وحدتِ اْمت۔۔۔ کچھ عملی اقدام !
09 اپریل 2019 2019-04-09

کلمۂ طیب 133 کلمۂ وحدت ہے۔ کلمہ پڑھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ گو ایک ملتِ واحدہ کا حصہ بن گیا ہے۔ دین کے نام پر ملتِ اسلامیہ کی مین اسٹریم سے علیحدہ کسی گروہ کا قیام ہی فرقہ بندی کی ابتدا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ اْمت کی اکثریت کسی گمراہی پر متفق نہ ہوگی133 اور یہ کہ جماعت پر اللّٰہ کا ہاتھ ہے ، اورجماعت سے علیحدہ ہونے والے کو شیطان دبوچ لیتا ہے۔حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے ’’اسلامی معاشرہ مسلمانوں کے طرزِ حیات کا نام ہے‘‘

دینِ 133دسترخوانِ محمدیؐ ہے۔ سب کلمہ گو اِس خوانِ نعمت پر مدعو ہیں۔ دین کے دسترخوان پر ہم سب مہمان ہیں۔ ایک مہمان کیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی دوسرے مہمان کودسترخوان سے اْٹھا دے، خواہ اِسے اْس کا طرزِ طعام اور کلام کیسا ہی ناگوار کیوں نہ محسوس ہو۔ اس سے میزبان ناراض ہوسکتے ہیں۔ جس طرح ایک ریاست میں کسی کوشہریت ملتے ہی اسے وہ تمام حقوق مل جاتے ہیں جو اس کے شہریوں کو حاصل ہیں ، اسی طرح کلمۂ طیبہ پڑھنے والا قانونی طور پر ان تمام حقوق کا اہل ہوجاتا ہے جو ملتِ اسلامیہ کے ہر فرد کو حاصل ہیں۔ اَز رْوئے حدیث ‘ ایک کلمہ گو کی جان ، مال اور عزت کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے بھی بڑھ کر ہے، یعنی ایک مسلمان کی جان ، مال اور عزت کو پامال کرنا گویا شعائراللہ کی بے حرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ کلمہ عطا کرنے والوں نے کلمہ گو کی حْرمت اس قدر قائم کررکھی ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق بتایا گیا ہے ، اس کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی گناہ قرار دیا گیا ہے۔فرمایا گیا کہ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں۔گویا بے ضرر ہونا مسلمان کی پہچان ہے اور منفعت بخش ہونامومن کی شان ہے۔

احادیث میں فرمایا گیا ہے کہ دوبھوکے بھیڑیے کسی ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتناحکومت کی حرص میں مبتلا اَمیرِ ملت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ملتِ واحدہ کو حصوں بخروں میں تقسیم کرنے کاقبیح عمل منصب اور حکومت کے حریص لوگوں کے ہاتھوں انجام پاتا رہا۔ عہدے کی حرص میں مبتلا حاکمِ وقت بھی ہوسکتا ہے اور کسی جماعت کا عہدیدار بھی۔ ملت کو فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم کرنے کا عمل بہت ہو چکا ،اور اس کی پاداش میں ملتِ اسلامیہ نے ذلت اور نکبت کا بار بھی بہت اٹھا لیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملت پھر سے اسی نقطۂ وحدت سے اپنے سفر کا آغاز کرے جہاں سے منتشر ہوئی تھی۔ ہمیں کلمۂ طیبہ کی وحدت کی طرف واپس پلٹنا ہوگا۔یہ فرقے ، جماعتیں اور مکاتبِ فکر سب اپنے اپنے شعور اور فہم کے درجے ہیں۔ ایک زاویۂ فہم رکھنے والے کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے سے مختلف اندازِفکر رکھنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا حکم سنائے۔مذہب کی دنیا‘کتاب اور روزِ حساب پر یقین رکھتی ہے لیکن یہ حسابی کتابی دنیا نہیں۔ مذہب سائنس نہیں ‘ کہ جہاں دواور دو صرف چار ہوتے ہیں، بلکہ یہاں ایک ہی موضوع پر ایک سے زیادہ باتیں بھی درست ہوسکتی ہیں133 اور بیک وقت درست ہو سکتی ہیں۔

یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ کسی فرقے کی فلاح اسلام کی فلاح نہیں ہے۔ کسی فرقے اور جماعت میں شامل افراد خواہ کیسے ہی نیک نیت اور نیک اعمال کے

