کورونا: معیشت اور عوام پر اثرات!
09 اپریل 2020 2020-04-09

کورونا وائرس 2019 نے پوری دنیا ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ افراد‘ خاندان‘ قبیلے اور ملک سب بدل گئے ہیں۔ جو کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں تھا‘ ہو رہا ہے اور وہ جسے چھوڑے جانے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا‘ ایسا چھٹا ہے کہ اب محض یادماضی بن کر رہ گیا ہے۔ یہ دنیا اتنی تیزی سے بدل جائے گی‘ کسی کو گمان بھی نہیں تھا۔

وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باسی

اپنے سجدوں سے گئے‘ رزق کمانے سے گئے

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو

وہ قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

پوری دنیا پر تکبر و نخوت کے ساتھ حکمرانی کرنے والے بے بس ہو گئے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں زمیں بوس ہونے کو ہیں‘ انسانی آنکھ سے نظر بھی نہ آنے والے اس جرثومے نے سائنس والوں کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ لوگوں کی زندگیاں بچانے والے خود موت کا نوالہ بن رہے ہیں۔ لوگ اپنے چاند جیسے معصوموں کو گلے لگا سکتے ہیں نہ آگے بڑھ کر بزرگوں کی قدم بوسی کر سکتے ہیں۔ چھ‘ چھ ماہ تک غسل نہ کرنے والے لوگ اور ٹشو پیپر پر زندگی گزارنے والی اقوام دن میں دس‘ دس بار ہینڈ واش کر رہی ہیں‘ مساجد پر تالے پڑ گئے ہیں‘ کلیسائوں میں ہو کا عالم ہے‘ مندروں کی گھنٹیاں خاموش ہیں اور گورداروں کے بھجن بے کیف ہو گئے ہیں۔ قطب شمالی و جنوبی کے برفیلے علاقوں‘ افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں‘ یورپ کی چکا چوند روشنیوں‘ ساحل سمندر کی مربوط ہوائوں‘ ہمالیہ کی ترائیوں اور سندر بن کے گھنے جنگلوں میں موت کا خوف طاری ہے۔ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے روحانی مراکز حرم کعبہ اور روضۂ رسولؐ خالی کرا لیے گئے ہیں‘ عیسائیت کا مرکز ویٹی کن سٹی اور یہودیت کا روحانی منبع دیوار گریہ بند ہیں‘ کاروبار ختم‘ کارخانے بند‘ دفاتر کو تالے‘ تعلیمی اداروں میں جبری چھٹیاں‘ زمینی‘ فضائی اور سمندری سفرمحدود‘ دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینجز زمین بوس‘اورائر لائنز دیوالیہ ہوچکیں‘ تیل کی قیمتیں نصف سے بھی کم سطح پر آگئیں۔ لاس ویگاس کے جوئے خانے‘ ایمبسٹرڈیم میں جسم فروشی کے بازار اور دنیا کے نائٹ کلب بند پڑے ہیں۔ امریکہ اور جاپان جیسے ممالک سود کے خاتمہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ امریکی اسلحہ کے خریدار اور چین کی کنزیومنر مارکیٹ کے تجاتی مافیا خود قرنطینہ میں ہیں۔ دنیا کے 190 سے زائد ممالک میں لاک ڈائون ہے۔ روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا خوف کے سائے مزید گہرے کر رہا ہے۔ حقیقت میں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا‘ کوئی اسے قہر خداوندی قرار دے رہا ہے‘ کوئی احکام خداوندی سے بغاوت کا شاخسانہ کہہ رہا ہے‘ کوئی بے بس کشمیریوں کے 246 دنوں کے لاک ڈائون کی سزا کہہ رہا ہے‘ کچھ لوگ عالمی معیشت پر قبضے کی نئی چال اور کچھ اسے کیمیائی یا حیاتیاتی حملہ کہتے ہیں۔ ایک عام مسلمان کے مطابق یہ انسانوں اور انسانی معاشروں کی بداعمالیوں

