سیمنٹ سیکٹر کا منافع: اصل حقائق
09 اپریل 2020 2020-04-09

سیمنٹ سیکٹر کو درپیش مسائل کے حوالے سے گزشتہ کالم اخبار کو ارسال کرکے بیٹھا ہی تھا کہ پانچ اپریل کو ایک ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک پروگرام کے میزبان کی گفتگو سننے کو ملی۔ جس میں موصوف سیمنٹ سیکٹر کے منافع کے بارے میں اپنی ادھوری معلومات اس اعتماد اور زعم سے بیان فرما رہے تھے جو سننے اور دیکھنے کے لائق تھا۔ انہوں نے ریت، اینٹوں کے بھٹوں کے منافع کے بارے میں بھی اپنی معلومات بیان کیں لیکن چونکہ میرے پاس اس حوالے سے مستند معلومات نہیں ہیں، مگرسیمنٹ سیکٹر سے گزشتہ اکتیس برس سے وابستگی کا تقاضا ہے کہ پروگرام میںبیان کی گئی’’ معلومات‘‘ کا جواب دیا جائے۔ مقصد سیمنٹ فیکٹریوں کی وکالت کرنا نہیں بلکہ حقائق کی درستگی کے لیے ضروری سمجھا کہ یہ سطور قلم بند کی جائیں۔

پروگرام میں بتایا گیا کہ 490 روپے میں فروخت ہونے والی سیمنٹ کی بوری کی لاگت 100 روپے اور سیمنٹ فیکٹری ایک بوری پر 390 روپے کا منافع کما رہی ہے۔ پروگرام میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ سیمنٹ فیکٹریوں کو چاہیے کہ سرکاری منصوبوں پر اس’’ کثیر‘‘ منافع کی بجائے معقول منافع پر سیمنٹ فراہم کریں تاکہ سرکاری منصوبوں کی لاگت کم ہو اور سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوسکے۔میزبان نے اپنی معلومات کا ذریعہ صوبائی وزیرِ صنعت اسلم اقبال کی گفتگو بتایا۔

پہلی بات تو یہ درست نہیں کہ سیمنٹ فیکٹری کا فی بوری منافع390 روپے ہے۔ پروگرام میں سیمنٹ کی فروخت ہونے والی بوری کی قیمت 490 روپے بتائی گئی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اس میں تقریباََ 190 روپے فی بوری سرکاری ٹیکس اور تقریباََ 60 روپے فی بوری کرایہ بھی شامل ہے، پانچ سے سات روپے بوری ڈسٹری بیوٹر کا مارجن اور پندرہ سے بیس روپے دوکان دار کا منافع اور چار روپے لوڈنگ چارجز بھی شامل ہیں ، ان سب کو جمع کیا جائے تو یہ رقم تقریباََ 281 روپے فی بوری بنتی ہے۔ لہذا 490 روپے کی فروخت ہونے والی سیمنٹ کی بوری پر سیمنٹ فیکٹری کو 209 روپے فی بوری حاصل ہوتے ہیں۔ جس میںخام مال کی خریداری، پیداواری لاگت، ڈسٹری بیوشن کے اخراجات، فنانشل اخراجات، شئیر ہولڈرز کا منافع اور دیگر اخراجات سیمنٹ فیکٹری کو ادا کرنے ہوتے ہیں۔ میزبان نے لائم اسٹون کی رائلٹی کا

ذکر کیا کہ اس پر حکومت کو صرف 120ٹن رائلٹی ملتی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ لائم اسٹون سے سیمنٹ کی تیاری تک کس قدر لاگت آتی ہے۔انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک بوری سیمنٹ کی تیاری میں 120 روپے کا کوئلہ استعمال ہوتا ہے، اس کی تصدیق کسٹم کے محکمے سے کی جاسکتی ہے کہ سیمنٹ فیکٹریاں کس بھائو اور کتنا کوئلہ درآمد کررہی ہیں او ر سالانہ رپورٹ سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کتنا سیمنٹ تیار کررہی ہیں۔

دوسری بات جو تجویز کی شکل میں دی گئی کہ سیمنٹ فیکٹریاں سرکاری منصوبوں پر رعایتی نرخوں پر سیمنٹ فراہم کریں۔ لیکن یہاں بھی موصوف کی معلومات ادھوری تھیں۔ انہیں یہ خبر نہیں کہ سرکاری اداروں کو جو سیمنٹ فراہم کیا جاتا ہے ، اس کی رقم کی واپسی تقریباََ پانچ سے چھ ماہ کے بعد ہوتی ہے، اس پر فنانشل کاسٹ اور ان اہلکاروں کی ’’فیس‘‘ شامل کرلیں جو سیمنٹ کے بل پاس کرتے اور چیک جاری کرتے ہیں تو اخراجات کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی سیمنٹ فیکٹریوں نے سرکاری اداروں کو ادھار سیمنٹ دینے سے معذرت کرلی ہے۔

