پاکستان کے شوگر کا رٹل۔ ایک متوازی سلطنت
09 اپریل 2020 2020-04-09

پاکستان کے شوگر کارٹل کودیکھ کر ہمیں کولمبیا کے بد نام زمانہ ڈرگ کا رٹل بڑی شدت سے یاد آتے ہیں۔ گزشتہ سال امریکہ کی ایک عدالت نے کولمبیا کے سب سے بڑے ڈرگ لارڈ EI Chappoکو30سال قید اور 12بلین ڈالر جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ EI Chappo اس سے قبل تین دفعہ جیل سے فرارہوچکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنی دیر اور جیل میں رہتا ہے۔ اس سے پہلے اس سے بھی بڑا ڈرگ لارڈ Eschobarبھی کو لمبیا سے ہی تھا جو ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ وہ ہر دفعہ جیل سے فرار ہوجاتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ دنیا کی کوئی جیل اسے زیادہ عرصہ قید نہیں رکھ سکتی۔ یہ ڈرگ لارڈ اپنے راستے میں آنے والے ہر جج اور پولیس آفیسر کو قتل کروا دیتے تھے اور ایک متوازی حکومت چلاتے تھے۔

ہمارے شوگر لارڈ کولمبیا والوں سے زیادہ سمجھدار ہیں وہ جان کا رسک نہیں لیتے اور نہ ہی جیل جاتے ہیں۔ انہیں کسی جج یا پولیس آفیسر کو قتل کرنے کی نوبت نہیں آتی کیونکہ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ اپنے کاروباری تحفظ کیلئے سیاست میں آجاتے ہیں، وزیر بنتے ہیں اور اعلیٰ ترین ہائی پاور کمیٹی اکنامک کو آرڈینیشن کمیٹی (ECC) تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جہاں وہ اپنے لئے خود یہ قانون بناتے ہیں، خود یہ سبسڈی منظور کرتے ہیںاور خود یہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں 90کے قریب شوگر ملیں ہیں جن کیلئے 65فیصد گنا پنجاب ،25فیصد سندھ اور 10فیصد پختونخواہ میں پیدا ہوتا ہے۔ ان شوگر ملوں کے مالکان میں 50فیصد سے زیادہ تعداد سیاستدانوں کی ہے جن کا تعلق پاکستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں سے ہے جن میں جہانگیر ترین، شریف خاندان ، آصف زرداری، چوہدری برادران ، ہمایوں اختر خان اور بہت سے نام شامل ہیں۔ یہ سیاست میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں مگر سب نے مل کر شوگر ملز ایسوسی ایشن بنائی ہوئی ہیں جہاں یہ مل جل کر مشترکہ مفادات کا تحفظ کرتے ہیں تاکہ عوام کے استحصال کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس نظام میں سب سے بڑا ظلم گنے کے کا شتکار کے ساتھ ہو رہا ہے۔

ایک لمحے کیلئے غور کریں کہ پاکستان میں جب چینی کی قیمت 45روپے کلو تھی تو شوگر مل کسانوں سے 180روپے فی من کے حساب سے گنا خریدتی تھیں اس وقت چینی کی قیمت 85روپے کلو ہے تو شوگر مل کسانوں سے 190روپے کے حساب سے سرکاری ریٹ پر گنا خرید رہی ہیں اس میں ہیرا پھیری یہ ہوتی ہے کہ جان بوجھ کر کر شنگ سیزن تاخیر سے شروع کرنا، رقم کی ادائیگی میں تاخیر وزن میں کٹوتی جیسے ہتھکنڈے شامل ہیں۔

اس طویل پس منظر کے بعد اب ایف آئی اے کی شوگر اور گندم بحران پر تیار کی گئی رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین اور سبسڈی وصول کرنے والوں کے نام

کے افشاء کے بعد پورے ملک میں ہیجان کی کیفیت ہے کہ کس طرح ملی بھگت سے اس بہتی گنگا میں کس کس نے ہاتھ دھوئے اور کس کو کتنا حصہ ملا۔ یہ رپورٹ عملاً اتنی اہمیت نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کے کوئی ریڈیکل نتائج آنے والے ہیں۔ صرف میڈیا میں ایک Hype تخلیق کی گئی ہے جو چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی۔ اگر یہ رپورٹ کسی مغربی ملک کی اصلی جمہوریت والے ملک میں ریلیز ہوتی تو اب تک اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے والوں کی قطاریں لگ جاتیں مگر یہاں کچھ نہیں ہونے جا رہا۔

