ایتھنزکی ایک شام
08 ستمبر 2020 (21:15) 2020-09-08

جس روز یونان کے وزیر سیاحت مسٹر ہیرس Mr Haris Theoharis اور یونان کے دفاعی تجزیہ نگار اور اینکرڈاکٹر ایتھنی سیس ڈروگوس Dr Athanasios Drougos کے ساتھ سفیر پاکستان کی میزبانی میںلنچ آن میٹنگ کی مصروفیت تھی، اسی روزایتھنزکے نیایونیاکیپ ہال میں میرے ساتھ ایک شام منائی جاناتھی۔پاکستانی جہاں بھی ہوں فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا…کی صورت بن کر اپنی محفل جمالیتے ہیں۔ یونان میں بھی پاکستانیوں کی مختلف صحافی،سیاسی اور مذہبی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان پریس کلب گریس کی دعوت پر اس شام میں مجھے صحافی برادری سے خطاب کرناتھا۔ 

دن میں یونانی پارلیمنٹ کے رکن اور یونانی ٹی وی کے اینکرصاحبان سے جو ملاقات ہوئی تھی اس کا سارا رنگ ڈھنگ مغربی تھا لیکن اسی شام کو نیا یونیا کیپ ہال میںمنعقدہونے والا پروگرام پاکستانی کلچر کا حامل تھا۔اہل یونان کی جانب سے استقبالیہ بینرز کے ذریعے پہلے ہی اظہار جذبات ہو رہا تھا۔ میں اور حذیفہ،سفیرصاحب کے ساتھ ہال میں پہنچے توبڑابھرپوراستقبال کیاگیا۔ ہال حاضرین سے بھراہواتھا۔ہمارے داخل ہوتے ہی تمام شرکا سروقدکھڑے ہوگئے۔دیرتک تالیوں کا سلسلہ جاری رہا،عمدہ اسٹیج اور سامنے کرسیوں کی قطاریں، اسٹیج کابیک ڈراپ ایک بڑی اسکرین کا حامل تھا جس پر کمپیوٹر کی مددسے مسلسل میری کتابوں کے سرورق، میری نظمیں اور مختلف مواقع پر خطابات کی تصاویر دکھائی جاتی رہیں ۔میں یہ سب کچھ دیکھ کر حیران کہ ان لوگوں نے یہ سب کچھ کہاں سے حاصل کرلیا؟ وہ توبعدمیں حذیفہ نے یہ بتا کر حیرت ختم کردی کہ یہ سب کچھ انٹرنیٹ سے لیاگیاہے۔ استقبالیہ تقریروں میں میری نسبت جن خیالات کا اظہارکیاگیا اور میرے بارے میں جن معلومات کا اظہارکیاگیا انھیں سن سن کر بھی مجھے حیرت ہوتی رہی اور یوں لگنے لگاجیسے میں یورپ کے دوردرازملک میں نہیں بلکہ اپنے ہی دیس میں بلکہ شایدلاہور ہی کی کسی ایسی محفل میں ہوں، جہاں کے سب شرکا مجھے جانتے ہیں۔ابھی ہم یونان نہیں پہنچے تھے کہ صحافی برادری کی جانب سے ہمارے یونان آنے کی اطلاعات سوشل میڈیا پر نشرکردی گئی تھیں اور آج کی تقریب کے لیے خاص طورسے ایتھنزکے اس ہال کو سجایا گیا تھا۔ سفیرپاکستان خالدعثمان قیصرصاحب سے لوگوں کی محبت بہت واضح طورپر نظرآرہی تھی۔ تقریب کے صدر احسان اللہ خان تھے جو یونان کی 

