بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک دبی ہوئی چنگاری
09 اپریل 2019 2019-04-09

بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک دبی ہوئی چنگاری کی طرح اندر ہی اندر سلگ رہی ہے۔ جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے۔ کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود مقتدر اور فیصلہ ساز حلقے اس جائز مطالبہ کو بلاوجہ ٹالتے جارہے ہیں۔ نہ تووہ اس مطالبے کے برحق ہونے کے، اور نہ ہی اس کے قابلِ عمل ہونے سے انکاری ہیں۔ ملک کی ہر سیاسی جماعت بہاولپور صوبہ کے مطالبے کی زبانی حمایت کرتی ہے لیکن اقتدار میں آتی ہے تو اس کام میں روڑے اٹکاتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے اقتدار کے دوران صرف ٹال مٹول کی ، لیکن جب یہ جماعتیں اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو بہاولپور صوبے کے قیام کے لیے قراردادیں ہی نہیں، آئینی ترامیم بھی پیش کردیتی ہیں۔ موجودہ حکمران جماعت بھی اس صوبے کے قیام کی بظاہر مخالف نہیں، لیکن لگتا یہ ہے کہ یہ حکومت بھی اپنے دورِ اقتدار میں بیانات سے آگے نہیں بڑھے گی، اور اِس دورِ حکومت میں بھی بہاولپور صوبے کا مطالبہ عملی شکل اختیار نہیں کرپائے گا۔ اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ پُرامن مطالبہ اب احساسِ محرومی میں تبدیل ہورہا ہے اور کسی بھی مرحلے میں اس میں تعصب یا تشدد کا عنصر شامل ہوسکتا ہے جو پاکستان جیسی فیڈریشن کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔

اس بات کا اندازہ گزشتہ ہفتے بہاولپور پریس کلب کی دعوت پر وہاں دو روزہ قیام کے دوران ہمیں اُس وقت ہوا جب بہاولپور ، قلعہ دراوڑ اور دیگر علاقوں میں نہ صرف مقامی لوگوں نے بہاولپور صوبے کی بحالی کی حمایت میں بھرپور گفتگو کی ، بلکہ غیر مقامی لوگوں نے بھی اس کی بھرپور انداز میں حمایت کی ۔ سابق ریاست بہاولپور کے تین اضلاع بہاولنگر، رحیم یار خان اور بہاولپور میں سرائیکی بولنے والے مقامی یا ریاستی لوگوں کے علاوہ پنجابی بولنے والے زراعت پیشہ آبادکار اور اردو بولنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد آباد ہے یہ تینوں طبقات محبت و پیار کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہیں۔ آپس میں شادی بیاہ بھی کرتے ہیں اور کاروباری شراکت بھی۔ یہاں اب تک عصبیت، نفرت یا تعصب نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ریاست کے یہ تینوں طبقات صوبہ بحالی کے حامی ہیں۔ تینوں نواب بہاولپور کی فیاضی، خداترسی اور حسنِ انتظام کے گن گاتے ہیں۔ تینوں طبقات اردو زبان کے زبردست حامی پائے گئے ہیں۔

