استقامت… فوق الکرامت!
08 ستمبر 2020 (21:14) 2020-09-08

استقامت ایسے موضوع پر لکھنے کا ایک سائیڈ ایفیکٹ یہ بھی ہے کہ پڑھنے والے اس گمان میں مبتلا ہو جائیں گے کہ لکھنے والا شاید  استقامت ایسی کرامت کے سنگھاسن پر فائز ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے شاگردانِ عزیز کی طرف سے اس موضوع پر سوالات بھی الفاظ بدل بدل کر آس پاس گردش کرتے رہے، تاہم اس موضوع سے گریز کرنے میں عافیت سمجھی، مبادا ‘یہ خاکسارقول و فعل میں تضاد کا مرتکب ٹھہرے۔ بہر طور آج صمیمِ قلب سے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے موضوع ِ مذکورپر قلم فرسائی کرنے کی جرات کر رہا ہوں کہ بتانے والا پوچھنے والے کی صف میں کھڑا ہے۔ چنانچہ اس مضمون کو ایک فکری ، نظری اور کسی حد تک امکانی تصور کیا جائے۔ کسی مقام کی حسرت اور آرزو اُس مقام پر متمکن ہونے کے مترادف ہر گز نہیں۔ تغیر کا حال تمکین کے مقام کے برابر قرار نہیں دیاجا سکتا ہے۔ مسافر مقیم کے حال کا حامل نہیں ہوتا۔ 

انسانی خمیر بنیادی طور پر مجموعۂ تغیرات و اضدادہے، اس کے وجود میں استقامت کا موجود ہونا بجائے خود ایک کرامت ہے۔ اس لیے اہلِ نظر  کے نزدیک استقامت کو کرامت پر تفوق حاصل ہے۔ منقول ہے کہ ایک جید بزرگ کے پاس ایک طالبِ حق حلقہ بگوشِ عقیدت ہوا تو کچھ عرصہ گزارنے کے بعد یہ کہتے ہوئے رختِ سفر باندھنے لگا کہ میں تو آپ کو ایک ولی اللہ سمجھ کر حاضرِ خدمت ہوا تھا لیکن مجھے آپ میں کوئی کرامت دکھائی نہیں دی۔ غالباً حضرت جنید بغدادیؒ سے منسوب اس واقعہ میں اس جانے والے سے آپ ؒ نے دریافت کیا‘برخوردار ! اس عرصے کے دوران کیا مجھ سے کوئی خلافِ شریعت عمل بھی دیکھا؟ اس نے کہا‘ ہرگز نہیں! آپؒ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا ‘ جا! پھرمیرے پاس یہی کرامت ہے۔ سینے پر اس گداز ہاتھ کا چھوناتھا کہ اس کے دل کی کایا پلٹ گئی، اندر کی آنکھ کھل گئی،لفظ اپنا لبادہ پھاڑ چکے تھے، قال حال بن گیا، ظاہر کا باطن کھل گیا  اور وہ عالمِ جذب میں چیخیں مارتا ہوا جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔ ایک عرصہ بعد جب دوبارہ مرشد کی خدمت میں دزدیدہ نظروں کے ساتھ حاضر ہوا تو صاحب ِ استقامت نے اس سے حالات و واقعات کی بابت دریافت کیا۔وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا‘ بابا حضور! بس وہ آپ کا سینے پر ہاتھ مارنا ہی خلافِ شریعت تھا، اس کے علاوہ کچھ بھی شریعت سے باہر نہ تھا۔ باطن کی اپنی شریعت ہوتی ہے، اہلِ باطن اس پر بھی کاربند ہوتے ہیں۔ انسان کاملؐ  ظاہر و باطن کے راہنما ئے کامل و حجت ِ کامل ہیں۔ اولیا کے نزدیک کرامات ِ اولیا معجزاتِ پیغمبر کا تسلسل ہیں۔ کرامات و معجزات باطن کی شریعت ہے۔ 

