متوقع اے پی سی اور اختلافات
08 ستمبر 2020 (21:16) 2020-09-08

کراچی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متحدہ اپوزیشن کی راہ اہموار ہوئی ہے ملاقات کے اگلے ہی روز اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے اجلاس کے دوران 20 ستمبر کوآل پارٹیز کانفرنس کا اعلان کر دیا ہے مگر اجلاس کاایجنڈاطے نہیں ہو سکا نہ ہی سیاسی جدوجہد کے طریقہ کارپر اتفاق ہواہے یہ صورتحال اپوزیشن قیادت کے باہمی نفاق کو ظاہر کرتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بڑی جماعتوں کی قیادت کی ترجیحات مختلف ہیں اصل میںاپوزیشن قیادت موجودہ حکومت سے صرف اسی صورت نجات چاہتی ہے جب نئی حکومت میں زیادہ سے زیادہ حصہ ملنے کی یقین دہانی ہوجائے حالانکہ اولیں مقصدمتوقع حکومت میں حصے کا تعین نہیں موجودہ سیٹ اَپ سے نجات ہونا چاہیے اسی وجہ سے اے پی سی سیاسی درجہ حرارت میں معمولی اضافے کے سوا نتائج نہیں دے سکے گی مجھے نہیں لگتا کہ 20  ستمبر کی اے پی سی نتیجہ خیز ثابت ہو سکے کیونکہ بڑی وجہ اپوزیشن جماعتوں کی ترجیحات کا مختلف ہونا ہے ۔

مڈٹرم الیکشن کی بات کرنے والی مسلم لیگ ن کواب موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کی کوئی جلدی نہیں بلکہ وہ چاہتی ہے کہ حکومت تب تک کام کرتی رہے جب تک طاقت کے مراکز سے اقتدار کی یقین دہانی نہ مل جائے نواز شریف اور مریم نواز کا اِس حوالے سے بیانیہ مختلف ہے اوروہ ٹکرانے کے خواہشمند ہیں مگر بدقسمتی سے نوازشریف ملک سے باہر ہیں جبکہ مریم نواز عرصے بعد نیب پیشی کے دوران کچھ متحرک ہوئیں لیکن پھر خاموش ہیں حیران کُن امر یہ ہے کہ ٹویٹر بھی چُپ ہے اِس کی کیا وجوہات ہیں لوگوں میں خاصا تجسس ہے وجوہات کے حوالے سے لوگوں کے قیافے اور اندازے اکثرغلط اور خال ہی درست ثابت ہوتے ہیں یہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ شہبازشریف کو سیاسی میدان ہموار کرنے کا ٹاسک دے کر نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے مگر اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے حوالے سے جاری کاوشوں کے دوران شہباز شریف صوبوں کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیںاِس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ مقتدر قوتیں اُن کے بیانئے سے مکمل طورپر خوش نہیں حالانکہ اُن کے حوالے سے مائنس ون کے فارمولے کے تحت اقتدار سنبھالنے کی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں جس کا بظاہرکوئی امکان نظر نہیں آتا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کو حکومت میںلانے کی راہ ہموار کرنے والی طاقتوں کی خوشی کافور ہوچکی ہے تو شہباز شریف کے حوالے سے بھی الفت میں خاصاابہام پیدا ہو چکا ہے قبل ازیں اے پی سی کے بارے جب بھی سلسلہ جنبانی شروع ہوتاتو یہی اپوزیشن لیڈر اے پی سی کے پلڑے میں وزن ڈالنے کی بجائے غیر جانبدار ہونے کا تاثر دیتے اور جب بھی بات کرتے نئے انتخابات کی بات کرتے مگراچانک 

کراچی جاکر آصف زرداری اور بلاول بھٹوسے تبادلہ خیال کرنے کیاپہنچے اُنھیں بھی حکومت سے نجات کے لیے سیاسی جدوجہد پر یقین ہوگیا ہے وجہ ممکن ہے کرائی گئی یقین دہانیوں پر ہونے والی تاخیر سے دلبرداشتہ ہونا ہومگر حقیقت یہ ہے کہ مقاصد حاصل کرنے ہیں تو انھیں دونوں طرف نہیں ایک طرف کھیلنا ہو گا ۔

