دس اپریل کو کیا بیتی؟
09 اپریل 2019 2019-04-09

کیلنڈر کا 100 واں دن دس اپریل کہلاتا ہے جس کے بعد سال میں 265 دن رہ جاتے ہیں۔ اپریل کی دس تاریخ نیوکلےئر ٹیسٹ کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہے۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی اور وجہ کہ سوویت یونین، امریکہ اور فرانس نے اپنے نیوکلےئر ٹیسٹ کے لیے مختلف پانچ برسوں میں دس اپریل کے دن کو ہی منتخب کیا ۔ ترتیب کے مطابق سوویت یونین نے 1957ء، امریکہ نے 1963ء، 1968ء، 1986ء اور فرانس نے 1981ء میں دس اپریل کو ہی اپنے اپنے نیوکلےئر ٹیسٹ کیے۔ نیوکلےئر دھماکوں کے علاوہ کچھ دوسرے دھماکہ خیز واقعات بھی دس اپریل کو ہی رونما ہوئے جنہوں نے مستقبل کی انسانی تاریخ پر اہم اثرات مرتب کیے۔ مثلاً برطانیہ نے 1710ء میں کاپی رائٹ کے ضابطہ کار کا پہلا قانون ایشو کیا جس کے بعد اصل مسودے کے مصنف کو قانونی تحفظ ملا۔ امریکی صحافت کا مشہور اخبار نیویارک ٹریبیون نامور صحافی ہوریس گریلی کی ایڈیٹرشپ میں دس اپریل 1841ء کو شائع ہونا شروع ہوا۔ امریکی ریاست لیوزیانا کے شہر نیواورلینز میں دس اپریل 1872ء کو سیاہ فام لوگوں کا پہلا ’’نیشنل بلیک کنونشن‘‘ منعقد ہوا۔ امریکہ میں سیاہ فاموں کی اس سیاسی بیداری کی پہلی کوشش کے 137 برس بعد براک اوبامہ پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔ تفریح اور مختصر سفر کی سہولت کے لیے کیبل کار کا تصور بھی پہلی مرتبہ دس اپریل 1878ء کو امریکہ میں کیلی فورنیا سٹریٹ کیبل کار ریل روڈ کمپنی پراجیکٹ کے نام سے شروع ہوا۔ جاپان کے سیاسی جمہوری سفر میں بھی دس اپریل بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دس اپریل 1946ء کو پہلی مرتبہ جاپان کی پارلیمنٹ کے لیے انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ ماڈرن ہسٹری میں امریکہ اور چین کے درمیان اہم ترین سفارت کاری کا واقعہ ’’پنگ پونگ ڈپلومیسی‘‘ ہے جس کے تحت امریکی ٹیبل ٹینس ٹیم دس اپریل 1971ء کو چین پہنچی۔ امریکہ اور چین کے درمیان یہ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایران میں دس اپریل 1972ء کو سات اعشاریہ صفر شدت کا زلزلہ آیا جس سے صوبہ فارس کی آبادی کا پانچواں حصہ مکمل طور پر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اِسی دن یعنی دس اپریل 1972ء کو امریکہ، سوویت یونین اور 70 دیگر ممالک بائیولوجیکل ہتھیاروں پر پابندی لگانے پر متفق ہوئے۔ دنیا کے افسانوی بحری جہاز کا درجہ رکھنے والے ٹائی ٹینک نامی شپ نے برطانیہ کے ساحلی شہر ساؤتھ ایمپٹن سے نیویارک کے لیے اپنے سفر کا آغاز دس اپریل 1912ء کو کیا ۔ اس میں تقریباً دو ہزار دو سو چوبیس مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ یہ اُس وقت دنیا کا سب سے زیادہ لگژری بحری جہاز تھا۔ ٹائی ٹینک جہاز کے بنانے والے اس کی مضبوطی کو چیلنج کرتے تھے لیکن مضبوطی میں خوش قسمت ترین کہلانے والا یہ بحری جہاز بہت جلد بدقسمت ثابت ہوا کیونکہ یہ اپنے پہلے اور آخری سفر کے دوران ہی سمندر میں آئس برگ سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا جس میں پندرہ سو سے زائد مسافر ہلاک ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ کہ ٹائی ٹینک جہاز میں ہلاک ہونے والوں میں برطانوی شہریوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ اس میں سوار امریکی شہری زیادہ تر بچ گئے۔ بعد میں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ برطانوی شہری اپنی تہذیب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈوبتے جہاز سے لائف بوٹس میں سوار ہونے کے لیے بھی قطار بناتے رہے جس سے ان کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا جبکہ امریکی قطار کی پروا کیے بغیر لائف بوٹس میں جمپ کرتے رہے۔ ہالی ووڈ کے شہرۂ آفاق مصری ایکٹر عمر شریف دس اپریل 1932ء کو سکندریہ مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کی مشہور فلموں میں دا جیول آف دا نائل، فنی گرل، ڈاکٹر ژیواگو، جنگیز خان اور لارنس آف عربیہ وغیرہ شامل ہیں۔ عمر شریف عربی، انگریزی، یونانی اور فرانسیسی پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ وہ جوئے کے دلدادہ تھے۔ جوئے کے شوق میں وہ اپنی ہرچیز داؤ پر لگا دیتے لیکن جب انہوں نے امریکہ کو خیرباد کہہ کر اپنے آبائی ملک مصر میں مستقل سکونت اختیار کی تو اپنی توجہ صرف اپنے خاندان کی طرف مبذول کرلی اور اپنی وفات تک پھر کبھی جوا نہیں کھیلا۔ پاکستان کے حوالے سے بھی دس اپریل کی تاریخ خاص اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے مطابق د س اپریل 1973ء کو پاکستان کا تیسرا آئین پارلیمنٹ سے منظور ہوا جسے 14 اگست 1973ء کو نافذ کیا گیا جو اَب تک نافذالعمل ہے۔ اس کے تحت ذوالفقار علی بھٹو پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ بینظیر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کرکے دس اپریل 1986ء کو لاہور پہنچیں۔ اُس وقت ملک میں جنرل ضیاء الحق ہی حکمران تھے جن کے مارشل لاء کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ بینظیر بھٹو کی واپسی کو قابل قبول بنانے اور انہیں محفوظ سیاسی کوریڈور کی فراہمی کے حوالے سے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے کچھ انٹرنیشنل بروکرز نے اپنا اہم کردار ادا کیا ۔ عین اسی دن امریکہ نے اپنا طاقتور نیوکلےئر ٹیسٹ بھی کیا تھا جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ دس اپریل 1988ء کا دن راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری کبھی نہیں بھول سکتے جب صبح سویرے پوری فضاء میزائلوں کے دھماکوں سے گونج اٹھی۔ آسمان پر ہرطرف میزائل اڑنے لگے اور ہرطرف گرنے لگے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ جڑواں شہروں کے شہریوں نے پہلا تاثر یہی لیا کہ دشمن ملک نے کہوٹہ لیبارٹری پر میزائلوں سے حملہ کردیا ہے۔ رفتہ رفتہ پتہ چلا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع اسلحہ ڈپو اوجڑی کیمپ پھٹ گیا ہے اور اس میں سٹور کیے ہوئے میزائل اڑاڑ کر گرنے لگے ہیں۔ اس تباہی سے بہت سے شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دس اپریل 1988ء کا یہ دن سعودی عرب میں مقیم 29 برس کے نوجوا ن شاہد بھی کبھی نہیں بھول سکتے کیونکہ اسی اوجڑی کیمپ سے نکلنے والے ایک میزائل نے ان کے والد کی چلتی گاڑی کو ہٹ کیا جس میں اُن کے والد جاں بحق ہوگئے اور ان کے بڑے بھائی زخمی ہوکر تقریباً 17 برس تک بیہوشی کی حالت میں رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ اُس نوجوان شاہد کو ہم شاہد خاقان عباسی کے نام سے جانتے ہیں جو بعد میں پاکستان کے وزیراعظم بھی منتخب ہوئے۔ اوجڑی کیمپ کے میزائل سے جاں بحق ہونے والے ان کے والد خاقان عباسی پاکستان اےئرفورس کے ریٹائرڈ افسر تھے اور انتقال کے وقت وفاقی وزیر بھی تھے۔ آج کل اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے بہت بات ہو رہی ہے۔ کچھ حلقے اس ترمیم کو پسند نہیں کرتے جبکہ پیپلز پارٹی اور کچھ سیاسی جماعتیں اٹھارویں ترمیم کے دفاع میں سیسہ پلائی دیوار بننے کو تیار ہیں۔ یہ اٹھارویں ترمیم بھی دس اپریل 2010ء کو منظور ہوئی جس کے تحت صوبوں کو بہت حد تک مالی اور انتظامی امور میں خودمختاری دی گئی۔ آج بھی دس اپریل 2019ء ہے۔


ای پیپر