پر اللہ کی پکڑ ہے اور مادی دنیا اس کے سائنسی جواز تلاش کرتی پھر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس وائرس کے بعد کیا ہونے جارہا ہے کیا ایک نئی دنیا وجود میں آجائے گی یا ایک بدلی ہوئی دنیا ہماری منتظر ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ اگلے دو‘ تین ماہ میں ایک بدلی ہوئی دنیا ہمارے سامنے ہوگی‘ شاید زیادہ مشکلات میں گھری ہوئی دنیا۔ آج پوری دنیا جوکورونا کے باعث بے پناہ مالی نقصان سے دوچار ہے اپنی اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ایک نئی اور بڑی معاشی جنگ میں الجھ جائے گی‘ وسائل پر قبضے کا رجحان شاید مزید بڑھ جائے۔ پاکستان جیسے ملک میں‘ جہاں وسائل محدود‘ مشکلات لامحدود‘ گورننس کے معاملات مشکوک اور ویژن کا فقدان پہلے ہی موجود تھا‘ کورونا حملے کے مابعد اثرات ہمیں مزید بے حال کر سکتے ہیں۔ اس وقت ہماری صورت حال یہ ہے کہ وزیراعظم یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنی تقریر اور خطاب کے ذریعے وائرس اور حالات دونوں پر قابو پا لیں گے‘ اس سنگین صورت حال میں بھی حکومت نے نہ تو اپوزیشن سے کوئی مشاورت کی اور نہ ہی اسے اعتماد میں لینا ضروری سمجھا ہے۔ جو جماعتیں ریلیف کا کام کرکے اصل میں حکومت کا بوجھ بٹا رہی ہیں‘ حکومت نے ان سے بھی کسی طرح کے رابطے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ سوچ اور طرز عمل مسائل کے حل میں کارگر نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف حکومت یہ اعلانات کر رہی ہے کہ وائرس پر قابو پانے اور غریب عوام کو ریلیف دینے کے لیے وہ انقلابی پالیسیاں بنا رہی ہے دوسری جانب اخبارات‘ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ان اطلاعات سے بھرا پڑا ہے کہ دونوں میدانوں میں کوئی کام نظر نہیں آرہا۔ لوگ امدادی پییکج کے لیے پریشان پھر رہے ہیں‘کئی ہفتوں سے قید غریب‘ متوسط اور سفید پوش افراد کے گھروں کا راشن ختم ہو چکا ہے‘ دیہاڑی دار لوگ فاقوں پر آگئے ہیں۔ ان بے چاروں کا کوئی ڈیٹابھی حکومت کے پاس نہیں‘ ان تک امدادی سامان کس طرح پہنچے گا؟ حکومت نے تاحال نجی اداروں اور صنعتوں کو اس بات کا پابند نہیں کیا کہ وہ کم از کم رواں ماہ کی تنخواہ ہی اپنے ملازمین کو ادا کردیں۔ یہ الگ بات کہ نجی اداروں اور صنعتوں کے نصف سے زائد ملازمین کا تو ان اداروں کے ریکارڈ اور کھاتوں میں اندراج ہی نہیں اور خود حکومت کے پاس بھی ان کی کوئی رجسٹریشن نہیں‘ ان تک امدادی سامان کون اور کیسے پہنچائے گا؟ جبکہ حکومت اس معاملے میں نجی اداروں یا صنعتوں کا کسی طرح سے ہاتھ بٹانے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔ دوسری جانب حکومت اربوں روپے کے یہ پیکج کس طرح دے پائے گی ‘ غیر ملکی ترسیل زر کی شرح بھی صفر ہے‘ تین ماہ تک تو یوٹیلٹی بلز جمع نہ کرانے کی سہولت بھی دے دی گئی ہے‘ انکم ٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں کی وصولی بھی فطری طور پر متاثر ہو گی۔ معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ زندگی معمول پر آجانے کے بعد اشیاء اور سروسز کی قیمتوں میں اضافہ اور معاوضوں میں کمی ہوجائے گی۔ کچھ ادارے اور صنعتیں شاید دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑی ہی نہ ہوسکیں اس طرح بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے ۔ جن عام لوگوں کے تین تین ماہ کے یوٹیلٹی بلز اکٹھے ہو جائیں گے‘ وہ انہیں کہاںسے ادا کرا پائیںگے۔ بچوں کی تین‘ تین ماہ کی تعلیمی فیسیں کہاں سے لائیں گے‘ کرایہ دار لوگ کرایہ کس طرح ادا کریں گے؟ اس لیے ضروری ہے کہ ان عملی مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے حکومت کوئی جامع پالیسی بنائے۔ ہماری نظر میں حکومت ایک سال کے لیے یوٹیلٹی بلز کی ایک خاص شرح مکمل معاف کر دے۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر اشیائے خورونوش کی قیمتیں نصف کر دے اس طرح یوٹیلٹی اسٹورز بھی فعال ہوجائیں گے۔ اور ان کی سپلائی اور ڈیمانڈ بڑھنے سے وہاں مزید روزگار کے مواقع نکل آئیں گے۔ نجی صنعتی و تجارتی اداروں کو پابند کرے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے سستے ماہانہ راشن کا بندوبست کریں جب کہ دیہاڑی دار مزدوروں کی باقاعدہ رجسٹریشن کرکے ان تک راشن پہنچائے اور مالکان جائداد کو دکانوں اور مکانوں کا کرایہ کم کرنے یا دو ماہ کا کرایہ نہ لینے کا پابند کرے۔ اگر حکومت یہ اقدامات کر لے تو نہ صرف ہم موجودہ بحران سے نکل آئیں گے بلکہ آئندہ بھی کسی ایمرجنسی کی صورت میںیہ ڈیٹا کام آسکے گا۔


ای پیپر