یہ وائرس کس کا ہے؟
09 اپریل 2020 2020-04-09

دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاو کے ساتھ ہی اس وبا کے خلاف مختلف قسم کے تخیلات ، اعتقادات اور مفروضات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسہ شروع ہوگیا۔کسی نے اس وباکوکرہء ارض پر انسانی وحشت اور درندگی کے خلاف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب گردانا تو کسی نے اس وبائی مرض کو انسان کیلئے امتحان اور آزمائش کی وہ گھڑی جو صبر، برداشت اور استقامت کا متقاضی ہے۔کسی نے اس کو حسب معمول ایک معمولی چیز سمجھ کر نظرانداز کیا تو کسی نے اسکے خطرناک انجام کی طرف توجہ دلائی۔ لیکن اسکے ساتھ ہی جب سے اس موذی وائرس کے منحوس سائے پوری دنیا پر پھیلنے لگے تو اقوام عالم نے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا سلسہ شروع کردیا۔ امریکہ نے اس کو چینی وائرس قرار دے دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے خود ہی ایک پریس کانفرنس کے دوران اسکو چینی وائرس قرار دیا۔ اسکے بعد ٹرمپ انتطامیہ کے بعض دیگر اہلکاروں اور خصوصا امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے بھی بار بار اس وائرس کو چینی وائرس قرار دیا جاتا رہا۔ یہ سلسہ یہیں نہیں رکا بلکہ امریکی میڈیا نے اسکو مزید اچھالا اور باقاعدہ میڈیا کیمپین چلائی یہ ثابت کرنے کیلئے کہ یہ واقعی چینی وائرس ہے بلکہ اس سے بڑھ کر بین الاقوامی برادر ی سے مطالبہ کیا کہ چین کے شہر ووہان میں اس مرض کے پھیلاو میںبری طرح ناکام ہونے پر چین کے خلاف مقدمہ چلاکران سارے نقصانات کیلئے چین کو مورد الزام ٹھہرایا جائے جو اسکی وجہ سے ہوئے ہیں۔اس حوالے سے ایک امریکی ماہر قانون لیری کلیمن نے ایک ہی ہفتے میں امریکہ کی دو ریاستوں فلوریڈا اور ٹیکساس میںدو قانونی رٹ دائر کیںاور چین سے دو ٹریلین امریکی ڈالر کا ہرجانہ

طلب کیا۔ رٹ پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ یہ وائرس چین میں باقاعدہ طورپر ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرالوجی میں تیار کیا گیاہے اور اسکا مقصد دنیا میں بڑے پیمانے پر انسانی تبا ہی لانا تھا۔ چین نے ان الزام تراشیوں کے خلاف تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے نہایت سنجیدہ طرزعمل اپنایا۔لیکن دوسری طرف امریکہ پر بھی ردعمل کے طورپرتنقید کا سلسلہ جاری رہا۔ حال ہی میں اقوام متحدہ میں پاسکتان کے سابق سفیر عبداللہ حسین ہارون نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ اس وائرس کو امریکہ نے دینا میں دہشت پھیلانے کیلئے تیارکیا ہے۔ سابق سفیر نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہاکہ اس وائرس کو امریکہ نے شام میں بطور کیمیائی وار فئر استعمال کرنا تھا۔ سابق سفیر کے مطابق اس وائرس کے بنانے کیلئے مطلوبہ مواد ایک امریکی کمپنی چرن سے ۲۰۰۶ میں حاصل کیا گیا اور اسکے بعد اس کیلئے ویکسین کی تیاری میں یورپ کے بعض کمپنیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔عبداللہ حسین ہارون کے مطابق یہ وائرس برطانیہ کے ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیا جسے بعد ازاں ائر کینیڈا کے ذریعے چین کے شہر ووہان منتقل کیا گیا۔سابق سفیر کے مطابق اس برطانوی لیبارٹری کی مالی معاونت مبینہ طور پر مختلف امریکی اداروں بل انیڈ میلینڈا گیٹ فاونڈیشن، جان ہاپکن یونیورسٹی اور بلومبرگ سکول آف پبلک ہیلتھ نے کی۔اس وائرس کیلئے ویکسین بنانے کا کام اسرئیل کے سپرد تھا۔ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے اس اقدام کے پیچھے امریکہ اور انکے مغربی اتحادیوں کا وہ خوف تھا جو حالیہ صدی میں چین کے ایک ابھرتے ہوئے اقتصادی طاقت کی حیثیت سے ان ممالک کو لاحق ہو اہے۔ ان دونوں مفروضات میں کہاں تک صداقت ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا بہرحال حال ہی میں عالمی شہرت یافتہ میڈیکل جریدے نیچر میں چھپے ایک تحقیقی مقالے نے یہ تمام دعوے اور مفروضے غلط ثابت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وائرس کو لیبارٹری میں غیر فطری طور پر بنانا بالکل ناممکن ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس وقت جب کہ پوری دنیا اس جان لیوا وائرس کے آگے گھٹنے ٹھیک چکی ہے ان مفروضات اور ان سے جڑے سوالات پر بحث کرنا کتنا اہم ہے کہ یہ وائرس کہاں سے آیا، کون لے کر آیا، کیوں لے کر آیا اور اس کے پیچھے کونسے مقاصد کارفرما تھے۔ یہ وقت ہے مل کر اس وبا سے نمٹنے کا ، متحد ہوکر متفقہ دشمن کا مقابلہ کرنے کا ۔ جب کوئی انسان اس وائرس کے ہتھے چڑھے گا تو وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس کا شکار امریکی، چینی اور یورپین ہے یا تیسری دنیا کا کوئی غریب مزدور۔ ہمارے متفقہ دشمن کا ایک ہی ایجنڈا اور واضح پیغام ہے کہ میں تمہں قتل کرنے آرہا ہوں۔ رنگ و نسل، زبان، مذہب، تہذیب اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر وہ پھلانگتا، چھلانگیں لگاتا، دوڑتاہوا ہماری طرف اپنے منحوس سائے مسلسل بڑھا رہا ہے۔ یہ وقت ہے متحد ہو کراس دشمن کا پوری قوت سے مقابلہ کرنے کا ۔ اس وقت پوری دنیا کو متحد ہو کر ایک ایسا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا جس سے دنیا کے کسی بھی کونے میں اس وائرس کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ جب تک یہ وائرس دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود ہوگا، پوری انسانیت کو خطرات لاحق ہونگے۔ اور اگر پوری دنیا نے متحد ہوکر اس جرثومے کی بیخ کنی نہیں کی تو آنیوالے وقتوں میں اس وبا سے متاثر ہونے والا خطہ نہ صرف امریکہ، برطانیہ، چین اور یورپ ہوگا بلکہ بشمول ہمارے خطے کے پوری دنیا اس مرض کی تباہ کاریوں سے اپنے آپ کو نہیں بچاسکے گی۔


ای پیپر