شیطان پورہ
09 اپریل 2019 2019-04-09

پہلا منظر !

اماوس کی رات میں پانیوں پر مجلس ابلیس برپاہے۔ لہروں پر ہلکورے کھاتے قالین پر دنیا کے کونے کونے سے آئے شتونگڑے موجود ہیں۔کالے رنگ کے چوغے پہنے ان شتونگڑوں کی صورتیں عام انسانوں جیسی ہیں لیکن شخصیت میں شرہی شر غالب ہے۔ان کی سرگوشیاں اتنی بلند ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ شورشرابے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس مجلس کاانعقاد پانچ سوسال بعد ہوتا ہے۔اتنے میں ابلیس کی آمد کا آوازہ لگتا ہے،جسے سنتے ہی شتونگڑوں کی اچھل کود بند ہوجاتی ہیں اور ہرطرف خاموشی چھاجاتی ہے۔ ابلیس چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہواتخت پر براجمان ہوتا ہے اور نخوت وتکبرسے اپنے میل ہا میل تک بیٹھے شتونگڑوں پر نظر دوڑاتا ہے ، ابلیس کو اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر شتونگڑے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔

’’اندھیرا قائم رہے ‘‘ کی دعا کے ساتھ مجلس ابلیس کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ابلیس سے اجازت لینے کے بعد شتونگڑے باری باری آکر اپنی ’’کارکردگی ‘‘ کا احوال پیش کرتے ہیں۔ پہلا شتونگڑا آیا اورسرجھکا کر بتایا کہ افریقہ میں جہالت کے اندھیرے اس قدر گہرے ہوچکے ہیں کہ اب وہاں کے باسیوں کے دلوں تک حقیقت کی روشنی پہنچنا مشکل ہے۔ دوسرے شتونگڑے نے کہا کہ اس نے یورپ میں مذہبی پیشواؤں کے سخت گیر رویے کے خلاف لوگوں کو ایسا ابھارا ہے کہ وہ اب ’’ انسان کو خدا سے آزادی چاہیے ‘‘ جیسے نعرے بلند کررہے ہیں۔ عربی لباس میں ایک شتونگڑا ، ابلیس کے سامنے کورنش بجالایا اور کہنے لگا۔’’ آقا! میں نے خدائے واحد کے ماننے والوں کو لفظی مباحث میں الجھا دیا ہے۔ یونانی فلسفے کے خمیر سے وہ بلبلے اٹھائے ہیں کہ اہل دانش کا سارا زور ہاتھی کو سوئی کے ناکے سے گزارنے جیسی بحثوں تک محدود ہوکررہ گیاہے۔ محلاتی سازشوں کی بدولت یوں لگتا ہے کہ جلد ہی اتفاق کی بنیادیں ڈھے جائیں گی اور ہرطرف انتشار ہی انتشار ہوگا۔ ‘‘

ابلیس اس ساری کارروائی کو انہماک سے سنتا رہا۔ شتونگڑے بڑھ چڑھ کر اپنی کارگزاری پیش کرتے رہے۔ ایک مکروہ صورت شتونگڑے نے بتایا کہ وہ مجلس میں آنے تک کوئی بڑا کام نہیں کرسکاتاہم آخری وقت میں شرمندگی سے بچنے کے لیے میں نے ایک میاں بیوی کے دل میں نفاق کے بیج بو دیئے۔ ابلیس نے جیسے ہی یہ سنا اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ اس نے مکروہ صورت شتونگڑے کو قریب بلایا اور ہاتھ تھام پر اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا۔

مجلس میں بیٹھے شتونگڑے اس پذیرائی پر حیران تھے کہ ابلیس کی آواز بلند ہوئی۔ ’’ میاں بیوی ، معاشرے کی بنیادی اکائی ہیں۔ جب اس بنیاد میں شک کا بیج بودیاجائے تو آہستہ آہستہ پورامعاشرہ اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔وفاداری کمیاب ہوجاتی ہے اور بے وفائی کے شیرے سے لتھڑے شیطانی جذبے معاشرے کو مفلوج کرکے رکھ دیتے ہیں۔ میاں بیوی میں اختلاف ظاہر میں بہت چھوٹا مگر باطن میں بہت بڑا کام ہے۔ اس کا اندازہ لگانا ہے تو رحمان کا یہ وعدہ دیکھ لو کہ’’ جو کسی ناراض میاں بیوی میں صلح کرائے گااسے جنت میں جگہ دوں گا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس شتونگڑے کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا شرف بخشا ہے۔ ‘‘

