قارئین....سُہانے خواب مت دیکھو
09 اپریل 2020 2020-04-09

قارئین کرام، خداگواہ ہے، کہ حکمران وقت کی دعا میں اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ نیل کے سمندر میں طغیانی کو بند کراسکتا ہے، اور اس کے لیے اسے محض اُوپر آسمان کی طرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو دیکھتے ہوئے، اتنا یقین کامل ہوتا ہے، کہ وہ کہتا ہے ہم اللہ تعالیٰ کے کام کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمارا یہ کام کیوں نہیں کرے گا ؟

اور ہم نے یہ بھی دیکھا ہے، کہ لاکھوں حجاج کا حج، صرف ایک مردمومن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مقبول بنا دیتا ہے۔ ہمیں نہیں یاد کہ تاریخ اسلامی میں کسی حکمران یا خلیفے نے ایسی منفی بات کی ہو کہ کرونا کے خلاف جنگ طویل ہوگی، اور یہ کہ کرونا کسی کونہیں چھوڑے گا، حکمران وقت کا کام ہے کہ عوام کو ڈھارس ،تسلی اور تشفی اور دعا دے حکمران وقت کی دعا اور نماز استسقاادا کرنے پہ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ قحط زدہ زمین پہ بارش برسا دیتا ہے، اور خشک وبنجر زمین پہ لہراتی فصلیں نااُمید چہروں پہ مسرت کی مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔

قارئین جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قانون اٹل ہے، کہ جیسی قوم ہوتی ہے، ویسا ہی حکمران اس قوم پہ مسلط کردیتا ہے، اگر تو قوم نیک اور شریف ہو، تو ویسا ہی حکمران اُس قوم کومل جاتا ہے، اگر قوم ناپ تول میں ڈنڈی مارتی ہے، انصاف کی دھجیاں بکھیرتی ہو، تو حکمران بھی ان کو ویسا ہی ملتا ہے، تاریخ اسلام پڑھنے سے پتہ چلتا ہے، کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں بادشاہ بلکہ آمر مطلق نمرود بھی گزرا ہے، کہ جو سیاہ وسفید کا مالک تھا، اور کسی کوبھی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ قارئین محترم، مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک واقعہ یاد آیا ہے آپ بھی وہ سن کر اپنا ایمان مضبوط کریں، یادرکھیں کہ حکمران وقت کے ذرا سا ارتعاش ولغزش قوم پہ کتنی بھاری ہوتی ہے بادشاہ عراق کو خبر ملی کہ ایک شخص یہاں آیا ہے، جس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہے، جو خوبصورتی میں اپنی نظیر نہیں رکھتی، بادشاہ نے حضرت ابراہیم ؑاور حضرت سارہ دونوں کو بلوایا، حضرت ابراہیمؑ نے حضرت سارہؓسے کہا کہ جب بادشاہ تم سے پوچھے کہ تم دونوں میں رشتہ کیا ہے؟ تو تم کہہ دینا کہ میں اس کی بہن ہوں، کیوں کہ اس وقت دنیا کے پردے پر تمہارے اور میرے سوا کوئی مرد وعورت مومن نہیں ہیں۔ دونوں جب شاہ عراق کے دربار میں پہنچے، بادشاہ نے دیکھا کہ واقعی حضرت ابراہیمؑ کی زوجہ کے متعلق جوکچھ کہا گیا تھا، وہ صحیح ہے، اس کی نیت خراب ہو گئی، اور اس نے حضرت سارہ کو تنہائی میں طلب کرلیا ، اس نے ان سے پوچھا کہ حضرت ابراہیمؑ سے ان کا کیا رشتہ ہے، انہوں نے جواب دیا کہ وہ میرے بھائی ہیں، پھر اس ظالم نے ان پر بدنیتی کے ساتھ ہاتھ ڈالا، مگر اس کا ہاتھ شل ہوگیا۔ اب اس نے محسوس کیا، کہ یہ عورت کوئی معمولی عورت نہیں ہیں۔ بلکہ بڑی خدارسیدہ ہیں، بادشاہ نے درخواست کی، کہ وہ دعا کریں کہ اس کا ہاتھ کام کرنے لگے، انہوں نے دعا کی، اور اس کا ہاتھ کام کرنے لگ گیا، مگر ظالم کی نیت پھر بگڑ گئی، اور دوبارہ ان کی طرف دست درازی کی تو ہاتھ پھر شل ہوگیا اس نے اپنے گناہ سے توبہ کی، اور اس کا ہاتھ پھر کام کرنے لگ گیا۔ شاہ عراق نے اب حضرت ابراہیمؑ کو بلاکر ان سے بھی معافی مانگی، اور ان کو بہت کچھ مال مویشی اور غلام اور باندیاں دے کر احترام کے ساتھ رخصت کیا، اس کے علاوہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس نے اپنی بیٹی حضرت ہاجرہ کو بھی حضرت سارہ کے حوالے کیا، تاکہ وہ ان کی خدمت گزاری بھی کرے، اور تہذیب واخلاق بھی سیکھے، حضرت ابراہیمؑ اس طرح مصر سے کامیاب اور کامران واپس آئے، بعد میں حضرت سارہ نے حضرت ہاجرہ کا نکاح حضرت ابراہیمؑ سے کردیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا، کہ حضرت ابراہیمؑ نے حضرت ہاجرہ کو اپنی بہن کیوں کہا وہ اس لیے کہ وہ ان کی چچا زاد بہن، یعنی حضرت ہارونؑ کی بیٹی تھیں، حضرت ابراہیمؑ نے یہ مصلحت اس لیے بھی اختیار کی کہ اگر وہ انہیں بیوی کہتے، تو بادشاہ اس کو پہلے طلاق دینے پر مجبور کردیتا۔

