تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
09 اپریل 2020 2020-04-09

وزیر اعظم پاکستان کی کورونا سے لڑائی اپنی جگہ تاہم وہ ایک اور جنگ لڑنے کا وعدہ 22 سال سے کر رہے ہیں۔ بد عنوان عناصر سے جنگ کا عزم اور وعدہ ان کو ضرور یاد ہو گا۔ پاکستان میں نظام حکومت تو دہاہیوں سے چل رہا ہے اور آپ کی اب تک کی حکمرانی سے بہتر ہی چل رہا تھا۔ عوام نے تو آپ کو نظام میں تبدیلی لانے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ باقی مینڈیٹ اور سازوسامان آپ نے اپنی سیاسی بصیرت اور شخصی قابلیت سے خود تراشنا تھا۔ آپ تو نظام حکومت ہی صحیح طرح نہیں چلا پا رہے ہیں۔ تبدیلی کے بارے میں تو پڑھے لکھے لوگوں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ آج کے حالات میں لفظ تبدیلی ایک معاشرتی چھیڑ بن کر رہ گیا ہے۔

کابینہ میں جو ردو بدل ایف آئی اے کی رپورٹ آ جانے کے بعد وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے وہ حکومت کی سیاسی مجبوری اور انتظامی کمزوری دونوں کا برملا اظہار ہے۔ یہ آٹے اور چینی کا بحران مالی لحاظ سے اتنا بڑا نہیں تھا لیکن اس نے سیاسی ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تحریک انصاف کی قمیص کمر سے پھٹ گئی ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی کنڈ ننگی ہو گئی ہے ابھی لگی نہیں ہے۔ شہباز شریف بھی اگر سوچیں تو ان کی تو پتلون پہلے ہی ڈھیلی تھی اب تو لگتا ہے کہ گریبان بھی پھٹ گیا ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی چپ سادھ لی ہے۔ اچھا ہوا مریم نواز پہلے سے چپ ہیں کچھ کہنا نہیں پڑے گا۔ خسرو بختیار کو بھی آٹے میں گھاٹے کا سودا لگ رہا ہے۔

جہانگیرترین کا برملا اظہار کرنا کہ ان کے عمران سے اب پہلے جیسے تعلقات نہیں ہیں پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ تاہم جانگیرترین صاحب نے اعظم خان، اسد عمر اور عثمان بزدار کا ذکر کرکے چھوٹے قد کا مظاہرہ کیا ہے۔ میری ذاتی رائے میں جہانگیر ترین کو صرف ایک بات کرنے کی ضرورت تھی کہ وزیراعظم کو بیوروکریسی کے چکر سے نکلنا ہوگا۔ ان کا یہ کہنا کہ چینی کی رپورٹ لکھنے والوں کو مارکیٹ کا پتہ ہی نہیں ہے اور پھر نظریات پر پارٹی کے اندر شخصیات سے اختلافات ہونے کا اس موقع پر اظہار کرنا ان کی شخصیت اور سیاسی قد سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ جہانگیر ترین صاحب کی لب کشائی مستقبل میں فاصلوں کے بڑھنے کی نوید سنا رہی ہے۔ شیخ رشید صاحب نے بھی تبدیلی کی بات کرکے جلتی پر تیل ڈال دیا ہے۔ ایک بات عیاں ہی کہ سیاستدان اور بیوروکریسی سب ساتھ ملے ہوئے تھے۔ وزیراعظم کے اردگرد بیٹھے لوگ خود ان کو قوم کے سامنے شرمسار کر رہے تھے۔ جن لوگوں نے ساتھ بیٹھ کر چوری کی ہے ان سے اخلاقی بائیکاٹ اور سیاسی لاتعلقی تو بنتی ہے۔ کیا تمام پارٹیاں اپنے ان ارکان کی پارٹی رکنیت ختم کر دیں گی؟ مجھے تو لگتا ہے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ یہ میرا پیارا پاکستان ہے یہاں انصاف قانون اور اخلاقیات سب میں سیاست ہوتی ہے۔

غریب آدمی یہ جانتا ہے کہ دسمبر 2018ء میں چینی کی فی کلو قیمت 55 روپے تھی۔ جنوری سے جون 2019ء تک نہ ہی گنے کی سپورٹ قیمت میں کوئی اضافہ ہوا اور نہ ہی سیلز ٹیکس لگایا گیا۔ اس دوران چینی کی فی کلو قیمت میں ایکس مل 12روپے اور رٹیل میں سولہ روپے اضافہ ہوا۔ اس بہتی گنگا میں تمام مل مالکان نے ہاتھ دھوئے۔ آٹے اور چینی کا بحران، اس سے حاصل منافع، حکومتی شرمندگی، اور غریب کا خون پسینہ ان سب چیزوں کا حساب اللہ کے علاوہ اس وقت کے حکمران نے ہی لینا ہوتا ہے۔ طلب اور رسد کا جو خلا آیا تھا وہ منصوبہ بندی اور دور اندیشی کی نفی کرتا ہے۔ اس کے ذمہ داروں کو انتظامی اور قانونی دونوں سزائیں ملنی چاہئیں۔