استقامت کے باب میں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا چیز استقامت نہیں ہے۔ محض کسی ظاہری عمل میں مداومت کو استقامت نہیں کہتے۔ جس طرح معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے نقلِ مکانی کو ہجرت نہیں کہتے ، اس طرح کسی معاشی و معاشرتی مفاد کے لیے کسی عمل میں تسلسل کو استقامت نہیں کہتے۔ ایک دکاندار باقاعدگی کے ساتھ ہر روز دکان کھولتا ہے، ایک ملازم پیشہ شخص برس ہا برس وقت کی پابندی کے ساتھ اپنی جائے ملازمت پر جاتا ہے،لیکن اسے صاحبِ استقامت نہیں کہیں گے۔ اس مشقت کو ریاضت بھی نہیں کہیں گے۔  ہجرت کی طرح استقامت بھی خالصتاًدینی و روحانی مقصد کے لیے اختیار کردہ راستہ اور موقف ہے۔ عمل کی ابتدا نیت سے ہے، اس لیے استقامت کی ابتدا بھی نیت سے ہوگی۔ نیکی کے راستے پر نیک نیت ہونا اور پھر اس نیک نیتی پر قائم رہنا استقامت کا باب ہے۔ کسی  وقتی جذبے اور اشتعال کے ساتھ کی گئی نیکی… کیا نیکی ہے؟ نیکی… نیک نیت کے ساتھ نیک عمل میں مستقل مزاجی میں چلنے سے حاصل ہوتی ہے۔ نیکی جب تک مزاج کا حصہ نہ بن جائے‘بات نہیں بنتی۔ تزکیہ نفس کی ساری داستان بھی یہی ہے کہ سالک کے اندر نیکی کا ذوق پیدا کر دیا جائے۔ اس کا نیک عمل ایسی خوب صورتی اختیار کر لے کہ مخلوق اس سے اس طرح فایدہ اُٹھا ئے جس طرح کسی شجر ِ سایہ دار کے سائے سے آتے جاتے مسافر فایدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ نیکی جو مخلوق کے پاؤں کا کانٹا بن جائے وہ غرورِ نفس تو ہو سکتا ہے‘ نیکی نہیں۔ 

نیت میں استقامت اس وقت تک نہیں آتی جب تک نیت خالص نہ ہو جائے۔ مزاج اور مفاد کے نرغے میں آکر کی جانے والی  نیکیاں عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اخلاص کے محراب میں صرف خالص نیت ہی قیام کر سکتی ہے۔ صراطِ مستقیم انعام یافتہ لوگ کا راستہ ہے… اور یہ انعام یافتہ لوگ اپنے ارادے اور عمل میں مستقم پائے گئے۔ نیت کا استحکام ہی عمل میں استحکام کا باعث ہوتا ہے۔ جس طرح  عمل ہماری نیت کا پھل ہوتا ہے، اس طرح ہماری نیت ہماری فکر کا ثمر ہے۔ راست فکرہی راست نیت کا پھل لے کر آ ئے گا۔ کوئی بے فکری یا  بدفکری نیت کوخالص نہیں رہنے دیتی۔ لوگ خدا کے نام پر نفس کا کاروبار کر رہے ہوتے ہیں، دوسروں کو دھوکا دینے سے پہلے خود دھوکا کھا چکے ہوتے ہیں۔ نیت راست نہ ہو تو عمل میں بظاہر استقامت غرورِ نفس میں اضافے کے علادہ اعمال کے نامے میں کچھ اور درج نہیں کروا سکتی۔ گویا ‘ہمارے علم کی درستی نیت اور عمل دونوں کی درستی کے لیے لازم ہے۔ اس لیے‘ اے راہِ حق  کے مسافر! تمام عمر راست علم کی جستجو  میں تمام کردے، اس کے عوض ایک رتی بھر نیت میں اخلاص بھی میسر آگیا تو اس کے تحت کیا گیا ایک معمولی سا عمل بھی غیر معمولی تصور کیا جائے گا۔ ناقص علم اور ناقص نیت کے ساتھ عمل کے انبار اخبار کا اشتہار تو بن سکتے ہیں‘ تیری کتاب ِ عمل کی کوئی تحریر نہیں بنتے۔ ہمہ وقت بے علمی اور بد علمی سے نکلنے کی تگ و دو میں رہو، اس عمل میں استقامت فوق الکرامت کہلائے گی۔ علم… کسی قیل و قال کا نام نہیں بلکہ علم کا حصول ایک عمل کا نام ہے… مسلسل اور لگاتار عمل! 

