلقا ت نہیں رہے۔ تفصیل اس اجما ل کی کچھ یوں ہے کہ آٹے اور چینی کے جس مصنوعی بحران کا سامنا پچھلے دنوں قوم کو کرنا پڑا، وزیراعظم کی جانب سے اس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹوں کی اہم تفصیلات کا خود ان کی ہدایت پر گزشتہ روز اس کے باوجود منظر عام پر لے آیا جانا کہ ان میں بحران کی بنیادی ذمہ داری حکومتی شخصیات پر عائد کی گئی ہے اور اس سے سب سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے والے خود حکمران جماعت اور اس کی اتحادی پارٹیوں کے رہنما یا ان کے قریبی عزیز قرار دیئے گئے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم کی گئی چھ رکنی کمیٹی کی چینی بحران رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف میں کلیدی اہمیت کے حامل رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے دیرینہ اور قریبی ساتھی جہانگیر ترین اس بحران سے فائدہ اٹھانے والوں میں سرفہرست ہیں جبکہ دیگر افراد میں وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی خسرو بختیار، حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الٰہی اور ان شخصیات کے رشتے دار شامل ہیں۔ جہا نگیر تر ین کا حکو متی پا رٹی تحر یکِ انصا ف پہ ہو لڈ کو ئی ڈھکی چھپی با ت نہیں۔ان کے وزیرِ خارجہ شا ہ محمو د سے کھلے اختلافا ت بھی سب کو معلو م ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے بعض وابستگان اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلق رکھنے والے اومنی گروپ کی ملوں کو بھی رپورٹ کے مطابق حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں ابھرنے والے اس بحران سے خطیر مالی فائدہ پہنچا۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ سابقہ برسوں میں چینی کی پیداوار مقامی ضرورت سے بہت زیادہ تھی لہٰذا برآمد کیے جانے کا فیصلہ درست تھا لیکن پچھلے سال گنے کی پیداوار مقامی ضرورت سے کم ہونے کے باعث چینی کی قلت پیدا ہوجانے کے خدشے کے باوجود متعلقہ حکومتی ذمہ داروں کی جانب سے برآمد کی اجازت، برآمد پر سبسڈی دینے اور مصنوعی قلت کی بنیاد پر چینی کی فی کلو قیمت بیس روپے تک بڑھ جانے سے شوگر مل مالکان نے اربوں روپے کا ناجائز منافع کمایا۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد کے لیے یہ گمراہ کن پیشین گوئی بھی کی گئی کہ گنے کی پیداوار مقامی ضروریات سے بہت زیادہ ہوگی۔ ذرائع کے مطابق چینی بحران کی تحقیقات رکوانے کے لیے بااثر شخصیات کی جانب سے یہ دھمکی بھی دی گئی کہ چینی کی قیمت ایک سو دس روپے تک بڑھادی جائے گی۔ متعلقہ ذمہ داروں کے جرم کو ان کا یہ طرزِ عمل مزید سنگین بناتا اور انہیں

سخت تادیب کا مستحق ٹھہراتا ہے۔ گندم بحران سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی غیر ذمہ داری آٹے کی قلت اور مہنگائی کی اصل وجہ بنی۔ ایم ڈی پاسکو کی گندم خریداری کی رپورٹ درست نہیں تھی۔ وزارتِ فوڈ سیکورٹی نے ای سی سی کو غلط اعداد و شمار پر گندم برآمد کرنے کا مشورہ دیا۔ 2019 ء میں گندم کی پیداوار کا غلط اندازہ لگایا گیا۔ جبکہ مالی سال 2019-20ء میں ایک لاکھ 63 ہزار ٹن گندم برآمد کی گئی۔ گندم کی برآمد پر پابندی نومبر کے بجائے جون 2019ء میں لگنا چاہیے تھی۔ پنجاب حکومت نے تین ہفتے کی تاخیر سے گندم کی خریداری کی۔ سندھ حکومت کے گندم اسٹاک میں بڑے پیمانے پر چوری ہوئی، گندم کی خریداری نہ کرنا بھی سندھ حکومت کی سنگین کوتاہی ہے۔ وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے احتساب شہزاد اکبر کے بقول سربراہِ حکومت نے انہیں حکم دیا تھا کہ جو لوگ بھی ان بحرانوں کے ذمہ دار قرار پائیں، مرتبے اور جماعتی وابستگی کی پرواہ کیے بغیر ان کے خلاف سخت اقدام کیا جائے۔