ہماری عدالتوں کی نظر میں غریب کے انصاف کا کیا معیار ہے وہ معزز جج صاحبان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہے۔ تاہم غریبی کا جو مذاق اس بحران میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اڑایا گیا اس کے لئے انسانیت تاریخ میں ہمیشہ شرمندہ رہے گی۔ اس شرمندگی اور بے بسی کا احساس اس دوران میں نے کم از کم دو دفعہ وزیراعظم صاحب کے چہرے پر بھی دیکھا تھا۔

جناب چیف جسٹس صاحب آپ بھی اس بارے میں سوچیں۔ اب تو وزیراعظم نے بھی کورونا سے لمبی جنگ کی خوشخبری سنا دی ہے۔ اگر کسی شخص یا ادارے کے کسی عمل سے غریب عوام کو منافع خوروں سے کورونا زدہ حالات میں نجات ملتی ہے تو کیا یہ غریب عوام کا حق اور ریاست کے ستونوں کا فرض نہیں ہے؟

اس پورے معاملے اور اس سے جڑے اثرات کا سب سے اہم پہلو اخلاقی ہے۔ یہ عمران خان کی شخصیت اور پارٹی کی بچی کچی ساکھ کا امتحان بھی ہے۔ اگر حکومت اس پر خاموشی اختیار کرتی ہے یا پھر نیب کے ذریعے معاملے کو طول دیتی ہے تو یہ ہمارے وزیراعظم کی شفافیت اور انصاف پر ان کی آخری خود کش یلغار ہو گی۔

میری ذاتی رائے میں وزیراعظم صاحب کا کورونا سے بچنے اور مافیا سے لڑنے کا وقت آگیا ہے۔ جتنی تاخیر اب ہوئی اتنی ہی یہ جنگ مشکل ہوتی جائے گی۔ انتظامی فیصلوں میں نا اہلی، دیر اور کوتاہی پر کیا اس ملک کی بیوروکریسی کو کوئی سزا نہیں ملے گی؟ اگر وزیراعظم صاحب نے عوام کو نظر آنے والا انصاف دیا تو شاید سیاسی طور پر کچھ کمزوریاں محسوس کریں تاہم اخلاقی اور انتظامی طور پر زیادہ مضبوط ہونے کے امکانات ہیں۔ سیاسی کمزوریاں ہمیشہ وقتی ثابت ہوتی ہیں۔

جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش ہے کہ وزیراعظم کے ٹویٹ اور کابینہ میں ردو بدل کے بعد ان کی مدد کریں۔ جب تک فرانزک رپورٹ نہیں آتی ہے ایک بینچ غریب عوام کے لیے بھی تشکیل دے دیں اور ایک ماہ کے اندر غریب کو فیصلہ بھی سنائیں۔ رقم 25 یا سو ارب ہو معنی نہیں رکھتی ہے۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ کو روایتی انصاف کو بالائے طاق رکھ کر کے عقل و فہم پر فوری فیصلہ دینے کی ضرورت ہے۔ انتظامی اور عدالتی نظام میں ایک تیزی نظر آنی چاہیے تاکہ مہنگائی اور کورونا زدہ اس عوام کو اگر ریلیف نہیں تو امید ضرور نظر آئے۔

کپتان صاحب آپ اکیلے ہوتے جارہے ہیں۔ اپنی ٹیم کو اکٹھا کریں اور اپنی پارٹی کو سنبھالیں۔ کیا سوچ لیا ہے کہ یہ آخری باری ہے جب تک اور جیسی بھی چل گی؟ تیتر کے دو آگے تیتر، تیتر کے دو پیچھے تیتر۔ ان تیتروں کو تتر بتر نہ ہونے دیں۔ اس سے پہلے کہ وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے آپ پاکستان تحریک انصاف کو ایک کورونا غسل دیں۔

وزیراعظم صاحب اگر 2018ء کے انتخابات درست تھے تو آپ کے پاس ناکامی کا آپشن ہی موجود نہیں ہے۔ آپ کی ناکامی میں اس امید کا قتل ہے جو قوم نے آپ سے لگا رکھی ہے۔ پاکستان پیچھے جانا برداشت نہیں کرسکتا۔ کامیابی ملنے میں جتنا بھی وقت لگے مگر ناکامی کا سوچنا بھی گناہ ہے۔عوامی عدالت بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ ابھی چابی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ غریب عوام وزیراعظم سے سوال کی جرأت تو نہیں کر سکتے تاہم ایک بات پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس پورے معاملے میں کیا پھر نیب کی ایک انکوائری ہوگی؟ مقدمات درج ہوں گے، وکیلوں کی جرح ہوگی اور تاریخیں دی جاہیں گی یا پھر انصاف ہوگا؟


ای پیپر