وبا کے دنوں میں تبدیلی
09 اپریل 2020 2020-04-09

کورونا کی وبا نے جہاں دنیا بھر کا نظام زندگی مفلوج کر رکھا ہے وہاں پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت بھی کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر کے باعث خاصی حد تک گر گیا تھا مگر اچانک آٹا چینی سکینڈل کی رپورٹ منظر عام پر آنے سے وبا کے دنوں میںتبدیلی کی ہوا کچھ ایسے چلی کہ شہر اقتدار اور ٹاک شوز کا پارہ تیزی سے بڑھ گیا اورنیم مردہ سیاست میں ایسے جان پڑی ہے جیسے آخری سانس اکھڑے سے پہلے کسی کو پھر سے زندگی کی گھٹی مل جائے۔کسی نے کہا تھا کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی،مگر مجھے تو یہ لگتا ہے کم از کم گزشتہ 10 سال سے وطن عزیز کے سیاسی منظر نامے پر کیا لکھا یا پڑھا جانا ہے، شام کو ٹاک شوز کا موضوع کیا ہونا ہے اور کس جماعت سے کیا بیان نکلوانا ہے سب کے ماسٹر مائنڈ عمران خان ہی ہیں۔ اب دیکھیں نہ جب دنیا کورونا سے بچاؤ کی تدابیر ڈھونڈ رہی ہے، کوئی احتیاطی تدابیر کر رہا ہے تو کوئی اجتماعی و انفرادی دعائیں مانگ رہاہے مگر ہم عمران خان کے اپنے ساتھیو ں سے اختلافات کی باتیں کرنے لگے ہیں ۔پورا میڈیا چیخ چیخ کر عمران خان کی انصاف پسند پالیسی کو داد دے رہا ہے اور کابینہ میں کیے جانے والے ردوبدل کے قصے بڑھا چڑھا کر سنائے جا رہے ہیں ۔ چند دن پہلے تک ہمارے تو ٹاپ اینکرز بھی ٹاک شوز میں مولانا طارق جمیل سے براہ راست کورونا سے بچاؤ کے لیے دعائیں منگوا رہے تھے کوئی اجتماعی اور انفرادی عبادت کے احکامات پر بات کر رہا تھا تو کوئی مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لئے مائیکرو بائیولوجی کے میدان میں اتر گیا تھا لیکن تبدیلی کا کمال دیکھیں خان صاحب نے ایسے مشکل وقت میں رپورٹ پبلک کروا کر اپنی مرضی کاکارڈ ایسے پھینکا کہ لوگ کورونا کو بھی بھول گئے اوریلیف پیکج کو بھی۔ملک میں آٹا و چینی بحران کی فرانزک آڈٹ رپورٹ ابھی ایف آئی اے کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی مگر 25 اپریل تک کا انتظار اس لیے ممکن نہیں تھا کہ اس وقت تک انشااللہ کورونا کی وبا ختم ہونے کا امکان موجود ہے۔سیاست میں ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے شطرنج کے پیادوں کی طرح سیاست میں بھی کسی چال کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے وقت پرکھیلی جائے۔آٹا و چینی بحران کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے باعث وزیر اعظم کے دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین نے عمران خان کے ساتھ اپنے تعلقات پہلے جیسے نہ رہنے کا انکشاف کیا ہے ۔ نعیم الحق کی وفات کے بعد وزیر اعظم کو مشورہ دینے والوں کی پوزیشن بھی تبدیل ہوئی ہے۔ عمران خان کے قریبی لوگوں کے ساتھ اختلافات کی بنیاد آج سے نہیں رکھی گئی ۔ جہانگیر ترین ، اسد عمر ، علیم خان اور شاہ محمود قریشی اینٹی لابی پہلے دن سے ہی پی ٹی آئی میں ایکٹو ہے ۔اب جب حکومت میں اس لابی کو پی ٹی آئی کور کمیٹی میں موجود لوگوں کی نااہلی یا کرپشن ثابت کرنے کے موقع ملا ہے تو وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے ۔ جہانگیر ترین اور دیگر وزراء کے خلاف رپورٹ پبلک کر نے کا کریڈٹ یوں بھی عمران خان کے سر پر تاریخی تمغہ سجائے گا کیونکہ آج تک پاکستانی تاریخ میں کسی بڑے سکینڈل کی رپورٹ یا تو نظر آتش ہوئی ہے یا چوری ۔لیاقت علی خان قتل سے لے کر سقوط ڈھاکہ سے ہوتے ہوئے ڈان لیکس کی رپورٹ تک سب عوام کے نظر سے مخفی ہی رہا ۔ رپورٹ پبلک کرنے کا کریڈٹ عمران خان کو ملنا بھی چاہیے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہو ا ہے کہ حکومتی اہم ترین شخصیات کے خلاف آڈٹ رپورٹ پبلک کر دی گئی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ رپورٹ منظر پر آنے کے باوجود صرف افسران کی اکھاڑ پچھاڑ ہی کی گئی ہے ۔وزیر اعظم کے مشیر شہزاد ارباب اور زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین جہانگیر ترین کے علاوہ تمام وزراء اور مشیران کی وزارتیں تبدیل کی گئیں ہیں جبکہ بیوروکریٹس کو او ایس ڈی بنایا گیا ہے ۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شوگر ملز مالکان کو اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی ہے جس سے انھوں نے ناجائز منافع کمایا ۔سبسڈی کا ثمر یوں تو عوام تک پہنچنا چاہیے تھا مگر نتیجہ یہ ہوا کہ چینی کی قیمت 55سے 85اورآٹے کی قیمت33سے 55تک جا پہنچی ۔لیگی رہنماؤں کے مطابق چینی مافیا نے عوام کا 1کھرب روپیہ لوٹ لیا ہے ۔تحقیقاتی کمیشن 25اپریل کو مکمل رپورٹ جاری کرے گا لیکن اسے پہلے کچھ حصہ لیک کر لوگوں کے ذہن تیار کرلئے گئے ہیں ۔اب مکمل رپورٹ آنے کے بعد ایسے بہت سے نام شاید نظر انداز ہو جائیں جو اس بحران کے اصل ذمہ دار رہے ہیں ۔ وبا کے دنوں میں ہی سہی لیکن اگر اب عمران خان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ رپورٹ کے مخفی حصوں کو بھی منظر عام پر لایا جائے اور شک و شبہات کو دور کیا جائے۔ رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو مکمل صفائی کا موقع بھی ملنا چاہیے اوانکوائری مکمل ہونے تک کسی کو مجرام ٹھہرانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے ۔ پنجاب کے وزیر خوراک نے بھی الزامات کی بنیاد پر استعفیٰ دے کر خود کو احتساب کے لئے پیش کر دیا ہے ۔ سابق سیکرٹری خوراک اور ڈائریکٹر فوڈ کو بھی او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اچھا اشارہ دیا گیا ہے ۔ 2سال سے اپوزیشن کے خلاف احتساب کو نعرہ لگانے والی جماعت نے حکومتی ذمہ داران کو ملزم ٹھہرا کر بھرپور ٹائمنگ پر بھرپور چال تو چل دی ہے مگر اسے اختتام تک پہنچانے کے لئے وزیر اعظم کوشدید مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اسلئے مفت کا مشورہ یہ ہے کہ ثابت قدم رہیں ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہے ۔ویسے بھی بادشاہ کا کوئی رشتہ دار یا دوست نہیں ہوتا ، تاریخ گواہ ہے جب بھی حاکم وقت کو اپنا فائدہ دکھایا گیا اس نے اپنے قریبی ساتھیوں ، رشتہ داروں اور یہاں تک کے سگی اولاد کو بھی بلی چڑھا دیا۔


ای پیپر