بہاولپور پریس کلب میںیونین آف جرنلسٹس کے صدر اور باربار پریس کلب کے صدر منتخب ہونے والے سینیئر صحافی شاہد بلوچ اور دوسرے مقامی صحافیوں نے جذباتی انداز میں علیحدہ صوبہ کا مطالبہ کیا سینئر سیاست دان، اورمہاجر پس منظر کے حامل صاحبِ اسلوب شاعر جناب تابش الوری نے اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں بتایا کہ قیام پاکستان کے وقت ریاست بہاولپور کی اپنی اسمبلی، سپریم کورٹ اور نظام تعلیم موجود تھا۔ اپنا سکہ اور اپنی فوج تھی۔ نواب بہاولپور نے کسی شرط کے بغیر ریاست کو پاکستان میں شامل کردیا۔ 1952ء میں جب صوبائی انتخابات ہوئے تو ریاست کی حدود کو صوبہ بہاولپور قرار دے کر یہاں انتخابات کرائے گئے۔ نئی منتخب اسمبلی نے صاحبزادہ حسن محمود کو اپنا وزیراعظم، چودھری فرزند کو اسپیکر اور موجودہ مسلم لیگ (ق) کے متحرک رہنما طارق بشیر چیمہ کے والد چودھری بشیرچیمہ کو ڈپٹی اسپیکر منتخب کیا۔ 1952ء سے 1955ء تک یہ صوبائی اسمبلی کہلاتی تھی۔ 1954ء میں جب برابری کے اصول کے تحت مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنایا گیا تو بہاولپور کی بھی صوبائی حیثیت ختم کردی گئی۔سید تابش الوری نے مزید بتایا کہ قومی جذبے کے تحت بہاولپور کے عوام نے اسے قبول کرلیا، لیکن 1969ء میں جب صدر پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے ون یونٹ توڑ کر مغربی پاکستان کے تمام صوبے بحال کردیے تو نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کرنے کے بجائے اسے صوبہ پنجاب میں ضم کردیا گیا اس ناانصافی کے خلاف عوام نے احتجاج، جلسے، جلوس اور مظاہرے کیے اور 1970ء کے انتخابات میں بہاولپور علیحدہ صوبہ کے نعرے کے تحت ریاست کے تینوں اضلاع میں بہاولپور متحدہ محاذ کے نامزد امیدوار کامیاب ہوئے، اور ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی جیسی اُس وقت کی مقبول جماعت کے علاوہ مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور دوسری سیاسی جماعتوں کو بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ بعد کے بھی تمام انتخابات میں تمام امیدوار (خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں) علیحدہ صوبے کے نعرے ہی پر جیتتے رہے، لیکن منتخب لوگ مصلحتوں کا شکار رہے یا حکمرانوں سے اپنی قوم کا مطالبہ نہ منواسکے۔ تابش الوری کا کہنا ہے کہ عوام الگ صوبہ چاہتے ہیں، سیاسی لوگ انتخاب میں یہ نعرہ لگا کر جیتتے ہیں، پنجاب اسمبلی بھی بہاولپور صوبے کے حق میں متفقہ قرارداد منظور کرچکی ہے، اور اب قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن نے اس کام کے لیے قرارداد اور آئینی ترمیم پیش کردی ہے، لیکن یہ بیل اب بھی منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی، کیونکہ سیاسی جماعتیں اس معاملے میں نیک نیت نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہاولپور صوبہ بننے سے پنجاب کو مالی اور سیاسی فائدہ ہوگا۔ ایک تو بہاولپور کے اضلاع پر صوبائی حکومت جو کچھ خرچ کرتی ہے وہ رقم بچ جائے گی،دوسرے یہ تمام پیسہ لاہور یا بڑے شہروں پر لگائے جانے کے الزام سے بھی بری ہوجائے گی۔ نیز سینیٹ میں بہاولپور کی برابر کی نمائندگی ہوگی جودیرینہ باہمی تعلق اور دیگر مفادات کے باعث پنجاب ہی کے ساتھ ہوں گے۔ اس مجلس میں بعض نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کے جائز مطالبے کو نہ مانا گیا تو ہمارے نوجوان دوسرے آپشنز کی طرف بھی جاسکتے ہیں جس سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے۔ یہاں تابش الوری نے یہ بھی کہا کہ بہاولپور صوبہ بننے سے تحریک انصاف کی وسطی پنجاب میں حکومت ختم ہوسکتی ہے۔ جبکہ بہاولپور میں بھی اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اتحاد کرلیں تو اُن کی مخلوط حکومت بن سکتی ہے، اس لیے موجودہ حکومت سے ہمیں اُمید نہیں، تاہم ہماری پُرامن اور آئینی کوششیں جاری رہیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یحییٰ خان نے بہاولپور صوبہ اپنے پرنسپل سیکریٹری ایم ایم احمد کے مشورے پر نہیں بننے دیا، کیونکہ بہاولپور سپریم کورٹ نے دنیا بھر میں سب سے پہلے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ دیا تھا، اور ایم ایم احمد کٹر قادیانی ہونے کے باعث یہ بدلہ چکا رہے تھے۔ تاہم یہ بات ریکارڈ سے دیکھنے کی ہے کہ ا قیام پاکستان کے فوری بعد بہاولپورکی حیثیت کیا تھی اورون یونٹ بناتے وقت اسے کس حیثیت میں مغربی پاکستان میں شامل کیا گیاتھا۔ بہاولپور کی تاریخی لائبریری کے دورے کے دوران شرکاء کو خوشگوار حیرت ہوئی کہ چیف لائبریرین رانا جاوید اقبال جو شیخوپورہ کے رہنے والے ہیں وہ بھی بہاولپور صوبے کے لیے مضبوط دلائل کے ساتھ مصروفِ گفتگو تھے۔ اس مختصرسے دورے کے بعد راقم کی رائے ہے کہ اب بہاولپور صوبے کے مطالبے کو مزید ٹالنے سے گریز کیا جائے۔ اگر صوبہ بننے میں کوئی معقول رکاوٹ ہے تو وہ عوام کے علم میں لائی جائے، ورنہ سیاسی جماعتیں اپنے منافقت پر مبنی مصلحت کوش رویوں سے باز آئیں اور فیڈریشن کو مضبوط بنائیں۔ دورے کے دوران یہ سوال بھی سامنے آیا کہ کہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ تو صوبے کی مخالف نہیں؟ جس پر سینئر صحافی شاہد بلوچ کا خیال تھا کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ اس صوبے کے حق میں نہیں۔ ہماری رائے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو اس کی وضاحت کردینی چاہیے۔


ای پیپر