رمیش کمار پہ اعتبار؟
09 اپریل 2019 2019-04-09

تقسیم ہندوستان تو ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے، قوموں اور ملکوں کی تاریخ میں گردش لیل ونہار سے قوموں اور ملکوں کی معاشی ترقی اور معاشرتی عروج وزوال کا اندازہ لگانا اگرچہ دشوار ہوتا ہے، کیونکہ اگر حاکم کی صلاحیتیں اور اوصاف اس میں بدرجہ اتم موجود ہوں، تو پھر ہندوستان کا محض تین سال تک بادشاہ رہنے والا شیرشاہ سوری، اپنے کارناموں سے قیامت تک زندہ رہ سکتا ہے، شیرشاہ سوری نے اپنے قلیل عرصہ اقتدار میں اپنے ہندوستانی دارالخلافے سے پشاور تک جرنیلی سڑک بنوا کر اپنے نام کو امرکرلیا، جرنیلی سڑک پر ایک مخصوص فاصلے تک جگہ جگہ سرائے بنانے کے علاوہ سواری اور باربرداری کے جانوروں کے لیے بھی مقامات مختص کیے تاکہ ان کا ایک تو سفر خوش گوار ہو اور فاصلہ آسانی سے طے بھی ہوسکے۔

قارئین کرام، میں آپ کو بتانا یہ چاہ رہا تھا کہ تقسیم برصغیر سے پہلے ہم مسلمان اور کافر ہزاروں سالوں بلکہ اگر میں یہ بھی کہہ دوں کہ قبل ازمسیح سے ہمارے تعلقات اس حدتک آچکے تھے، کہ بعض عادات، اور رسم ورواج بھی ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوگئے تھے، اور ہم ایک دوسرے کی خامیوں اور خوبیوں سے بھی آشنا ہوگئے تھے، اس لیے ہمارے بزرگ کبھی اشعارسے اور کبھی ضرب المثل سے ایسے ایسے محاورے اور مقولے بناگئے کہ ہم ہندوﺅں کے مزاج کو بخوبی سمجھ گئے، سرائیکی کی اس چھوٹی سی مثال سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں

ککھ، کراڑ، کتے تیں

پت نہ رکھیں سُتے تیں

یعنی ایک تنکا جسے سرائیکی میں ککھ کہتے ہیں، اور کراڑ (ہندو) اور کتے پہ اگرچہ وہ سویا ہوا بھی ہو، تو اس پہ کسی صورت، اور کسی قیمت پر اعتبارنہیں کرنا چاہیے۔ اب میں آتا ہوں اپنی سابقہ تحریروں کی طرف جس میں، میں ثابت کرنا چاہتا تھا، کہ ہندو اور عیسائی کی کئی معاشرتی اور معاشی خصائل اور عادات بھی ایک جیسی ہوگئی ہیں۔ اور یہ کتنے دکھ کی بات ہے، امریکہ ایشیائی خطے میں طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لیے بھارت اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان تعلقات کو خصوصاً اکیسویں میں انتہائی اہم قرار دیتا ہے، اس ضمن میں گٹھ جوڑ ،چین اور پاکستان کے خلاف بھارت کی پشت پناہی، حربی تیاری اور امداد کے حوالے سے محض ایک ہی دلیل ہے کہ بھارت ہمارا اتحادی ملک ہے، جبکہ ہم تو بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒکی وفات سے ان کے غلام ابن غلام ہیں، اور ہزاروں، شہریوں کی قربانیوں کے باوجود ہم امریکی کڑے امتحان پہ پورے نہیں اترے، مگر ہمارے اس ایثار کو درگزر کرکے امریکہ بھارتی دلائل کا قائل ہوگیا کہ مستقبل قریب وبعید میں امریکہ کا حریف روس نہیں بلکہ چین ہوگا، چونکہ چین پاکستان کا دوست ہے، لہٰذا امریکہ اس مقابلے کے لیے بھارت کو تیار کرے۔ بھارت اپنے مستقبل کے لیے بڑی منصوبہ بندی، اور مشاورت کے بعد ہی کوئی عملی اقدامات اٹھاتا ہے، اس ضمن میں کمال ہنرمندی اور بیان بازی کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ چین، پاکستان ، نیپال ،سری لنکا حتیٰ کہ بنگلہ دیش کی ہرممکن مدد کررہا ہے، بھارتی کاوش اوبامہ کے دورے شروع ہوئی جب مودی اسے اپنے ہاتھوں سے چائے بناکر پیش کرتا تھا، یہی حربہ اس نے ٹرمپ کے ساتھ بھی آزمایا، مگر چونکہ ٹرمپ مودی سے بھی زیادہ خصیص ہے، افغانستان کی دلدل سے نکلنے کے لیے وہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان کے مقابلے پاکستان اس کی خاطر خواہ مدد کرسکتا ہے، اور اللہ کا کرنا کیا خوب ہوا کہ حالیہ جھڑپ میں F-16نے گو ایک فیصلہ کن کردار اداکیا ہے۔ مگر پاکستانی حکمران اگر محب وطن ہیں،تو برسوں سے F-16کی ادائیگی جو ہم نے امریکہ کو کردی تھی، اس پہ مذاکرات ضرور کریں، اور ہم نے امریکی کنٹینروں کو افغانستان میں اپنے ہزاروں فوجیوں کو اشیاءخوردونوش اور اسلحہ پہنچانے کے لیے جو ٹیکس ادا نہیں کیا پہلے وہ کروڑوں ڈالروں کی ادائیگی تو کرے ۔ قارئین میں نے ابتداءمیں جوگزارش کی تھی، کہ پاکستان اور بھارت میں ہندو اور مسلمان اقلیت کی صورت میں موجود ہیں سندھ میں چونکہ ہندو اکثریت میں ہیں، خصوصاً راجستھان سے ملی پوری سرحد کے دونوں طرف اور بدین میں اور تھر میں کافرکثرت سے ہیں اور وہ اکثر بھارت بھی چلے جاتے ہیں، غداری وطن میں سندھ کا 1965ءسے 70کے درمیان پارلیمانی سیکرٹری سردار لچھمن سنگھ جوایک مستند مثال ہے، اس کا حکومت نے کیا کر لیا تھا ؟

کچھ عرصے سے ہم ڈاکٹر رمیش کمار کو مختلف ٹی وی کے پروگراموں میں بیٹھا دیکھتے ہیں، جناح ڈینٹل اور میڈیکل سے یہ ڈاکٹر بن کر 2002میں سیاست میں آیا اور الیکشن ہار گیا، ایم این اے کی سیٹ ہارنے کے بعدمسلم لیگ (ق) کی طرف سے صوبائی ممبر بن گیا، اور پھر 2005میں پاکستان ہندو کونسل بنائی، مگر یوٹرن لیتے ہوئے، جس کے بارے میں عمران کہتے ہیں کہ کامیابی کے لیے سیاستدانوں کو یوٹرن لینا چاہیے، رمیش یوٹرن لے کر 2017ءمیں مسلم لیگ ن کے ایم این اے بن گئے ۔2014ءمیں قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ کئی گھنٹے پی آئی اے کی پرواز ڈاکٹر رمیش کمار ، اور رحمن ملک کی وجہ سے لیٹ ہوگئی، تو ان دونوں کو جہاز سے اتارنا پڑا مگر یہی الزام زدہ شخص 2018ءمیں چیئرمین قوم ی اسمبلی سٹینڈنگ کمیٹی فارسٹیٹ بن گئے، یہ شخص اکثر بھارت جاتا، اور مودی سے بھی ملتا ہے، اس دفعہ بھی یہ حسب معمول بھارت گیا، واپسی پہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا مودی سے ملاقات ہوئی ؟ کہا ہاں، سوال کیا گیا کہ مودی نے کیاپیغام دیا، مسکراتے ہوئے اس کا جواب دیا کہ مودی نے یہ پیغام دیا ہے، کہ پاکستان کے لیے عنقریب ایک خوشخبری ہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ابھی نندن نے پاکستان پہ رات کی تاریکی میں بم گرانے کی حماقت کی ، رمیش سے اب کون پوچھے کہ تم یہ خوشخبری لائے تھے، کیونکہ اب تو وہ تحریک انصاف کا روح رواں ہے، اللہ اللہ خیر صلہ


ای پیپر