رات ڈھلتی جارہی تھی ،اور آہستہ آہستہ کارگزاری پیش کرنے والے شتونگڑوں کی تعداد بھی گھٹنے لگی۔ اس دوران ابلیس کی نظر ایک مریل سے شتونگڑے پر پڑی جو کندھوں میں سر دیے انجانے خوف سے ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ ابلیس نے اسے آواز دی اور پوچھا’’ کیا ہوا جو تمہاری حالت دگرگوں ہے ؟فکرمت کرو، شیطان کے وعدے پریقین رکھو ، میرے ساتھیوں کو جنت چھو کر بھی نہیں گزرے گی اورہم سب ضرور جہنم واصل ہوں گے۔ ‘‘

شتونگڑا اٹھ کر تخت کے قریب آیا۔ جب وہ بولنے لگا تو یوں لگ رہا تھا جیسے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے ہیں۔ اس نے ہیجانی لہجے میں کہا۔’’ اے ابلیس !ہم پر بہت برا وقت آگیا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی میں کہاں سے اس نحوست کا قصہ شروع کروں ، جس نے ہمیں آلیا ہے۔‘‘ ابلیس نے اس کی تسلی کے لیے چند جملے بولے تو شتونگڑے کی ڈھارس بندھی۔ ’’ اے ابلیس !میرا تعلق ہند سے ہے ، جہاں اکبر کی حکومت ہے ، لوگ اسے اکبر اعظم کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس نے رحمان کو چھوڑ کر شیطان کا راستہ چنا اور دین الٰہی رائج کیا۔ میں بہت خوش تھا کہ اس مجلس میں سب سے اچھی کارگزاری میری ہوگی مگر۔۔۔!اتنا کہہ کر شتونگڑا اپنا سرپیٹنے لگا۔

ابلیس کی دلچسپی میں اضافہ ہوگیا۔اس نے شتونگڑے کو اصل مدعا بیان کرنے کا حکم دیا جس پر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ ’’ اکبر اعظم نے حکم دیا ہے کہ جتنے گانے بجانے والے ہیں ان سب کو دارالحکومت سے نکال دیا جائے اور دور ایک بستی میں آباد کیاجائے۔ جس کا نام ’’ شیطان پورہ ‘‘ تجویز کیا گیا ہے۔ اے ابلیس !میں آتے ہوئے وہ قافلے دیکھ کر آیا ہوں جسے ہند کے دارالحکومت سے بارہ پتھر دور ایک ویران بستی ’’ شیطان پورہ ‘‘ میں آباد ہونے کا شاہی حکم دیا گیا ہے۔ اے ابلیس ! اکبر اعظم سے بہت امیدیں وابستہ تھیں لیکن اس نے ہمیں دنیا سے الگ تھلگ کردیا۔ موسیقی کے راگ رنگ کے نام پر جواں جسموں کے انگ انگ کی پوجا کرنے اب بھلاکون ’’ شیطان پورہ ‘‘ کا رخ کرے گا؟ ‘‘یہ کہہ کر شتونگڑا، ایک بار پھر سر پیٹنے لگا۔ ابلیس نے شتونگڑے کی کتھا سنی اور کوئی جواب دیئے بغیر مجلس برخاست کردی۔

دوسرا منظر !