پیپلز پارٹی کی قیادت میں دو آرا واضح ہیں اگر بیان بازی میں بلاول برہمی ظاہر کرتے تو آصف زرداری متحمل رویہ ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ اندرونِ خانہ کچھ طے کرنے کے انتظار میں ہوں لیکن شہباز شریف کی آمد پرآصف زرداری کا بیماری کے باوجود گھر سے باہر آکر گرمجوشی سے استقبال کر نا ، گھنٹوں دوستانہ ماحول میں تبادلہ خیال اور اچھی تواضع طویل انتظار سے مایوسی ظاہرکرتی ہے بے نامی اکائونٹس میں فردِ جرم عائد ہونے اور نیب کی طرف سے مقدمات میں تیزی نے پی پی کو بے چین کیا ہے آصف زرداری کی نرمی کا تاثر دیکر نرمی کی توقع پوری نہیں ہوئی مگر اِس میں اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ چاہے شریف خاندان ہو یا آصف زرداری فیملی ،کسی کو کسی سے رعایت ملنے کا امکان نہیں اگرعام لوگ یہ حقیقت جان گئے ہیں تو اپوزیشن قیادت کو بھی حقائق کا ادراک ہوگیا ہے اسی لیے دونوں طرف تلخیاںبالائے طاق رکھ کر تعاون کی راہیں تلاش کی گئیں کیونکہ دونوں جان گئے ہیں کہ سہاروں کی طرف دیکھنے کی بجائے عوام میں آنا ہوگا تبھی عوامی عدالت سے حق میں فیصلہ ملے گا گومگوکی پالیسی سے کچھ نہیں مل سکتا لیکن یہ تصور کر لینا کہ سیاسی درجہ حرارت بڑھنے سے تحریک کا آغاز ہوگا درست نہیں کیونکہ ملک کے بڑے سیاسی خاندانوں کی سوچ یکساں نہیں ابھی بھی کئی پہلوئوں پر اختلافات ہیں جن پر اتفاقِ ہونا خاصا مشکل ہے شہباز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی رہبرکمیٹی کا اجلاس ضرور ہوا ہے مگرنہ تو مقاصد  پر اتفاق ہوا ہے اور نہ ہی طریقہ کار پر ۔ کون اپوزیشن کی قیادت کرے گا؟یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب دونوں بڑی جماعتیں دینے کی پوزیشن پر نہیں اتنی بدگمانی میں مل کر تحریک چلانا ناممکن ہے ۔

جہاں تک مولانا فضل الرحمٰن کا تعلق ہے تو وہ ہر قیمت پر حکومت سے فوری نجات کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ سیاسی حوالے سے خاصی کمزور پوزیشن پر ہیں اُن کے بھائی کو کراچی میں ڈی سی لگایا گیا لیکن چند دنوں تک، مولانا فضل الرحمٰن موجودہ حالات سے خاصے کبیدہ خاطر ہیںاور تبدیلی کے ہر حربے کو آزماناچاہتے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں جو بھی نیا سیٹ اَپ بنا وہ موجودہ صورتحال سے بہتر ہی ہوگا قبل ازیں اسلام آباد پر چڑھائی کے باجود وہ کچھ حاصل نہیں کر سکے مگر یہ چڑھائی انھیں دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پی پی سے بدظن کر نے کا باعث ضرور بن گئی اب بھی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں پر اعتبار کرتے ہوئے خاصے محتاط ہیں جب زرداری اور شریف خاندان ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں جبکہ مولانا فضل الرحمٰن بھی بدگمان ہیں اِن حالات میں اے پی سی کیا رنگ جما سکے گی یا کسی تحریک پر اپوزیشن قیادت رضا مند ہو پائے گی؟اِس سوال کا ہاں میں جواب دینا بہت مشکل ہے کیونکہ دونوں بڑی جماعتیں کسی صور ت نہیں چاہیں گی کہ اُن کے سوا کوئی تحریک چلا کر حکومت کو چلتا کرے اور ثمرات حاصل کرے اِن ہائوس تبدیلی یامڈٹرم انتخابات میں سے کِس قسم کی تبدیلی لانی ہے ابھی تک واضح نہیں۔

 20 ستمبر زیادہ دور نہیں بغیر ایجنڈے اور جدوجہد کے طریقہ کارکا  بغیرتعین کیے حکومت کو اے پی سی نقصا ن پہنچاسکے گی یا شہباز شریف کی طرح آصف زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے بیان کی طرح نتائج دے گی کا جواب حاصل کرنے کے لیے طول انتظار کی ضرورت نہیں اگلے چند دنوں میں قلعی کُھل جائے گی یہ روزِ روشن کی طرح عیاں حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت عوامی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکی کیا ایسا ہی اعزازاپوزیشن بھی حاصل کرنا چاہتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو متوقع اے پی سی کے دوران بھی اپوزیشن قیادت کواختلافات ختم کرنے سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔


ای پیپر