09 اپریل 2020 2020-04-09

کون نہیں جانتا تھا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کی دوستی کتنی گہری تھی۔اور پی ٹی آئی کی حکومت بنانے میں جہانگیر ترین نے سب سے اہم کردار ادا کیا لیکن یہ انسانی فطرت ہے کہ جب انسان کو نئے دوست مل جاتے ہیں تو وہ پرانے دوستوں کو یا تو بھول جاتا ہے یا پھر اُن کو وقت نہیں دے پاتافطرتا انسان تبدیلی کی تلاش میں رہتا ہے۔جہانگیر ترین کو ایک لمبی پلاننگ کے تحت سیاست سے الگ کیا گیا اور پھر حکومت میں جو اُن کا کردار تھا آہستہ آہستہ اُن کو وہاں سے بھی فارغ کر دیا گیا۔یہ ایک تلخ حقیت ہے۔

جہانگیر ترین ایک قد آور شخصیت ہیں ہم تمام صحافی اور کالم نگار وہ نہیں جانتے جو جہانگیر ترین جانتے ہیں کہ اُن کے خلاف 2017 میں کس نے سازش کی 2018میں لندن پلان اُن کے خلاف کیوں بنا؟ اور کس کے کہنے پر بنا اُس میں کیا طے کیا گیا؟اُس لندن پلان میں جہانگیر ترین کو کس طرح حکومت اور عمران خان سے دور کرنا ہے اس کی تیاری کی گئی۔2019میں جہانگیر ترین اور دیگر ملز کو سبسڈی دی گئی اور پھر خود ہی اُس کی رپورٹ بنوا کر 2020میں پبلک کر دی گئی اور اُسی دوست نے اپنے گہرے دوست کو سکینڈلائیز کر دیا۔

جہانگیر ترین صاحب ان تمام سازشوں سے بخوبی واقف تھے اور میری معلومات کے مطابق انہوں نے اس بات کا شکوہ اپنے دوست محترم عمران خان سے بھی کیا مگر سازشی بہت ہوشیار اور تیاری کے ساتھ تھے اس لیے جہانگیر ترین اس سازش سے نہ بچ سکے۔ہمارے پنجاب میں ایک مشہور بات ہے کہ جب گائوں کے چوہدری نے کسی دوسرے گائوں کے چوہدری کو ذلیل کرنا ہوتا ہے تو وہ خود نہیں کرتا بلکہ وہ ایک مراثی کی ڈیوٹی لگاتا ہے کہ فلاں چوہدری کو ذلیل کرنا شروع کر دو پھر مراثی اُس چوہدری کا ایسا ڈرامہ لگاتا ہے اوراُسے ذلیل و خوار کرتا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے مگر دوسرا چوہدری سمجھ جاتا ہے کہ مراثی کس کے کہنے پر یہ ڈرامہ لگا رہا ہے یہاں پر بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