یاد رکھنا چاہیے کہ نیت نسبت پر منحصر ہے۔ نسبت میں قیام نیت میں قیام کا پیش خیمہ ہے۔ ہم جن کی نظروں میں سرخ رو ہونا چاہتے ہیں وہ اہلِ نظر ہونے چاہییں… اہل ِ نظر متغیر صفت نہیں ہوتے، وہ اپنے فکر و عمل میں متمکن ہوتے ہیں، اہلِ تمکین سے نسبت ہماری نیت کو متغیر نہیں ہونے دیتی۔ اگر ہمارے پیشِ نظر اہل ِ دنیا ہیں تو دنیا ہمہ حال متغیر ہے، اہلِ دنیا کے ہاں آج کا حسن کل کی قباحت میں گنا جا سکتا ہے، اور آج کی قباحت کل کلاں صفت میں شمار کی جا سکتی ہے۔ اس تغیر کے جہان میں اثبات ڈھونڈنے کے لیے پائے ثبات والے اصحاب کی تلاش ضروری ہے۔ دولت ، شہرت اور لذت کے لات منات اور عزیٰ کا انکار کلمہ وحدت کے اقرار کے لیے لازم ہے۔ وحدت تغیر سے پاک ہے۔ اس پاک کلمے میں پاک نیت لوگ ہی قیام کر سکیں گے۔ پاک وہ ہے جو ہر مفاد سے پاک ہے۔ جس کا دامن صاف ہے ، جس کا دل پاک ہے، جس کی نظر پاک ہے۔   

اس عالمِ تغیر و تحیر میں اوّل و آخر فنا ہے ، نقشِ کہن ہو کہ نَو‘  منزلِ آخر فنا ہے، بس اس میں اثبات اگر کسی شئے کو حاصل ہے تو وہ عشق ہے۔ یہ جوہرِ ملکوتی  عالمِ ناسوتی میں رہ کر بھی پاک اور پوتر رہتا ہے۔عشق کا قبلہ ہمیشہ راست ہوتا ہے کہ سوئے معشوق ہوتا ہے۔ عشق کی ڈکشنری میں ماضی اور مستقبل نہیں ہوتا ہے، سب کچھ حال ہوتا ہے۔ حال… الآن کما کان !! عشق کا سلسلہ دراصل عشق در عشق ہے۔ دو آئینوں میں عکس در عکس کی طرح لامتاہی سلسلہ!! صاحب ِ عشق سے نسبت کا سائبان میسر آ جائے تو فکر و عمل تغیر کی زد سے نکل جاتا ہے۔ تغیر سے نکلنے کی دیرہے کہ انسان استقامت میں داخل ہو گیا۔ وما توفیقی الا بااللہ!!

اَز روئے قرآن ‘چہرہ بقا میں ہے اور باقی ہر چیز کو فنا لاحق ہے۔ چہرے تک رسائی اسی آنکھ کو  میسر ہے جس میں عشق کا سرمہ لگ چکا ہے۔ جسم تغیر کی دنیا کا نمائندہ ہے ، روح تحیر کی سفیر ہے۔ تغیر میںچل چلاؤ ہے،‘ تحیر میں قیام ہے۔ تغیر سے نکل کر تحیر میں داخل ہونے والا عالمِ معرفت میں ہے، وہی علمِ حقیقی کا شاہد ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ کا قول ہے’’معرفت ہمہ حال تحیر میں رہنے کا نام ہے‘‘۔ گویا استقامت ایک مقامِ معرفت ہے۔


ای پیپر