مودی کی امیدیں کیوں ٹوٹ رہی ہیں
09 اپریل 2019 2019-04-09

دہلی کا را ستہ اتر پردیس سے ہوکر گزرتا ہے۔ مگر مودی کے گمان میں نہیں تھا کہ اب کی بار کام اتنا آسان نہیں ہے۔ مودی سرکار نے ایسا ماحول بنا رکھا ہے جیسے انتخاب بھارت میں نہیں پاکستان میں ہو رہے ہیں فوج کو بھی سیاست کے اکھاڑے میں اتار رکھا ہے۔اتر پردیش کے وزیر اعلی نے بھارت کی فوج کو مودی کی فوج قرار دیا تو ایک اور تنازع اٹھ کھڑا ہوا۔یوگی آدتیہ ناتھ نے غازی آباد میں انتخابی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا،‘ کانگریس کے لوگ دہشت گردوں کو بریانی کھلاتے ہیں اور مودی جی کی سینادہشت گردوں کو گولی اور گولہ دیتی ہے۔‘اس پر نیوی کے سابق چیف ایڈمرل ایل رام داس نے الیکشن کمیشن میں اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی شکایت کی ہے۔‘ مودی جی کی سینا’کہے جانے پر حزب مخالف پارٹیوں کے ساتھ کئی سابق فوجی افسروں نے بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج ملک کی ہوتی ہے، کسی رہنما کی نہیں ہوتی ہے۔الیکشن کمشن کی جانب سے نوٹس لیا گیا۔ تنازع ایک نہیں بہت سے سوالات ہیں ۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کافی مشکل میں ہیں ۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دو ہزار انیس کے انتخاب ان کے لیے اتنا آسان ثابت ہوں گے۔ ان کی کارکردگی پر کافی سوال اٹھ رہے ہیں ۔ خود بی جے پی کے اندر سے مشکل اٹھ کھڑی ہ ہوئی ہے ۔ مودی کی جانب سے پلوامہ حملہ سے شروع کی جانے والی کہانی کے بعد لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے الیکشن لڑنے سے انکار کر دیاہے۔ سمترا مہاجن نے لکھاہے کہ اندورسے آج کی تاریخ تک امیدوار اعلان نہیں کیاہے۔یہ تذبذب کیوں ہے؟ ممکن ہے کہ پارٹی کو فیصلہ کرنے میں کچھ تذبذب ہورہاہے ۔لہٰذا یہ اعلان کرتی ہوں کہ اب مجھے لوک سبھا کا الیکشن نہیں لڑناہے ۔ ان کی عمر 75 سال ہے۔ مودی اور امیت شاہ نے سال کا بہانہ بنا کر ایڈوانی اورمورلی منوہر کوسیات سے آوٹ کردیا ہے۔شتروگھن سنہا نے بی جے بی چھوڑ کرکانگرس شامل ہو چکے ہیں ان کا کہنا ہے ’’میری صاف شبیہ رہی ہے اور کبھی کوئی بدعنوانی کا الزام مجھ پر نہیں لگا۔ اس کی سزا مجھے ملی، ایسے ایسے لوگوں کو وزیر بنایا گیا جن کا نام بچوں کو یاد تک نہیں رہتا۔ بی جے پی میں ’ون مین آرمی، ٹو مین شو‘ چل رہا ہے۔ ہماری پارٹی میں کہا جاتا تھا کہ ڈائیلاگ ہوتے رہنا چاہیے، لیکن کبھی ڈائیلاگ نہیں کیا گیا۔ میں نے اور یشونت سنہا نے ڈئیلاگ کرنے کی کوشش کی ، لیکن ہمیں کچھ بتانے کا موقع نہیں دیا گیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد تبدیلی کی گنجائش معلوم پڑ رہی تھی۔ لیکن جو تبدیلی ہوئی وہ تاناشاہی کی شکل میں نظر آئی۔ بی جے پی نے سب سے پہلے سینئر لیڈروں کا نام کاٹنے کا کام کیا۔ لال کرشن اڈوانی، یشونت سنہا، مرلی منوہر جوشی، ارون شوری... آج کہاں ہیں سب کو معلوم ہے۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی سب جانتے ہیں ’’میں نے ’لوک شاہی‘ کو ’تاناشاہی‘ میں بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ مودی کو ٹکٹ نہ دینا مہنگا پڑ گیا ہے۔ اپوزیشن زبردست انداز میں آگے بڑھ رہی ہے ، تین عورتوں ممتا بننر جی اور سونیا گاندھی کے سیاسی حملے مودی کو پریشان کر رہے ہیں ۔ اوڑیسہ اور آندھرا پردیش کے وزرائے اعلی مودی کو جواب دے رہے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے بقول ان کے فریبی نعرے ’’سب کاساتھ، سب کا وکاس‘‘میں کشمیریوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور بھاجپا حکومت کے قیام کے بعد عوام کے مصائب و مشکلات میں بے تحاشہ اضافے سے وکاس کا نعرہ بھی کھوکھلا ثابت ہوا۔ ۔ آج وہ ہندوستان وہ ہندوستان نہیں جو گاندھی اور نہرو کا ہوا کرتا تھا آج ہندوستان مکمل طور پر فرقہ پرستوں کی لپیٹ میں ہے ۔

