حل کیا ہے
09 اپریل 2019 2019-04-09

سانحہ کرائسٹ چرچ کی بازگشت صدیوں تک سنای دیتی رہے گی۔ نیوزی لینڈ کی انسان دوست خاتون وزیر اعظم نے وانی مدبر کی مانند اپنے تئیں انتہا پسندی کا شکار مظلوم بے گناہ مسلمانوں کی اشک شوئی کی کوشش کی۔ ان کی کوششوں سے بہتے خون کے کچھ دھبے تو دھل جائنگے۔ زخم بھی شاید مند مل ہو جائیں۔ لیکن جب تک یورپ، نام نہاد مہذب ، انسانی حقوق کا علمبردار یورپ اس اور ایسے ہی پے در پے سانحات کی وجوہ پر غور نہیں کرتا۔ تب تک کہیں نہ کہیں یورپ ، آسٹریلیا افریقہ ، ایشیا میں جنون غالب آئے گا اور اہل ایمان خدا کے واحد نام لیوا کلمہ گو مسلمانوں کا خون ناحق بہتا رہے گا۔ یہ بات درست ہے کہ مغربی دنیا کے بالغ نظر حکمرانوں اور بعض مذہبی راہنماؤں نے انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ بھی درست ہے کہ مشرق وسطی کی خون ریز جنگوں سے متاثرہ مہاجرین کو بھی فراخ دلی سے پناہ دی۔ عرب ملکوں کے متمول اور عیاش حکمرانوں کو تو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ وہ اپنے بے خانماں برباد ہم پر چند ریال ہی خرچ کر ڈالتے۔ اہل یورپ کی اس کشادہ دلی کا اعتراف کرنا چاہئے۔ لیکن اصل مسئلہ وہیں پر۔ وجوہ کیا ہیں اور ان کا سد باب کیا ہے ۔ عام طور اہل دانش اسلامو فو بیا، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہاپسندی کو پوسٹ نائن الیون رویہ سمجھ کر اس کے تجزیے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں۔ صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ نفرت تعصب اور دہشت کا وہ بیج جو یورپی دانشوروں نے بویا تھا۔ وہ نائن الیون کے بعد پھل دے رہا ہے ۔ زہریلا پھل۔ اسی ہلاکت خیز سرمایہ کاری کا نتیجہ یہ ہے یورپ میں مسلمانوں کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ۔ امریکہ سے لے کر نیوزی لینڈ تک آے روز مسلم کشی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایسے واقعات مسلسل برطانیہ میں پیش آرہے ہیں۔ جہاں ایک طرف وسعت قلبی کا یہ عالم ہے کہ اب برطانوی پارلیمنٹ میں مسلم ایشین ارکان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ مقامی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں میں بھارت پاکستان اور عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے برطانوی منتخب افراد کی بھر مار ہے ۔ لیکن پھر بھی برطانوی معاشرے میں نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہورہا ہے ۔ برطانوی میڈیا کے مرتب کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانوی مسلمانوں کے خلاف تیزاب کر دی کی وارداتوں میں سولہ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح نسلی شناخت کی بنیاد پر روز گار کے مواقع میں بھی کمی آئی ہے ۔ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے صرف چار ہفتوں بعد صرف ایک رات کے اندر آٹھ مساجد پر جنونی ٹولے نے حملہ کیا ۔ آہنی سلاخوں اور کلہاڑیوں سے مساجد کے شیشے اور کھڑکیاں توڑیں گئیں۔ ایک ہی رات میں اتنی مساجد پر آج حملہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا۔ ماضی میں لندن برمنگھم اور مانچسٹر میں بھی ایسے واقعات ہوئے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسلم انتہا پسندی یورپی معاشروں کا نا سور بن چکی ہے ۔ ایک عرصہ سے یورپ میں ایسی تنظیمیں یورپ میں فروغ پا رہی ہیں جن کا مقصد مسلمان مخالف لٹریچر تیار کرنا اور اس کو پھیلانا ہے ۔ نیوزی لینڈ میں سر بسجود مسلمانوں کے قاتل ٹرینٹ کی ایسی تحریریں موجود ہیں۔ جس میں اس نے حیرت کا اظہار کیا کے کہ صرف فرانس میں ساٹھ لاکھ مسلمان رہ رہے ہیں۔ فرانس مغرب میں رہنے والوں کا سب سے بڑا ملک ہے ۔ اسی قاتل کے متعلق ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ اس نے دیگر ملکوں کے انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر یورپ میں مسلمانوں کی شرح پیدائش میں کمی پر تبادلہ خیال کیا ۔ ان انتہاپسندوں کا خیال ہے ک مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی یورپی تہذیب اور معاشرے کی بقا کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے ۔یورپی ممالک کے انٹیلی جنٹس اداروں کی رہورٹ میں یہ اعتراف کیا گیا ہے گزشتہ پانچ سالوں میں اسلام دشمن واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ان اداروں کے مطابق دائیں بازو کے جرائم میں اٹھاسی فیصد اضافہ ہوا ہے ، یہ ادارے خبر دار کررہے ہیں کہ نیوزی لینڈ طرز کا سانحہ جرمنی اور برطانیہ میں بھی وقوع پزیر ہوسکتا کے، برطانیہ کی سب سے بڑی اینٹی مسلم تنظیم برٹش نئشنل ایکشن دیگر ممالک کے تنظیموں سے رابطے قائم کرچکی ہے ۔ برطانوی حکام نے ان تشویش ناک رپورٹوں کے بعد ایم آئی فائیو کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ ریڈی کل تنظیموں اور دائیں بازو کے رجحانات پرنظر رکھے۔ اطلاعات ہیں کہ مارچ دو ہزار سترہ سے لے کر آج تک دہشت گردی اٹھارہ منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ، ان میں سے چودہ واقعات ایسے تھے جن کا نشانہ مسلم کمیونٹی تھا۔ بریگزٹ کے بطن سے پھوٹتی انتہا پسندی کی لہر یورپی بالخصوص برطانوی معاشرے کو نگل رہی ہے ۔ اگر یورپی فیصلہ سا زو نفرت انگیز لٹریچر ، اسلحہ کی فراوانی اور تعصابات پر قابو نہ پایا تو ایک دن یورپی معاشرے میں بستے مسلمان اپنی بقا کیلے عملی اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔


ای پیپر