کراچی کیلئے شہباز شریف کی ضرورت ہے
08 ستمبر 2020 (21:14) 2020-09-08

کراچی میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے 80 سے زائد افراد زندگی کے بازی ہار چکے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں سول انتظامیہ اپنا کردار موثر طریقے سے ادا نہیں کررہی ہے ۔پاک فوج کے جوانوں نے راستے بحال کئے فوج اور بحریہ نے کراچی میں ریسکیو اور ریلیف کے ساتھ موبائل ٹیموں کے ذریعے پکا پکایا راشن بھی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کیا۔ کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچویں بڑا شہر ہے ۔جو پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے ۔ کراچی کی تباہی کیلئے سول اور آمرانہ حکومتیں یکساں ذمہ دار ہیں۔پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے کراچی کو ایم کیو ایم کے حوالے کیا اور اس کی سرپرستی کی ۔آٹھ سال میں کراچی کا جو حشر کیا گیا قوم جانتی ہے وہاں بھتہ خوری اور قبضہ مافیا کا راج رہا ۔ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے لوگ کراچی چھوڑنے پر مجبور تھے ۔کاروبار ختم ہوچکا تھا ۔2008میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ۔بارہ سال تک کراچی کے ساتھ اقتدار میں کراچی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا سب کے سامنے ہے ۔غیر قانونی تعمیرات مختلف جگہوں کے نالوں پر تجاوزات قائم کی گئیں۔ نالوں کی صفائی کیلئے مختص اربوں روپے خردبرد کئے پیپلز پارٹی حکومت نے بارہ سال اقتدار میں کراچی کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل کیا ۔ مسلم لیگ (ن )کی حکومت میں اُس وقت وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کراچی میں امن کی بحالی کیلئے آپریشن شروع کیا اور رینجرز کو فری ہنڈ دیا جس کی وجہ سے امن بحال ہو ا۔اندھیروں کا خاتمہ ہوا تجاری سرگرمیاں شروع ہو ئیں اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے کراچی میں ٹرانسپورٹ کا میگا پراجیکٹ گرین لائن منصوبہ شروع کیا جو اب تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

حالیہ بارشوں سے کراچی شہر کے 70فیصد سے زائد مارکیٹوں کو نقصان پہنچا اور تاجر برادری کے اربوں روپے کے نقصانات ہوئے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد پانی کے اخراج کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔ کراچی کے دیگر علاقوں نیو اعظم آباد سوسائٹی میں بارش کاپانی گھروں میں کئی فٹ جمع تھا اور کراچی کے پوش علاقوں ڈیفنس اور کلفٹن میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوا تھا۔ اسی طرح سر جانی اور نیو کراچی کی پانچ آبادیاں 12 روز سے پانی میں ڈوبی رہیں ۔کلفٹن کے باسیوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہر ہ کیا اُن کی داد رسی کرنے کی بجائے اُن کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے۔ طبی ماہرین کے مطابق کراچی میں جگہ جگہ سیوریج کا پانی کھڑے ہونے سے وبائی امراض پھیل سکتی ہیں۔ 

2018کے الیکشن میںتحریک انصاف کے کراچی سے 14ایم این ایز اور 22ایم پی ایز منتخب ہوگئے ۔پی ٹی آئی کے وزراء اور منتخب نمائندوں نے دو سالوں میں پریس کانفرس اور الزام تراشیوں کے سوا کراچی کی عوام کو کچھ نہیں دیا حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسوں کی وجہ سے کراچی جیسے صنعتی شہر میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہوچکے ہیںطو فانی بارشوں میں پی ٹی آئی کی ٹائیگر فورس کی کار کردگی بھی صفر تھی ۔36 منتخب نمائندوں کو عوام کے درمیان جاکر وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر ریلیف کے کاموں میں حصہ لینا چاہیے تھا ۔لیکن بارشوں کے کئی روز گزرنے کے باوجود پی ٹی آئی کے منتخب نمائندہ غائب ہیں اور لوگ ان کی راہ تک رہے ہیں۔ وزیرا عظم عمران خان نے دو سال قبل کراچی کیلئے 162 ارب کا اعلان کیا تھا لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں ہوا وزیر اعظم نے اب 1100 ارب روپے کراچی کیلئے پیکج کا اعلان کیا اُس میں 800 ارب کے منصوبوں کا اعلان وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پریس کانفرس کے ذریعے پیپلز پروگرام کے تحت وزیرا عظم کے دورے سے دو روز قبل کیا تھا  مذکورہ ترقیاتی پیکج پر عمل درآمد ہونا چاہیے خالی اعلانات سے ترقی اور خوشحالی نہیں آتی۔ 

پاکستان مسلم لیگ (ن )کے صدر و اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نے کراچی کی عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کراچی پہنچ گئے بارش سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا عوام میں گھل مل گئے۔ اپنے دورے کے دوران ناظم آباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کراچی کے عوام موقع دیتے تو چھ ماہ میں کراچی میں گندگی اور نالوں کی صفائی کی جاتی ایک سال میں پانی سمیت تمام مسائل حل کردیتے وہ ایدھی سنٹر بھی گئے جہاں فیصل ایدھی نے انہیں خوش آمدید کہا اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایدھی ہومز لاہور کیلئے عبدالستار ایدھی مرحوم کی درخواست پر شہباز شریف نے دو گھنٹوں میں جگہ الاٹ کی تھی ۔فیصل ایدھی نے کہا عبدالستار ایدھی سماجی خادم تھے اور شہباز شریف سیاسی خادم ہے ۔ کراچی کو لینڈ مافیا تجاوزات سے پاک کرنے اور ترقی یافتہ شہر بنانے کیلئے بہترین ایڈمنسٹر یٹر محمد شہباز شریف چاہیے جس طرح انہوں نے لاہور کو ترقی یافتہ شہر بنایا تجاوزات کا خاتمہ کیا سٹرکوں کو کشادہ کیا ، نکاس کے نظام کو بہتر بنایا ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے انڈر پاسز کے جال بچھایا۔ رنگ روڈ تعمیر کی۔ آلودگی کی خاتمے کیلئے گرین بیلٹ بنائے۔ شہباز شریف جو بات کہتے ہیں پورا کر کے دکھاتے ہیں وہ ایسا حکمران ہے بارش کے دوران لمبے بوٹ پہن کر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں انتظامی مشینری کو متحرک کرتے ہیں سیلاب کے دوران ناقابل رسائی علاقوں تک پہنچنے کیلئے کشتی پر سوار ہو کر پہنچ جاتے ہیں۔ گنجان آباد جگہوں میں موٹر سائیکل کے ذریعے پہنچتے ہیں اور بحالی کے کاموں کی نگرانی کیلئے متاثرہ علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔ طوفان، زلزلہ، سیلاب اور بارش میں وہ ہر وقت عوام کے درمیان موجود ہوتے ہیں سیلاب، بارش اور دیگر آفتوں کے دوران وزیراعظم سمیت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو محمد شہباز شریف کی تقلید کرنی چاہیے۔ اب کراچی سے یہ صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہمیں شہباز شریف چاہیے۔


ای پیپر