فضائل سے متصف کیوں نہ ہوں‘ان کی اپنے فرقے اور جماعت کی خدمت ‘اسلام کی خدمت نہیں۔ کوئی جماعت ، مسلک یا مکتبۂ فلر کتنا ہی صائب اور کیسا ہی تیز رفتار ی سے پھلنے پھولنے اورپھیلنے والا کیوں نہ ہو‘ وہ کسی صورت تمام اْمت ِ مسلمہ کو اپنے اندر نہیں سموسکتا، بہت سے افراد اور گروہ پھر بھی اس سے خارج ہی رہیں گے۔ ایسی صورت میں اسلام کی خدمت کی کیا صور ت رہ جاتی ہے؟ درحقیقت اِسلام کی خدمت یہ ہے کہ مسلمانوں کی خدمت کی جائے۔

وحدتِ اسلامیہ میں واپس جانے کی صورت یہی ہے کہ اپنے اپنے گروہ ، مسلک ، فرقے اور جماعت سے بیزاری کا اعلان کیا جائے، اپنے فرقوں کی وکالت سے توبہ کی جائے۔ ہماری اصل شناخت کلمہ ہے‘ کوئی فرقہ یا جماعت نہیں۔ زلزلے کے اثر سے زبان سے جو کلمہ "لاالٰہ الّا اللہ محمد الرسول اللہ"بے ساختہ نکلا ہے ‘ اس پر اب قیام کیا جائے۔ ہر مسجد ، مدرسے ، اور خانقاہ میں اہلِ دل موجود ہیں کہ اْمت کی تفریق پر کڑھتے ہیں ، منتشرملت کو ملتِ واحدہ کی صور ت میں دیکھنے کیلئے تڑپتے ہیں لیکن ایک واضح لائحہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے عملی قدم نہیں اٹھاپاتے۔اسلام کی خدمت کے جذبے سے سرشار صاحبانِ ذی فہم ووقار کی خدمت میں چند نکات133 کچھ اقدام حکومتی سطح پرکرنے کے ہیں اور کچھ انفرادی سطح پر کرنے کے لائق ہیں:

۱ ) عقیدے عقیدت سے ہیں، اپنی عقیدت دوسروں پرمسلط نہ کریں133 کہ اللہ اور اللہ کے حبیبؐ پر ایمان لانے کے علاوہ کسی شخصیت پر ایمان لانا ایمان کا حصہ نہیں۔اپنی محبت کو قانون کا درجہ نہ دیا جائے اور کسی کی محبت کوقانون کے کٹہرے میں کھڑا نہ کیا جائے۔ محبتوں کاقانونی اورشرعی جواز تلاش نہیں کیا جاتا۔

۲ ) کوئی گروہ توحید، رسالت یا ولائت کے ’’تحفظ‘‘ کیلئے خود کو مختص نہ سمجھے۔ایک مسلمان دوسرے مسلمانوں کی نیت پر شک نہ کرے۔کسی مسلمان کا مقصدتوہینِ رسالتؐ ، توہینِ ولایت یا انکارِ توحید نہیں۔ اگر کسی کو اپنے مسلمان بھائی کے فکر و عمل میں کوئی قابلِ اصلاح بات نظر آ رہی ہے تو وہ انفرادی طور پر اس کی اصلاح کر دے 133 محبت اورخدمت کے ساتھ 133 کسی کی اصلاح اْس پر الزام لگا کر نہیں کی جاسکتی۔

۳ ) مسلمان مسلمان کے خلاف جہاد نہ کریں۔ مسلمانوں کے معاشرے میں اَمر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ معروف طریقے سے ادا کیا جائے۔ اَمر باالمعروف ذاتی دائرے میں اور نہی عن المنکر ریاستی دائرے میں رہنے دیا جائے۔

۴) مسلم معاشرے میں رعایا کی بجائے حکمرانوں کی اصلاح پر توجہ دی جائے کہ133 النّاس عَلی دِین مْلوکِھم133 اور یہ کہ بہترین جہاد جابر سلطان کے آگے کلمۂ حق کہنا ہے۔

۵) دین کے نام پر مسلمان مسلمانوں کے اندر کوئی گروہ یا جماعت تشکیل نہ دیں۔ وقت نے یہی بتایا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہر تحریک اور جماعت بالآخر ایک فرقے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ با نی قائدین مخلص ہوتے ہیں لیکن بعدمیں مقلدین اْن کے راستے سے ہٹ کر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی ضد میں دوسری انتہاپر چلے جاتے ہیں۔ ایک اسلامی ملک میں دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم اور تفریق بے معنی ہے۔ اسی تفریق کو استعماری طاقتیں استعمال کرتی ہیں۔ جب لیبل لگ جاتے ہیں تو خرید و فروخت آسان ہو جاتی ہے۔