عمران خان صاحب بھی جہانگیر ترین کو نیچا دکھانے کے لیے ایک ایسے ہی بندے سے ٹویٹ کروا دیا کہ جہانگیر ترین کو سمجھ آجائے کہ اُن کا دوست اب کیا چاہتا ہے ۔میری نظر میں جہانگیر ترین کو براہ راست اُس ٹویٹ کا جواب نہیں دینا چاہیے تھا بلکہ صرف اپنی صفائی میں ہی ٹویٹ کر دیتے تو بہتر تھا۔اب یہاں پر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو بظاہر تو حکومت کے ساتھ ہیں لیکن حکومت کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو الیکٹیڈ نہیں بلکہ سلیکٹیڈ ہیں۔ یہ سلیکٹیڈ لوگ پوری طر ح وزیراعظم کو قابو میں کیے ہوئے ہیںوہ اصل حقائق بھی وزیراعظم تک نہیں جانے دیتے۔اور وزیراعظم کو جو بات بتاتے ہیں وہی وہ نیشنل ٹی وی پہ بیٹھ کر کہہ دیتے ہیںچاہے اس بات کا وجود ہی نہ ہو۔انہی سلیکٹیڈ لوگوں نے حامد خان جیسے پرانے ساتھی کو پارٹی سے نکلوا دیا ۔ایڈمرل جاوید اقبال جو کہ کئی سال تک پی ٹی آئی کے مرکزی صدر رہے وہ ایک بات کہا کرتے تھے کہ خان صاحب جب ماتھے پہ آنکھیں رکھتے ہیں تو زیادہ وقت نہیں لگاتے اس بات میں کتنی صداقت ہے یہ تو وقت بتاتا جا رہا ہے۔ جہانگیر ترین کے لیے ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا جس سے وہ چاہتے ہوئے بھی نہ بچ سکے۔اب جہانگیر ترین کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے کیونکہ اب اُن کے دوست کو ان کے جہا ز کی ضرورت نہیں،اب ان کے دوست کو ان کے پیسے کی ضرورت نہیں۔تھوڑا سا یاد کریں2014میں 126دن کا دھرنا بھی جہانگیر ترین کی مالی امداد کے بغیر ممکن نہ تھا۔جبکہ اُس وقت جاوید ہاشمی یہ کہہ رہا تھے کہ دھرنا ناکام ہوگا جسکی وجہ سے وہ اُس وقت ناراض ہو کر الگ ہو گئے۔

جہانگیر ترین کو اُن کے دوست سے الگ کرنے میں ان کے سیاسی حریفوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔جہانگیر ترین نے اکیلے پارٹی کو کو فنڈ نہیں دیا بلکہ بہت سے ایم این ایز کو بھی جانتی ہوں جن کو الیکشن لڑنے کے لیے مالی مدد کی لیکن اب جہانگیر ترین سے بھی زیادہ امیر اور طاقتور لوگ وزیر اعظم صاحب کے دوست ہیںاُن کی ایک آواز پر کروڑوں خرچ کرنے کو تیار بھی ہیں اور انہی لوگوں کے پاس بڑے بڑے عہدے اور مشاورت بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹیز کے ایم این ایز سلیکٹیڈ لوگوں کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب سے ایک ملاقات ہی کروا دیں۔یعنی سلیکٹیڈ لوگوں نے الیکٹیڈ لوگوں کو ہی دور کر دیا۔اب یہی سلیکٹیڈ لوگ ہی وزیراعظم کی آنکھ کا تارا ہیں وہ وہی کچھ دیکھ اور کر رہے ہیں جو یہ سلیکٹیڈ لوگ وزیراعظم کو دکھا، یا کہہ رہے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہانگیر ترین کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟کیونکہ اب ان کا وہ دوست ان کے ہاتھ سے نکل کر کسی اور کے ہاتھ چلا گیا ہے۔کہتے ہیں کہ کاری گر جو عمارت بناتا ہے اُس کی پہلی اینٹ اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے تو اسے سب علم ہوتا ہے کہ عمارت کس جگہ سے کمزور ہو گی تو مسمار ہو سکتی ہے کیونکہ جو عمارت کھڑی کر سکتا ہے وہ اُسے آسانی سے گرا بھی سکتا ہے اور جہاں تک جہانگیر ترین صاحب کو میں جانتی ہوں تو وہ حکومت گرانے کی ایک فیصد بھی کوشش نہیں کریں گے۔2023سے پہلے کون سی جماعت سامنے آتی ہے یا پھر کسی پرانی جماعت کے اُبھرنے کے چانسسز زیادہ ہونگے تو یہ دوست بڑی آسانی سے وہاں شفٹ ہوجائیں گے۔یعنی سلیکٹیڈ لوگوں باقی رہیں گے کیوں وہ عوام کو جواب دہ ہیں لیکن الیکٹیڈ لوگوں واپس اپنے اپنے ملک یا پھر اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہو جائیں گے لیکن اب وہ دوست دوست نہیں رہے گا۔


ای پیپر