اکیسیویں صدی کا آغاز ہے۔ اماوس کی رات میں ایک بار پھر پانیوں پر مجلس ابلیس سج چکی ہے۔ ابلیس تخت پر براجمان ہے اور شتونگڑے اپنی اپنی کارگزاری پیش کررہے ہیں۔ جنہیں سن کر مجلس میں بیٹھے شتونگڑے وقفے وقفے سے ’’ اندھیرا قائم رہے ‘‘ کے نعرے بلند کررہے ہیں۔دنیا سے رحمان کے نام لیواؤں کے ظاہر اور باطن کے بڑھتے فرق کاسن کرشیطان کے چہرے کی بڑھتی ہوئی سرخی اس کی اندرونی خوشی کو ظاہر کررہی ہے۔اسے اپنا رحمان سے ہونے والا وہ مکالمہ یاد آرہا ہے۔ جب اسے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کے بعد راندہ درگاہ قرار دیا گیا تھا۔اپنا مقام کھونے کے بعد اس نے رحمان سے درخواست کی تھی کہ اسے قیامت تک کی مہلت دی جائے تاکہ میں تیرے بندوں کو بہکا سکوں۔ یہ مہلت اسے مل گئی تھی مگر رحمان کے اس فرمان کے ساتھ ، کہ میرے مخلص بندے تیرے بہکاوے میں کسی صورت نہیں آئیں گے۔ اگر کسی پر تو نے وقتی غلبہ پابھی لیا تو میں اس کے لیے توبہ کی صورت میں واپسی کا دروازہ کھول رہا ہوں۔ لیکن آج شتونگڑوں کی کارگزاری سن کے اسے لگ رہا تھا کہ ، دنیا کی محبت انسانوں پر اتنی غالب آچکی ہے کہ وہ حلال وحرام اور رحمان و شیطان میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھونے لگے ہیں۔کثرت کی چاہت میں ان کا دھیان ’’توبہ ‘‘ کی طرف جاہی نہیں رہا۔

خوشی کے ان لمحات میں ابلیس کی نظر اس شتونگڑے پر پڑی ، جس نے پچھلی مجلس میں اپنے خطے کا احوال سنا کر سب کو پریشان کردیا تھا۔ ابلیس نے اسے تخت کے قریب بلاتے ہوئے حکم دیا کہ وہ اپنی کارگزاری پیش کرے۔ ’’شتونگڑے نے بے فکرے انداز میں کہا۔’’اے ابلیس !سب اچھا ہے۔ اب تو ہمیں انسان کو بہکانے کے لیے محنت بھی نہیں کرنا پڑتی ، ہرکوئی ایک دوسرے پر شیطانی حربے آزما رہا ہے ،رحمان کے کچھ بندے دوسروں کو راہ راست پر لانے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کی بے بسی پر اس وقت ہنسی آجاتی ہے جب ان کی باتوں پرکوئی کان نہیں دھرتا۔ ملاوٹ ، ناپ تول میں دھوکے سے لیکر جھوٹ ، مکروفریب ہر شیطانی رویہ عام ہے۔ اے ابلیس !خوش ہوجاؤ ، ہرطرف شر ہی شر پھیل چکا ہے۔ ‘‘

ابلیس نے زیر لب مسکراتے ہوئے پوچھا’’ اکبر اعظم کے بنائے ’’ شیطان پورہ ‘‘ کا کیا ہوا؟ جس کی منحوس خبر تم نے پچھلی مجلس میں سنائی تھی۔ شتونگڑے کے چہرے پرایسے تاثرات ابھرے جیسے اس کو کوئی بھولی بسری بات یاد کرنا پڑرہی ہو۔ ’’اے ابلیس ! شیطان پورہ ، وہ تو قصہ ماضی ہوچکا، اب تو کسی کو اس بستی کا نام تک یاد نہیں۔ ‘‘

’’ اس میں رہنے والے کہاں گئے۔۔۔؟‘‘ ابلیس نے بے چینی سے پوچھا۔

شتونگڑے کے منہ سے نکلنے والا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ اس نے آداب مجلس کے باعث جلدی سے خود پر قابو پایا اور بولا ’’ اے ابلیس !اب شیطانیت کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی شیطان پورہ کے باسیوں کو ، دونوں ہی دنیا میں ایسے رچ بس چکے ہیں جیسے آٹے میں نمک۔ ‘‘

ابلیس کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا۔ اس نے تخت پر پہلو بدلتے ہوئے دوبارہ پوچھا ’’ شیطان پورہ کے باسی کہاں ہیں ؟‘‘

شتونگڑے نے بلند آواز میں کہا ’’اے ابلیس ! شیطان پورہ کب کا نابود ہوچکا اور اس کے باسی، وہ اب دنیا بھر میں پھیل کر اقتدار کی غلام گردشوں میں چہل قدمی کرتے ہیں۔‘‘

شتونگڑے کی بات کر مجلس ابلیس خوشی سے اچھل پڑی۔ ایک زور دار آواز بلند ہوئی ’’اندھیر اقائم رہے۔‘‘ اس آواز کو دنیا بھر میں انسانوں نے حیرانی سے سنا اور پھر سر جھٹک کر اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔


ای پیپر