امریکہ کے غازی
09 اپریل 2018 2018-04-09

اسلام آبادمیں امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق امریکی سفارتکار کی گاڑی نے دامن کوہ کے قریب موٹرسائیکل کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی شناخت عتیق بیگ کے نام سے ہوئی ہے۔ امریکی سفارت خانے کے ڈیفنس ائیر اتاشی خود گاڑی چلا رہے تھے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آچکی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سفارتکار نے سگنل بند ہونے کے باوجود گاڑی نہیں روکی۔ ایس ایچ او تھانا کوہسار نے سفارت کار کے استثنیٰ کا جواز پیش کیا اور اسے اپنی صوابدید پر جانے کی اجازت دی۔ اسے کہتے ہیں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار۔ ایسا چومے یہ سوچ کر سفارتکار کو جانے کی اجازت دے دی کی شاید میں بھی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرح امریکا کا ہیرو بن جاؤ اور مجھے بھی امریکہ گرین کارڈ مل جائے۔ ہمارے ملک میں ایک سی ایس پی کی یہ اوقات ہے کہ جب اس نے امریکی سفارتخانے سے رابطے کی کوشش کی جس پر سفارتخانے نے کہا کہ وہ براہ راست رابطہ نہیں کر سکتے، اگر پولیس وزارت خارجہ کے ذریعے رابطہ کرے تو جواب دیں گے۔ دوسری جانب دفتر خارجہ نے سفارتی اہلکار کی گاڑی کی ٹکر سے شہری کی ہلاکت پر امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو دفتر خارجہ طلب کیا اور شدید احتجاج کیا جس پر امریکی سفیر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی سفیر کے اس بیان کے بعد جو مکمل تعاون کے خواہاں ہیں تو میری ان سے درخواست ہے کہ براہ مہربانی اس شخص کو کو اس قاتل کو قانون کے حوالے کردے۔
کل کے اس واقعے کے بعد آج میری نظر سے ایک حکومتی وزیر کا ایک ٹویٹ گزرا جس میں انہوں نے فرمایا:

میں وزیر صاحب سے بس اتنا کہنا چاہتا ہوں یہ ملک بھی آپکا ہے اور حکومت بھی آپکی اگر آپ صحیح معنوں میں عتیق بیگ کے دکھ اور تکلیف کو محسوس کر رہے ہیں تو خدارا کچھ کیجئے ورنہ اپنا منہ بند رکھیں گے کیونکہ کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے ۔ کل کے واقعے کے بعد دل میں خیال آیا کہ کاش چیف جسٹس اس بات کا ازخودنوٹس لے لی پھر میں پھر میں نے اس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا جو کہ میں جانتا ہوں جہاں فوج کچھ نہ سکی عدلیہ کیا کریں۔ جنوری 2011 ء کا وہ واقعہ یاد آیا جب ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے مزنگ لاہور میں دو نوجوانوں فہیم اور فیضان کوگولیاں مار کر قتل کردیا۔ ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب "دی کنٹریکٹر "میں جو حیرت انگیز انکشافات کیے اس کے مطابق، اُس کی رہائی میں اُس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا، امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی اور امریکی فارن ریلیشنز کمیٹی کے اُس وقت کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ جان کیری نے اہم کردار ادا کیا تھا تاہم اس میں چند مزید لوگوں نے بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا جن میں سی آئی اے کے اُس وقت کے ڈاریکٹرجارج ٹینٹ ، امریکی سفیر منٹر اور اُس وقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری بھی شامل تھے۔ ووٹ ہم نے دیے اس ملک کا محافظ ہم نے بنایا اور جب بات عوام کی حفاظت اور ملک کی خود مختاری اور سالمیت کی آے تو آپ امریکہ کے سامنے لیٹ گئے۔ جب جمہوری دور میں جمہوری حکومتوں اور فوج کا رویہ یکطرفہ ہوتو دل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ پھر وہ کس سے مدد مانگے؟ کیونکہ اگر آج ریمنڈ ڈیوس کو سزا ہو جاتی ہے تو شاید آج ایک بے گناہ نہ مرتا اور ایک اور ریمنڈ ڈیوس پیدا ہوتا۔ ہم نے امریکہ سے تعلقات بنا کر بہت سارے امریکی غازی تو پیدا کردیے مگر اپنے شہیدوں اور پیاروں کو بھول گئے جوان نام نہاد غازیوں کے ہاتھ موت کی وادی میں جا سوئے۔


ای پیپر