جیسا کہ پروگرام کے میزبان نے بتایا کہ انھیں یہ معلومات صوبائی وزیرِصنعت اسلم اقبال کی گفتگو سے حاصل ہوئیں۔ پاکستان کا ہر شہری جانتا ہے کہ ہمارے یہاں خاص کر وزارتیں قابلیت اور متعلقہ شعبہ میں مہارت کی بنیاد پر نہیں دی جاتی ہیں۔ غلام سرور خان پیٹرولیم کے وزیر تھے، ان کی سرزنش کی گئی اور انھیں وزیر ہوابازی بنا دیا گیا۔ فواد چوہدری اطلاعات کے وزیر تھے جنھیں بعد میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بنا دیا گیا۔ اسد عمر وزیرِ خزانہ تھے ناقص کارکردگی پر منصوبہ بندی کا وزیربنا دیا گیا۔ابھی حال ہی میں چینی اور آٹے کے اسکینڈل سامنے آنے پر خسرو بختیار کو خوراک کی وزارت سے اقتصادی امور کا وزیر لگا دیا گیا۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ پروگرام کے میزبان وزیر موصوف کی معلومات کی تصدیق کسی بھی سیمنٹ فیکٹری کی سالانہ فنانشل رپورٹ پڑھ کر لیتے اور اگر نہیں تو فواد چوہدری کی تقلید کرتے ہوئے کم از کم گوگل ہی سے یہ معلومات لے لیتے، جیسے فواد چوہدری گوگل کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے تھے کہ ہیلی کاپٹر کے سفر کی لاگت پچاس روپے فی کلو میٹر ہے۔بہتر تو یہ تھا کہ اس سلسلے میں آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن یا پھر آل پاکستان ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن سے درست معلومات کے لیے بات کرلی جاتی۔ پروگرام میں نشر ہونے والی گفتگو سن کر عام قاری نے جو منفی تاثرسیمنٹ کے حوالے سے لیا ہے ، مجھے امید ہے کہ اگلے کسی پروگرام میں اس کی تلافی کرلی جائے گی۔

پاکستان کا بنیادی مسئلہ جاگیرداری اور صنعت کاری کا تصادم ہے۔ اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ صنعت کار کا بنیادی مقصد منافع اور زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے، جس کے لیے وہ ٹیکس بچانے، پیداواری لاگت کم سے کم کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کرتا ہے اور سب سے بڑا استحصال مزدور کی محنت کا کرتا ہے۔ جس کی نشاندہی مشہور فلاسفر کارل مارکس نے کی اور قدر زائد کی اساس پر اپنے فلسفے کی بنیاد رکھی جسے مارکس ازم کے نام سے جانا جاتا ہے، اور جس کی روشنی میں روس اور چین میں انقلاب برپا ہوئے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی مفر ممکن نہیں کہ سرمایہ دار صنعت کار کے معاشرے پر احسانات بھی ہیں۔ تمام تر کرپشن کے باجود اس ملک میں صنعت کار طبقہ ہی ٹیکس ادا کرتا ہے جب کہ جاگیردار کے یہاںتو ٹیکس نام کی کسی چیز کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ کسی بھی بڑی فیکٹری میں یہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ وہاں ملازمین کے لیے رہائش، علاج، تعلیم اور تفریح کی بہتر سہولیات موجود ہوتی ہیں۔ اچھی کمپنیوں میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی معقول رقم دی جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم کسی جاگیر دار اور وڈیرے کی زمینوں پر جاکر وہاں کے ہاریوں اور کسانوں کا معیار زندگی دیکھتے ہیں تو استحصال اور جبر کی بدترین صورت نظر آتی ہے اور زندگی کی وہ شکل نظر آتی ہے جس کا تصور شہر میں رہنے والے انسان کر ہی نہیں سکتے ہیں۔ یہی جاگیر دار اور وڈیرے سیاست اور اقتدار پر بھی قابض ہیں اور ان صنعتوں پر بھی جن کا خام مال زراعت سے منسلک ہے، حالیہ آٹا اور چینی کے اسکینڈل میں اس کا مشاہدہ بغور کیا جاسکتا ہے۔

آج پاکستان کے معاشرے کو ضرورت ہے کہ صنعتیں جدید ٹیکنالوجی کو اختیار کرتے ہوئے پیداوار کو بڑھائیں تاکہ پیداواری لاگت کم سے کم ہو سکے اور اس کے ساتھ ہی مزدور کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنائیں۔ معاشرہ جاگیر داری اور وڈیرہ شاہی کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ فرسودہ نظام تاریخی اعتبار سے بھی اپنی عمر تمام کرچکا ہے اور اس کی تعفن شدہ لاش پورے سماج کو پراگندہ کررہی ہے۔


ای پیپر