Image Source : File

 نواز شریف ،مولانا فضل الرحمن کی ملاقات اندرونی کہانی سامنے آگئی
09 اپریل 2019 (23:02) 2019-04-09

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کا مقصد ان کی مزاج پرسی تھا تاہم ان سے ملاقات اچھی رہی ، ان کی صحت او ر خراب معاشی حالت کے باعث حکومت مخالف تحریک کا حصہ بننے یا ڈیڈلائن دینے بارے بات نہیں کرسکتاتھا تاہم ان کے اور ہمارے موقف میں یکسانیت پائی جاتی ہے .

ان کاکہنا تھا کہ موجودہ حکومت ناکام ،معیشت تباہ ہوگئی ، یہ جعلی حکومت ہے ،د ھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ، اس کا خاتمہ ضروری ہے اور نئے الیکشن تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے، کوئی بھی فیصلہ کرنے کےلئے اپوزیشن کی تمام جماعتیں بااختیار ہیں ، ہم تو حکومت کے خلاف نکل چکے ہیں ، اتنا بڑا ملین مارچ کریں گے کہ پاکستان میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہوگا ، شہبازشریف کے الیکشن کمیشن کے ممبران کے لئے تجویز کردہ ناموں سے لاعلم ہیں ۔

منگل کو مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نوازشریف سے ملاقات کا مقصد ان کی مزاج پرسی تھا ، جب وہ جیل میں تھے اس وقت بھی ان سے ملنا چاہا مگر مل نہ سکا ،مجموعی ملاقات اچھی رہی ،انکی سوچ میں واضح فرق نہیں تھا، نوازشریف کی صحت بھی ٹھیک نہیں ان کے معاشی حالات بھی خراب ہوچکے ہیں ،انہیں کوئی رعایت نہیں دی جا رہی اور عدالتوں میں بھی گھسیٹا جا رہا ہے ،ایسی صورتحال میں میں ان سے یہ تقاضا نہیں کر سکتا کہ وہ ہماری تحریک کا حصہ بنیں اور ہمیں کوئی ڈیڈلائن دیں ۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے بھی ہمیں یہی کہا ہے کہ حکومت ناکام ہوچکی ،معیشت تباہ ہوگئی ہے اور عام آدمی کے حالات بدسے بدتر ہو رہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ کوئی بھی فیصلہ کرنے کےلئے اپوزیشن کی تمام جماعتیں بااختیار ہیں ، ہم تو حکومت کے خلاف نکل چکے ہیں ،ہم اتنا بڑا ملین مارچ کریں گے کہ پاکستان میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہوگا ، یہ جعلی حکومت ہے ،د ھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ، اس کا خاتمہ ضروری ہے اور نئے الیکشن تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے اس کےلئے تمام جماعتوں نے الائنس بھی بنایا تھا۔

ہم صرف جدوجہد ہی کر سکتے ہیں اس محاذ پر ہم اکیلے ہیں لیکن عوام کا ردعمل ہمیں تقویت دے رہا ہے کہ ہم بھی عام آدمی کی آواز ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ،ہمیں پیپلزپارٹی سے امید نہیں کہ پیپلزپارٹی ہمارے ساتھ چلے گی ،آصف علی زرداری سے ملاقاتیں تو ہوتی رہتی ہیں حتمی فیصلہ پیپلزپارٹی نے ہی کرنا تھا ، الیکشن کمیشن میں جو دوممبران کی جگہ خالی ہوئی ہے اس کےلئے ہم چاہتے ہیں کہ ان کی سلیکشن کےلئے ایک کمیٹی بنائی جائے کیونکہ تمام جماعتیں اس الیکشن کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہیں ،شہبازشریف نے جو الیکشن کمیشن کے لئے نئے ممبران کے نام تجویز کئے ہیں اس سے ہم لاعلم ہیں ۔


ای پیپر