اس رپورٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اصل ذمہ دار سرکاری افسروں کو قرار دیا گیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکومتی سبسڈی حاصل کرنا پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی جرم نہیں ہے۔ اگر اعتراض ہے تو حکومت یہ سبسڈی ختم کر سکتی ہے اور اگر بہت بڑا قیامت خیز ایکشن لینا چاہے تو شوگر ملوں کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ ناجائز طور پر حاصل کی جانے والی سبسڈی واپس کر کے پھر سے ڈرائی کلین ہو جائیں۔

ایک اور نقطہ جس پر حکومت بہت زیادہ کریڈٹ کلیم کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ وزیراعظم نے ملکی تاریخ میں پہلی بار وزراء کے خلاف رپورٹ پبلک کی ہے (حالانکہ کسی کو ابھی سزا نہیں ہوئی) انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک برسر اقتدار وزیراعظم کو ڈس مس کرنا اور عدالت کی طرف سے سزا سنانا اس سے بڑا اقدام تھا۔ اگر عمران خان رپورٹ پر کریڈٹ دینا چاہتے ہوں تو یہ کریڈٹ بیوروکریسی کو جاتا ہے۔ جہاں تک رپورٹ کو نہ دبانے کا کارنامہ ہے تو اس کے بارے میں بھی دو باتیں چل رہی ہیں۔ حکومت کو یہ رپورٹ مجبوراً پبلک کرنا پڑی کیونکہ رپورٹ کے مندرجات کچھ چینلز کے پاس پہنچ چکے تھے اور حکومت کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اسے چھپایا جائے۔ ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ یہ حکمران پارٹی کے اندر محلاتی سازشوں کا شاخسانہ ہے وقت آ گیا ہے کہ پارٹی کے اندر ’بھل صفائی‘ کا عمل مکمل کیا جا سکے جیسا کہ پہلے علیم خان صاحب کی رخصتی ہو چکی ہے۔

جمہوری حکومت کے اندر مشترکہ ذمہ داری کا اصول دنیا بھر میں رائج ہے جہاں ایک وزیر کی غلطی ساری حکومت کی غلطی شمار کی جاتی ہے لہٰذاوزیراعظم بذات خود اپنی وزارتی ٹیم کے اعمال صالح وغیر صالح کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہ کیس ن لیگ کے پانامہ سکینڈل سے کسی طرح کم نہیں ہے مگر ہمارے ہاں چونکہ جمہوری روایات کا نام ونشان نہیں ہے اس لئے اس پر امیدیں لگانا رجائیت پسندی سے زیادہ کچھ نہیں۔

شوگر ملوں کے فروغ کا ملک کو نقصان یہ ہوا ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر ٹیکسٹائل ایکسپورٹنگ ملک تھا جہاں سالانہ 15ملین گانٹھ کپاس پیدا ہوتی تھی جو اب کم ہوتے ہوتے 10ملین رہ گئی ہے یہ ہماری انڈسٹری کا خام مال تھا جس سے کپڑا بنتا تھا جو زرمبادلہ کا سب بڑا ذریعہ تھا شوگر ملوں کی وجہ سے گنے کی کاشت بڑھتی گئی اور پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری خام مال نہ ہونے کی وجہ سے کمزور ہوئی ۔اگر ملک میں کا ٹن کی کاشت کو فروغ دیا جائے تو ہماری ایکسپورٹ کو 25سے 30بلین ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے

شوگر مل مافیا کا راستہ روکنے کیلئے ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حکومت ملک میں سمال انڈسٹری کو فروغ دے اور کسانوں کوایسا in-putمہیا کیا جائے کہ وہ اپنے گنے کی کرشنگ چھوٹے پیمانے پر خود کر سکیں پرانے زمانے میں اس کیلئے بیلناہوتا تھا جسے بیلوں کی جوڑی کے ذریعے رس نکالاجاتا تھا۔ اس سے گنے کا رس ڈرموں میں سٹور ہوجائے تو یہ خراب نہیں ہوتا نہ اسے کولڈ سٹوریج کی ضرورت ہے۔ اس نئے شعبے کو کھڑا کرنے سے شوگر مل کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔ گنے کا چھلکا جو ایندھن کا بہترین ذریعہ ہے وہ کسان کو مفت مل جائے گا اورشوگر کا بنیادی خام مال یعنی شوگر کین جوس مہنگے داموں فروخت ہو گا جس کا فائدہ شوگر مل کی بجائے کسان کو ہوگا۔ کوئی حکومت اپنی صفوں میں موجود شوگر شارک مچھلیوں کی موجودگی اور مفادات کے ٹکرائو کی وجہ سے اس جانب نہیں سو چتی۔


ای پیپر