۶ ) کسی فرد یا گروہ کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کلمہ گو کو کافر ، منافق یا مشرک کہے۔ وہ آیات جو کافروں اور مشرکوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں‘ ان کا اطلاق مسلمانوں پر نہ کیا جائے۔ اسلامی ریاست میں کسی کو کافر،منافق یا مشرک کہنا ایک ریاست کے خلاف جرم تصور ہوناچاہیے ،اور ایسے شخص پر توہینِ اسلام کی شق کے تحت مقدمہ درج کرنا چاہئے کہ133 والفتنۃ اشدّ من القتل ( فتنہ قتل سے زیادہ شدید جرم ہے)۔ اگر سرکاری اِملاک کو نقصان پہنچاناایک قابلِ گرفت جرم ہے تو وحدتِ ملت کو نقصان پہنچانا ‘اس سے کہیں بڑھ کر سنگین جرم ہے۔

۷ ) کسی مسجد اور مدرسے کی تعمیر کیلئے براہِ راست بیرونی امداد حاصل کرنے پر پابندی ہونی چاہیے۔مساجد اور مدارس کی تعمیر کے نام پریہ فنڈنگ فرقوں کی فراوانی کا باعث بنتی ہے۔مساجد اور مدارس کی آمدن اور جمع خرچ کی تفصیل حکومتی آڈٹ اداروں کی نظر میں ہونی چاہیے۔دین کی خدمت کرنے والے مخلص علماء کو آگے بڑھ کر خود اپنے مدارس اور مساجد کے مالی معاملات کی پڑتال کیلئے پیش کرنا چاہیے تاکہ علمائے حق اور علمائے سْو کے درمیان ایک حدِ امتیاز قائم ہو سکے۔

۸) ملک کے طول و عرض میں چلنے والے تمام مدارس کو پرائمری اسکول کا درجہ دے کر وہاں کے معلمین کواساتذہ کے طور پر بھرتی کرلیاجائے۔ مدارس کے سند یافتہ اساتذہ کو اسکولوں میں اور اسکولوں میں موجود اسلامیات کے اساتذہ کو مدارس میں متعین کر دیا جائے۔

۹) تمام مدارس کانصاب یکساں کر دیا جائے۔ سب مکاتبِ فکر باہم مشاورت سے ایک نصاب تشکیل دیں۔کسی مسجد یا مدرسے کی شناخت کسی فرقے کے حوالے سے نہ ہونی چاہیے۔ مسجد اور مکتب سب کیلئے برابر، یکساں اور محترم ہیں۔ عبادت گاہیں درس گاہیں ہوتی ہیں۔عبادت گاہ ‘ جسم اور روح کی حفاظت گاہ ہوتی ہے۔

۱۰ ) دینی جماعتوں اور جمعیتوں کو سیاسی جماعتیں بننے سے روکا جائے، اور سیاسی جماعتوں کو مذہبی رہنماؤں اور گدی نشینوں سے اتحاد اور اتحاد کے اعلانات سے روکا جائے۔ ملکی سیاست فرقہ وارانہ بنیاد پرتقسیم نہ ہونی چاہیے۔سیاسی تقسیم اس طرح نقصان نہیں پہنچاتی جس طرح لسانی گروہی اور فرقہ وارانہ تقسیم قوم کو منقسم کرتی ہے۔ مذہبی راہنماؤں کی میڈیا پریس کانفرنسوں اور تقریروں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ دین کا کام اخلاص کا تقاضا کرتا ہے اور تشہیر اخلاص کی نفی ہے۔جو دین کے کام میں مصروف ہے‘ اسے تشہیر سے کیا مطلب؟

۱۱ ) دینی معاملات پر فتویٰ جاری کرنا انتہائی اہم ذمہ داری ہے ، یہ ذمہ داری کسی فرد،مسجد یا مدرسے کے حوالے نہ کی جائے، بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کو فعال بناکر وہاں ایک مرکزی دار الافتاء کا قیام عمل میں لایا جائے۔

۱۲) واعظین و مبلغین فی البدیہہ تقریر کرنے کی بجائے لکھی ہوئی اور طے شدہ موضوع پرخطاب فرمائیں۔ تاریخی اور مسلکی نظریات کی بجائے سیرت اور اخلاقیات کے موضوعات کا انتخاب کیا جائے۔ اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے اخلاقی وروحانی اقدار کے فروغ کی ضرورت ہے۔ر سولِ کریمؐ کا ارشاد مبارک ہے ’’ مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا گیا ہے‘‘۔دلیل کی بجائے دل کو خطاب کیا جائے۔ایمان دلیل کا نہیں ‘ دل کا سودا ہے اوردین کسی سیاسی نظام سے پہلے ایک اخلاقی اور روحانی نظام ہے۔


ای پیپر