قارئین ، اب آپ سوچ رہے ہوں گے، کہ موجودہ بین الاقوامی حالات میں یہ واقعات بتانے کا مقصد کیا ہے، جب اقوام عالم کی اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر پہ مودی، اور ٹرمپ کا تاریخ عالم کے طویل ترین کرفیو کی تاریخ رقم کررہی ہے۔ میرا مقصد محض اتنا ہے کہ دنیا بنانے والے کے بارے میں ہم جب بے ساختہ کہتے ہیں کہ اللہ کی رسی دراز ہے، یہ بے وقت کی بارشیں کس چیز کی نشانی ہے ؟ نمرود کی موت کے بارے میں ہرمسلمان جانتا ہے، کہ ایک حقیر سے مچھر کے ذریعے ، جو اس کے ناک کے راستے دماغ میں گھس گیا تھا، اس کی وجہ سے نمرود کو شدید تکلیف ہوتی تھی، اس کو اس وقت تک آرام نہیں ملتا تھا، جب تک اس کے نوکر اس کے سرپہ جوتوں کی برسات نہیں برسا دیتے تھے۔ اب کرونا موجودہ حکمرانوں، ٹرمپ، اور مودی کے مقبوضہ کشمیر کے مظالم کی وجہ سے رب کائنات کی طرف سے ایک ہلکی سی سرزنش کے طورپر علامتی انتباہ ہے، مگر ہمارے حکمران تو معاذ اللہ ، دعویٰ .... کررہے کہ اپریل کے آخرتک پاکستان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاس ہزار ہو جائے گی ، قرضے معاف کرانے، اور عالمی امداد کیلئے مطلوبہ اہداف مقرر کرنا دکھی دلوں پر مرہم رکھنا نہیں، بلکہ منشی پریم چند کی کہانی ”غم نہ داری بزبخر“ کا عنوان لگتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو مالک کن فیکون ہے، مچھر تو انسان کو پھر بھی نظر آتا ہے، مگر کرونا وائرس تو ایسی چیز ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کی طاقت ورترین دوربینیں وائرس کے سامنے نہیں بلکہ بھینس کے آگے بین بجارہی ہیں۔ قارئین میرا آپ کو یہ مشورہ ہے کہ کرونا اس وقت بالکل ختم ہو جائے گا جب تحریک انصاف، انصاف کرتے ہوئے چینی اور گندم بحران کے مجرمان کو ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق قرار واقعی سزادے گی.... فی الحال.... تسی اوڈیکو بقول نیر

سہانے خواب مت دیکھو

بھیانک ہوں گی تعبیریں

بناہیں خوب رشتے کو

جنوں کے ساتھ زنجیریں


ای پیپر