حقیقت میں پلوامہ۔قومی سلامتی اور بھارت کی پاکستان کے خلاف جنگجوئی میں مودی عوام کے جذبات ابھانے میں ناکام رہے ہیں ۔ انتخابی مہم سے پہلے جتنے بھی سروے ہوئے ہیں ان میں بے روزگاری بھارت کے تما م ایشو پر چھائی رہی ۔

اپوزیشن زبردست انداز میں آگے بڑھ رہی ہے ، تین عورتوں ممتا بننر جی اور سونیا گاندھی کے سیاسی حملے مودی کو پریشان کر رہے ہیں ۔ اوڑیشہ اور آندھرا پردیش کے وزرائے اعلی مودی کو جواب دے رہے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے بقول ان کے فریبی نعرے ’’سب کاساتھ، سب کا وکاس‘‘میں کشمیریوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور بھاجپا حکومت کے قیام کے بعد عوام کے مصائب و مشکلات میں بے تحاشہ اضافے سے وکاس کا نعرہ بھی کھوکھلا ثابت ہوا۔ ۔ آج وہ ہندوستان وہ ہندوستان نہیں جو گاندھی اور نہرو کا ہوا کرتا تھا آج ہندوستان مکمل طور پر فرقہ پرستوں کی لپیٹ میں ہے ۔ مودی کی مخالفت تیزی سے بڑھ رہی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کی سیاسی جماعتوں،ریجنل پارٹیوں اور خود مودی کی جماعت میں مخالفت کا ایک طوفان اس وقت آٹھ کھڑا ہوا جب گجرات کی گاندھی نگر سے چھ مرتبہ کامیاب ہونے والے ایل کے ایڈوانی کو جو اس حلقے سے چھ مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنتے آئے تھے اور ان کی جگہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو ٹکٹ جاری کر دیا۔نہ صرف انہیں بلکہ مرلی منوہر کو بھی اتر پردیش سے ٹکٹ نہ دی کر ہاہر کیا بلکہ گڈگری کو اس وقت تک ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا جب تک انہوں نے یہ یقین نہیں دلایا کی مودی سے وزیر اعظم کا کوئی امید وار نہیں تھا۔ایل کے ایڈوانی جن کی قیادت میں پارٹی نے تین الیکشن لڑے اوردو مرتبہ پارٹی اقتدار میں آئی ایل کے ایڈوانی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جونریندر مودی کے محسن ہیں اٹل واچپائی مودی کو پسند نہیں کرتے تھے ایڈوانی نے مودی کے لیے اتنی قربانی دی کہانہوں نے وزیر اعظم بننے کی باری مودی پر قربان کردی۔یہ تو مودی کی سیاست ہے یہ خبر سن کر ایڈوانی صدمے میں چلے گئے اور انہوں نے خاموشی کر ایک ایسا بیان جاری کیا جس سے ایک نئی بحث نے جنم لیاکہ بی جے پی کے مخالف غدار نہیں ہیں سب سے پہلے مودی کی شدید مخالف ممتا بنر جی اور راہل کا خیر مقدمی بیان آیا اس کے بعد بحث چھڑ گئی پھر مرلی منوہر بھی بولے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔یاد رہے مرلی منوہر بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو بی جے پی کے صدر رہے ہیں ۔ یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے۔ دونوں بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے امید وار ہو سکتے تھے۔ مودی نے شطرنج کی سیاسی چال چلی ہے نہ رہے بانس نہ بجے بانسری والا معاملہ ہوا ہے۔ مودی کی مخالفت پارٹی کے اندر ہی نہیں بلکہ باہر بھی پھیل رہی ہے ۔ سترویں لوک سبھا کا پہلا مرحلا شروع ہونے سے پہلے ایک سو پچاس سائنس دانوں نے فیصلہ کیا ہے انہیں خاموش بیٹھنے کی بجائے وہ بات کہنی چاہیے جو ہر باضمیراور امن وانصاف پسند شخص کہنا چاہتا ہے۔اس سے قبل سو فلم سازوں نے بھی ایسی جرات دکھائی تھی۔اس سے پہلے بھارت کے مصنف بھی میدان میں آئے تھے انہوں نے بھی وہی کہا تھا جو آج ایڈوانی اور مرلی منوہر نے کہا ہے۔