صحافی برادری کے بھی صدر ہیں اور ایتھنزسے ایک اردو اخبار دیس پردیس بھی نکالتے ہیں۔انھوںنے خطبہ استقبالیہ  پیش کیا۔ کچھ دوسرے مقررین نے بھی تقریریں کیں جن سے یونان میں رہنے والے پاکستانیوں میں شعرو ادب کے شائقین کا بھی علم ہوا۔ اس یادگار تقریب  میں خالد مغل، سید  محمد جمیل شاہ، عرفان تیمور، مرزا جاوید اقبال اور ناصر جسو کی نمایاں تھے۔ میرے خطاب کاموضوع صحافیوں کی تربیت تھااوراس کے ساتھ اس محفل میں میری اور حذیفہ کی کتابوں کی رونمائی بھی ہوناتھی ۔استقبالیہ تقریروں میں بھرپوراظہارمحبت دیکھنے میں آیا،میرا خطاب خاصا طویل رہاجس کے دوران حاضرین کا انہماک دیدنی تھا۔ خطاب تو فی البدیہہ تھا لیکن بعدمیں اسے قلمبندبھی کردیاگیا چنانچہ اب قارئین اس خطاب سے اگلے کالم میں آگاہ ہوسکیں گے ۔اس خطاب کے بعد میری کتابوں Socio Political Features in Educational Landscape in Pakistanااورd Humanity Beyond Creeنیزآئینہ کردار کے نئے ایڈیشن اور حذیفہ کی کتاب  A Pyramid of Reminicensesکی رونمائی کی گئی۔اس موقع پر سفیر پاکستان جناب خالد عثمان قیصرنے خطا ب کیا ۔  جب وہ  خطاب کے لیے اسٹیج پر آئے تو ہال باقاعدہ ان کے حق میں نعروں سے گونجنے لگا۔میں اب تک بیرون وطن مقیم پاکستانیوں کو اپنے سفیرکے بارے میں شاکی ہی پایاتھا وہ ان کے رویوں سے اس قدر نالاں ہوتے ہیں کہ غالب کایہ شعریادآجاتاہے      ؎ 

پرہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا

اک زرا  چھیڑیے  پھر  دیکھیے  ہوتا  ہے  کیا

لیکن یہاں تو اورہی منظرتھا۔ سفیرصاحب خطاب کے لیے اسٹیج پر آئے تولوگوں نے کھڑے ہوکران کا استقبال کیا اور ان کے لیے تالیوں کاغیرمختتم سلسلہ شروع ہوگیا ۔میں نے یہ منظر پہلی بار دیکھاکہ کسی ملک میں پاکستانی سفیر کے حق میں باقاعدہ نعرے لگائے جارہے ہوں۔ سفیرصاحب نے بھی خاصے عوامی اندازمیں تقریرکی جس سے ان کے مزاج کی عوامیت اورعوام میں ان کی مقبولیت کا مزیداندازہ ہوا۔تقاریرکا سلسلہ ختم ہواتو مختلف ٹی وی چینلزکے نمائندوںنے سفیرصاحب کو اور مجھے گھیرلیا اور دیر تک تاثرات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔اس وقت تومعلوم نہیں تھا لیکن بعدمیں تعارف ہواکہ مرزا جاویداقبال ا ور ظفرساہی ہمارے انٹرویو کررہے تھے۔ جن احباب نے اس تقریب کو یادگاربنایا ان میں مرزا رفاقت حسین، آصف کیانی ، محمد موسیٰ، چودھری بشیرشاد، ارشاد بٹ محمد صغیر، چودھری اشتیاق احمد، ارشد بٹ، چودھری محمد اسلم اور بلال قمرصاحبان شامل تھے ۔ایتھنزکا نیایونیا کیپ ہال خاصا بڑاہے لیکن اس کا نظم و نسق ،سائونڈ سسٹم اور الیکڑانک آلات سب عمدگی سے کام کرتے رہے۔ تقریب کے آخر میں میزبانوں کی جانب سے جو شیلڈ اور دوسرے یادگاری تحائف دیے گئے وہ  اب بھی مجھے ’اہل یونان‘ کی محبت کی یاددلاتے رہتے ہیں ۔تقریب ختم ہوجانے کے باوصف شرکاکے التفات کا سلسلہ ختم نہیں ہورہاتھا ۔ادھر ٹیلی ویژن چینلزکے نمائندے منتظرتھے کہ ان کے سوالوں کے جواب دیے جائیں بالآخر شرکائے جلسہ کی جانب سے محبتوں کا یہ سلسلہ ٹی وی نمائندوں کی جانب سے انٹرویوزشروع کردینے پر موقوف ہوا۔اس جلسے سے راقم کے خطاب کی ریکارڈنگ کو ڈاکٹرسکندرحیات میکن صاحب نے سینہء قرطاس پر منتقل کردیا جسے اگلے کالم میں قارئین کی خدمت میں پیش کیاجائے گا۔


ای پیپر