اس سال جنوری میں مصنوعی طور پر پیدا کردہ گندم کا اعصاب شکن بحران جس طرح بامر مجبوری اس کی 14 لاکھ ٹن درآمد پر منتج ہوا، اس سے ملک کا کثیر زرمبادلہ خرچ ہوا اور گندم برآمد کرنے والا ملک درآمد کرنے والوں میں شامل ہوگیا۔ اسمگلنگ چاہے گندم، چینی کی ہو یا دیگر اشیا کی، اس کا ایک بڑا نقصان قومی معیشت کے متوازی نظام چلانے کی صورت میں ملک و قوم کو 72 برس سے بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس وقت جبکہ کورونا کی وبا نے لاک ڈائون کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے، آٹے کے حصول کے لیے بعض مقامات پر اب بھی لوگوں کی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ وفاقی حکومت نے تمام تر صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے انتظامات کیے ہیں۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے جمعہ کے روز رواں سال گندم کی خریداری کا ہدف 82 لاکھ ٹن اور اس کی سرکاری قیمت خرید 1400 روپے فی من مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے جو گزشتہ برس کے مقابلہ میں 50 روپے زیادہ ہے۔ اس بات کو ایک ایسے موقع پر یقینی بنانا جب لوگوں میں کورونا وبا کا خوف پایا جاتا ہے، حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ البتہ وزیراعظم عمران خان اس سلسلے میں گزشتہ روز اس حوالے سے لاک ڈائون میں نرمی کا عندیہ دے چکے ہیں تاکہ لاکھوں کی تعداد میں زرعی مزدور طویل سفر طے کرکے گندم کی کٹائی میں حصہ لے سکیں۔ وفاقی حکومت نے ملک بھر میں گندم کی خریداری کے 1162 مراکز قائم کیے ہیں۔ تمام صوبوں کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا گیا کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کو روکنے کے لیے سخت قانونی کارروائی کرے۔ متذکرہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہوگا کہ بروقت خریداری کا عمل مکمل کرنے کے علاوہ گندم کے ذخائر ہر طرح سے محفوظ بنانے، اس کی اسمگلنگ روکنے اور افراتفری پھیلانے والے عناصر پر کڑی نظر بھی رکھی جائے۔

ہماری حکو متو ں کے دا غدا ر ما ضی کی بناء پر مو جو دہ رپورٹ کے منظر عام پر لائے جانے کے بعد کیا وزیراعظم اپنے ساتھیوں سمیت مصنوعی بحران کے تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدام کے اس عزم کو کسی لیت و لعل کے بغیر عملی جامہ پہنا کر ملک میں بلا امتیاز احتساب کی روایت قائم کریں گے ؟یہ ہے وہ ون ملین ڈا لر سوال جو ہر کسی کو شش وپنج میں مبتلا رکھے ہو ئے ہے۔ اس با رے میں قو م کو پچیس اپر یل کا بے چینی سے انتظا ر ہے۔ پچیس اپریل کی رپو رٹ وزیرِ اعظم عمران خا ن کو ہما ری قو م کا ہیرو بنا سکتی ہے، مگراسی ر پو رٹ پہ عمل کا فقدان انہیں زیر و بھی ثابت بھی ثا بت کر سکتا ہے۔ گو یا اس وقت ان کا اصل امتحا ن ہے۔ البتہ ایک با ت طے ہے ، وہ یہ کہ اگر وز یراعظم رپو رٹ کے مطا بق منصفا نہ لائحہ عمل اختیا ر کر تے ہیںتواس ملک کے مثبت جا نب بد لتے مستقبل کی امید کی جا سکتی ہے۔


ای پیپر