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ظالموں نے پیرا پتہ ہی کاٹ دیا برسوں سے جس حلقے سے میں جیت رہاتھااس حلقے کا ٹکٹ بھی نہیں دیا۔ مودی کی احسان فراموشی بھی دیکھنے کے لائق ہے۔میں نے بنارس کا حلقہ اس کے نام صرف اس لیے کیا تھا اسے شکست نہ ہو۔ جہاں کا بچہ بچہ مجھے جانتا ہے اور وہ میرے فیصلے سے ناراض بھی تھا۔پھربھی میں نے جاکر لوگوں سے کہا مودی میرا عزیز ہے اسے جیتنا ایساہی ہو گاجیسے آپ نے مجھے جتیایا ہواور لوگوں نے میری بات مان لیاور لوگوں نے ایسے جانفشانی سے کام کیا جیسے وہ مجھے کامیاب کرارہے ہوں وہ بھول گیا کہ کل تک ہم ان کے بزرگ ہوا کرتے تھے۔ یشورے کے لیے وہ ہمارے پاس آتا تھا آتے ہی پیروں میں جھک کر فرمانبردارغلام کی طرح جھک کر حکم بجا لاتا۔آج حال یہ ہے کہ ہمارے گھر کا راستہ تک اسے یاد نہیں۔

مودی نے تو نعرہ لگایا تھا سب کا ساتھ سب کا وکاس اس نعرے کے بل بوتے پر وہ پورے پانچ سال حکومت میں رہے جب کانگرس نے اپنے منشور میں غریبوں کو سالانہ بہتر ہزار امداد دینے اور خواتین کے لیے ہر شعبے میں خواتین کی نمائندگی کا نعرہ لگایاتو مودی گبھرا گیا اور ان کے منشور کو دہشت گردوں کی حمائت والا منشور قرار دیا۔ مودی اور بی جے پی جہاں سے چلے تھے وہیں پہنچ گئے اب انہوں نے ہندوتوا اور راشڑ واد جیسے موضوعات کو انتخابی جلسوں کا موضوع بنانا شروع کر دیا ہے۔ منصوبہ پاکستان پر حملے کا بن رہا ہے ۔پاکستان کے وزیر خارجہ اس کی تفصیل بتا چکے ۔ مودی کے منصوبے ناکام ہو چکے ان کے اقتدار میں دوبارہ آنے کے امکانات بہت معدوم ہو چکے۔ سیاست ان کے ہاتھ سے نکا چکی ہے۔


ای پیپر