افغانستان:ایک صدی اور بیس سالوں کی داستان
09 اپریل 2020 2020-04-09

سویت یونین نے ستمبر 1987 ء میں اقتدارببرک کارمل سے لے کر ڈاکٹر نجیب اللہ کے حوالے کیا۔مارچ 1990 ء میں شاہ نواز تنائی نے کوشش کی کہ ڈاکٹرنجیب حکومت کا تختہ الٹ دے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔سیاسی حالات انتہا ئی خراب تھے۔ اپریل 1992 ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ سے زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا۔عبدالرحیم حاتف ملک کے نئے عبوری سربراہ نامزد کئے گئے ۔انھوں نے 16 اپریل 1992 کو عبوری صدر کا حلف لیا اور 28 اپریل تک وہ اس عہدے پر رہے۔26 اپریل 1992 کو معاہد پشاور ہوا ،جس میں صبغت اللہ مجددی کو عبوری صدر نامزد کیا گیا۔صبغت اللہ مجددی دو مہینے تک صدر رہے ۔ اس کے بعد جون 1992 میں برہان الدین ربانی نے منصب صدارت سنبھال لیا ۔ وہ دسمبر 2001 ء تک اس عہدے پر فائز رہے،لیکن جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو انھوں نے ستمبر 1996 ء میں جلاوطنی اختیار کی اور پھر نو مبر 2001 ء میں واپس افغانستان آگئے۔ سوویت یونین کے انخلا ء کے بعد مجاہدین کے درمیان حکومت سازی کے لئے صلا ح و مشورے جاری تھے ۔ گلبدین حکمتیار جون 1993 ء میں وزیر اعظم منتخب کئے گئے وہ جون 1994 ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔جون 1996 ء میں وہ دوبارہ وزیر اعظم نامزد کئے گئے اس مرتبہ وہ اگست 1997 ء تک اس منصب پر فائز رہے۔نو سال تک مجاہدین سوویت یونین کے خلاف لڑتے رہے جس کی ایک طویل داستان ہے۔ اس دوران مختلف ممالک نے کوشش کی کہ افغانوں کے درمیان صلح ہو لیکن وہ آپس میں لڑتے رہے۔حکمت یار ، احمد شاہ مسعود ،برہان الدین ربانی ،صبغت اللہ مجددی، عبدالرب سیاف ،رشید دستم سب کی کوشش تھی کہ تخت کابل پر قبضہ کریں۔مجاہدین کی آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے ملا محمد عمر نے تحریک طالبان کو منظم کیا۔انھوں نے ستمبر 1996 میں کابل پر قبضہ کیا۔ مجاہدین رہنمائوں کی اکثریت روپوش ہو گئی یا انھوں نے جلا وطنی اختیار کی۔کابل پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے ’’ امارات اسلامی ‘‘ کا اعلان کیا۔ڈاکٹر نجیب کے لاش کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ افغانستان کی تاریخ کا ایک کربناک باب ہے۔احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم نے ’’شمالی اتحاد‘‘ کے نام سے فوجی اتحاد قائم کرکے طالبان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ان کی حکومت کو تسلیم بھی کیا۔ دنیا کو ان کی طرز حکمرانی پر شدید ترین تحفظات تھے ۔

9 ستمبر 2001 کو احمد شاہ مسعود کو قتل کیا گیا اور پھر گیارہ ستمبر 2001 ء کو امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا خون ریز سانحہ ہوا۔امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس کی ذمہ داری القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور خالد شیخ محمد پر ڈال دی۔انھوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کر دیں۔ طالبان نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ ثبوت ہمیں دی جائے ہم خود ان کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن امریکا نے ان کا یہ مطالبہ مسترد کردیا اور پھر اکتوبر 2001 ء میں انھوں نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ طالبان نے مزاحمت ضرور کی لیکن آخر کار ان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

امریکا نے دسمبر 2001ء میں جرمنی میں ایک بین الاقوامی کانفر نس کاانعقاد کیا جس میں حامد کر زئی کو عبوری انتظامیہ کا سربراہ نامزد کیا گیا۔وہ 22 دسمبر 2001ء سے جولائی 2002 تک اس منصب پر فائز رہے۔2004 ء اور 2009 کے صدارتی انتخابات میں انھوں نے کامیابی حاصل کی اور 2014 ء تک وہ افغانستان کے حکمران رہے۔ حامد کرزئی کے پورے دور حکومت میں امریکا اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری رہی۔ پورا ملک شدید ترین بدامنی ،دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ 2014 ء کے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ مدمقابل تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن امریکی مداخلت پر نئی حکومت تشکیل دی گئی ۔ڈاکٹر اشرف غنی صدر جبکہ ڈاکٹر عبداللہ چیف ایگزیکٹیو منتخب ہوئے۔2018 ء میں امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے حامی بھری ،جس کی وجہ سے اپریل 2019ء میں صدارتی انتخابات کو دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا ۔پھر جب انتخابات ہوئے تو نتائج میں کئی مہینے تاخیر کی گئی لیکن جب نتائج کا اعلان کیا گیا تو ڈاکٹر عبداللہ نے ایک مرتبہ پھر نتائج ماننے سے انکار کیا۔ 29 فروری 2020 ء کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہو ا لیکن اس کے چند روز بعد 9 مارچ کو ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ دونوں نے الگ الگ صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جبکہ طالبان نے بھی اعلان کیا کہ ان کی اسلامی امارات قائم ہے اس لئے ملا ہیبت اللہ اب بھی امیر المومینن ہیں۔موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت افغانستان پر دو صدر اور ایک امیر المومنین حکمران ہے جبکہ حکمت یار، رشید دوستم اور عبدالرب سیاف بھی تیار بیٹھے ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی کو بھی یقین ہے کہ اگر افغانستان میں قیام امن کے لئے کوئی عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی تو امریکا اس کی سربراہی ان ہی کے سپرد کریگا۔صورت حال اب بھی خراب ہے آپس میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے امریکا نے افغانستان کی امداد میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ فروری میں معاہدے کے بعد کابل نے طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کرنے تھے ابھی تک ان کی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنے کی وجہ سے بین الافغان مذاکرت بھی تا خیر کا شکار ہو گئے ہیں۔افغانوں کی آپس میں نا اتفاقی کی وجہ سے امریکا نے اس سال ان کی امداد میں کمی کا اعلان کیا ہے جبکہ دھمکی دی ہے کہ اگر آپس میں متفق نہ ہوئے تو اگلے سال امداد میں مزید کمی کی جائے گی۔قیدیوں کی رہائی پر پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے طالبان نے کابل حکومت کے ساتھ مزید بات چیت بھی روک دی ہے۔

گزشتہ ایک سو بیس سالوں کا سبق یہی ہے کہ افغانستان میں طویل مدت کے لئے نہ کبھی امن قائم ہوا ہے اور نہ وہاں سیاسی استحکام کا قیام ممکن ہوسکابلکہ زیادہ تر افغان آپس میں حکمرانی کے لئے لڑتے رہے ہیں جبکہ دومرتبہ بیرونی حملہ آوروں سوویت یونین اور امریکا کے ساتھ بھی وہ لڑتے رہے ۔


ای پیپر