ایمنسٹی سکیم کے 4صدارتی آرڈیننس مسترد
09 اپریل 2018 (21:05) 2018-04-09

اسلام آباد :صدر مملکت کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا شیڈول جاری ہونے کے بعد ایمنسٹی سکیم کے 4 صدارتی آرڈیننس جاری کرنے پر متحدہ اپوزیشن کا ایوان بالا میں شدید ہنگامہ‘ ایوان سے واک آﺅٹ کردیا اور کہا ہے کہ رات کی تاریکی میں جاری ہونے والے آرڈیننس کو مسترد کر تے ہیں، حکومت فی الفور صدارتی آرڈیننس کو واپس لے ، سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ وزیراعظم نے ان آرڈیننسز کی کابینہ سے منظوری نہیں لی، یہ مشرف حکومت سے بھی بدتر اقدام ہے۔ پیر کے روز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ایوان بالا کا اجلاس ہوا سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہ وئے کہا پارلیمنٹ کےا طراف میں 4 آرڈیننسزکی صدر نے منظوری دی ہے۔ صدر مملکت آرٹیکل 50 کے تحت پارلیمان کا حصہ ہیں۔

صدر نے سینیٹ اور اسمبلی کا سیشن طلب کیا ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا، جس کا تعلق ٹیکسیشن ہے، اس کی کابینہ سے منظوری پارلیمنٹ سے نہیں لی گئی۔ یہ غیر آئینی آرڈیننس ہے چاروں آرڈیننس کابینہ کے سامنے نہیں رکھے گئے ہیں۔ رولز کے تحت کابینہ سے اس کی منظوری لینا لازمی ہے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بائی پاس کیا ہے ۔ صدر کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ آرڈیننس کی کابینہ سے منظوری لی گئی ہے یہ متصادم آرڈیننسز ہیں سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ اگر کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی تو یہ کام غیر آئینی ہے انہوں نے کہا کہ ایوان کے تقدس کو مجروح کیا گیا ، یہ ایوان کی توہین ہے۔ وزیراعظم نے ایوان کے تقدس کو مجروح کیا ہے رضا ربانی نے کہا کہ یہ معاملہ کمیٹی کے سپرد کریں جس پر تمام اپوزیشن ممبران نے اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ آئین اور پارلیمنٹ کے تقدس کو مجروح نہیں کیا گیا۔ رضا ربانی نے کہاکہ اس ایمنسٹی سکیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا چاہیے ،کابینہ سے ھی اس کی منظوری نہیں لی گئی۔ رانا محمد افضل نے کہا کہ کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا گیا نہ پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح کیا گیا۔ ہم رضا ربانی کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہیں ۔

حکومت غلط کام کررہی ہے ہم اس ایوان سے واک آﺅٹ کرتے ہیں ۔اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے کہا کہ اس ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے ۔ یہ آردیننس جاری کرکے ایوان کا استحقاق مجروح کیا گیا ہے ۔ پوری دنیا میں اس طرح آرڈیننس کہیں بھی منظور نہیں ہوتے۔ صدارتی آرڈیننس غیر آئینی ہے اس ایوان کو بے توقیر کیا گیا ہے۔ یہ الیکشن کا سال ہے اپوزیشن میں دراڑیں نہیں ہیں۔ ٹیکس ایمنسٹی کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش ہونا چاہیے۔ سینیٹر ہارون خان نے کہا کہ ایوان بالا کو دونوں اطراف کے دلائل سننے چاہئیں ، پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے ایک دن قبل یہ آرڈیننس جاری کئے گئے ہوں سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ٹیکسیشن کے نفاذ سے قبل اس کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہیے تھا، سپریم کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عوام اس ایمنسٹی سکیم کو مسترد کرتے ہیں۔ حکومت نے حرام دولت کو جائز کرنے کیلئے ناجائز طریقہ اختیار کیا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری کرنا غیر آئینی اقدام ہے اس سے پارلیمنٹ کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ حکومت ان آرڈیننسز کو واپس لے، اپوزیشن اسے مسترد کرتی ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ4 آرڈیننس واپس لئے جائیں رات کی تاریکی میں یہ آرڈیننس مسلط کئے گئے ہیں۔ ان آرڈیننس کو جاری کرنے پر ہم واک آﺅٹ کرتے ہیں ۔وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ بیرون ملک سے پاکستانی واپس آکر پاکستان میں تجارت کرنا چاہتے ہیں اگر انہیں ایمنسٹی سکیم کے تحت تجارت کی اجازت دیں تو پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ اپوزیشن کے احتجاج اور واک آﺅٹ کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے قائد ایوان راجہ ظفر الحق سے گزارش کی کہ وہ اپوزیشن کو منا کر لائیں جس کے بعد اپوزیشن کو منا کر ایوان میں لایا گیا۔


ای پیپر