’’وزیراعظم کا دورہ سندھ‘‘ ریلیز ہو گئی
08 ستمبر 2020 (19:08) 2020-09-08

وزیراعظم کے دورہ سندھ سے لگتا ہے جیسے سپر پاور کا سربراہ سندھ کا دورہ کر رہا ہے۔ پارلیمانی نظام نے بالآخر مسائل کے حل کے لیے عمران خان کو مراد علی شاہ کے برابر بٹھا دیا مگر تاخیر سے کافی نقصان ہو چکا۔ جمعہ کے روز لاہور میں بارش کا پانی جو فراٹے بھر رہا تھا لگ رہا تھا بزدار بزدار للکار رہا ہے جبکہ بزدار تبادلوں کی زد میں آنے والے پولیس افسران و انتظامی افسران کے متعلق خبروں اور تبادلوں کی وجوہات معلوم کر رہے تھے جبکہ کراچی میں وزیراعظم نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اور جو اقدامات اٹھانے کی بات کی ہے، اُن کا تقاضا تو اب وطن عزیز کا ہر شہر اپنے حجم کے مطابق کر رہا ہے۔ پچھلے دنوں سیٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ اپنے گھر 10 دن گزارے۔ کوئی گھر ہو گا جس نے ناجائز تجاوزات کر کے گاڑیوں کے گیراج اور کمرے نہیں بنا رکھے۔ یہ گوجرانوالہ کی سب سے بہترین رہائشی سکیم کا حال ہے۔ نارووال روڈ پر تو میں نے پورا کالم لکھا تھا مگر ہو سکتا ہے اس اخبار کے پرزے پر وزیراعلیٰ بزدارنے پکوڑے رکھ کر کھائے ہوں اور کالم نہ پڑھا ہو پتا نہیں کس ضد میں جی ٹی روڈ پر پل چڑھا کر گوجرانوالہ کی تاریخ پر پل چڑھا دیا گیا حالانکہ جی ٹی روڈ اتنی کشادہ ہے کہ اس پل کی قطعاً ضرورت نہ تھی مگر ناجائز تجاوزات نہیں ہٹائیں اور پل بنا ڈالا ڈسٹرکٹ کورٹ گوجرانوالہ سے سیٹلائٹ ٹاؤن کو جانے والی سڑک بہت کشادہ تھی مگر 10/12فٹ چوڑا فٹ پاتھ جیل کی زمین چھین کر پولیس نے اپنے اعلیٰ افسران مگر ادنیٰ انسانوں کے لیے کوٹھیاں بنا ڈالیں۔ آج اس سڑک پر کوئی پیدل نہیں چل سکتا کوئی فٹ پاتھ نہیں ۔ تبدیلی سرکار اگر ملک میں ناجائز تجاوزات ہی گرا دیں تو ہم سمجھیں گے انقلاب آ گیا۔ یہ صورت حال گوجرانوالہ کی ہی نہیں پورے پنجاب کی ہے اور شاید پورے ملک کی ہے۔ بلاول بھٹو سے شبلی فراز کہتے ہیں جو پیسے لگے ہیں نظر نہیں آتے جبکہ موصوف کی حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا غیر ملکی قرضہ لیا۔ پرانے قرضوں کی قسطوں کے بعد خطیر بچ جانے والی رقم اور اندرون ملک ہونے والے محصولات کی رقم آپ کی حکومت نے کہاں لگائی ہے نظر نہیں آتی البتہ پنجاب میں میاں صاحبان ، چوہدری برادران حتیٰ کہ وٹو کے دور کے کام بول رہے ہیں۔ 

سندھ میں تھرکول پراجیکٹ، تھر اور ہر جگہ کوشش اور کامیاب کوشش نظر آ رہی ہے ۔1100 ارب روپے میں 800 ارب روپے سندھ حکومت اور صرف 300 ارب وفاقی حکومت دے گی جس کے لیے مذاکرات چل رہے ہیں۔ اللہ کرے یہ بیل منڈھے چڑھ جائے کہیں اعلان اعلان ہی نہ رہ جائے۔ تکبر، ڈھٹائی، غیر جمہوری رویے، نا اہلیت محض باتوں سے نہیں چھپ سکتے۔ حکمران جماعت اپنی نئی صف بندی اس بات پر 

کر رہی ہے کہ اپوزیشن پر مقدمات بنائے اور وہ کوئی  قانون پاس نہیں ہونے دیتے۔ آپ اگر بنیادی حقوق کے خلاف قانون بنائیں تو پاس کرنے والی پارلیمنٹ مجرم ہو گی۔ بہت ہی اطمینان کی بات ہے کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب کی دی گئی وضاحت وزیراعظم نے فوراً مان لی اور اُن کو کام جاری رکھنے کا کہا ورنہ وزیراعظم تو کسی وضاحت کو نہیں مانتے جب تک کام تمام نہ ہو جائے جبکہ سراج الحق کہتے ہیں کہ جنرل صاحب کو رپورٹر کو عدالت میں بلا کر اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی۔ کام کرنے کی نیت ہو تو عہدہ اتنا اہم نہیں ہوتا انسان جس ذمہ داری پرہو اس کا کام بولتا ہے۔ چھوٹی سی مثال ہے حالانکہ سرکاری ذمہ داری ہے عظمیٰ زبیر ویمن ڈویلپمنٹ کی وزارت پنجاب کی صرف پی آر او ہیں جو دن رات عورتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں، کاش وزیراعلیٰ پنجاب اس خاتون کے برابر ہی کارکردگی کا ارادہ رکھتے مگر یہ پی آر او بزدار سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔ 

سوئٹزر لینڈ جاپان وغیرہ میں کوئی چوری، قتل، حق تلفی، جعلسازی، جھوٹ، فریب نہیں پوری قوم ایک جسم کی طرح ہے اور کہنے کو غیر مسلم ہیں بڑی دلیل دی جائے گی کہ ہمارے اصول انہوں نے اپنا لیے حالانکہ ان کے اصول کبھی تھے ہی نہیں البتہ اللہ اور رسولوں کا اور آقا کریمؐ کا پیغام ہے جس پر جو عمل کرے گا وہ فلاح پائے گا جبکہ ہماری ’’ریاست مدینہ‘‘ میں وزیراعظم اور حکمران ٹولہ ہی نفاق کی علامت ہیں کوئی ایک ادارہ ایسا نہیں جہاں دھڑے بندی نہ ہو اور میرٹ ہمارے معاشرے میں لفظ ممنوعہ ہو گیا۔ پیسہ انسان سے فوقیت لے گیا غیر مسلم ہونے کے باوجود ڈاکٹر منموہن سنگھ دیوان لکھتے ہیں: ’’میں کامیاب زندگی اس شخص کی سمجھتا ہوں۔ جب وہ مرے تو چند لاکھ روپیہ نقد چھوڑے اور چند ہزار آدمی اس کے جنازہ کے ساتھ ہوں‘‘۔ 

زندگی کی کامیابی کا یہ معیار اب بھی میرے ذہن میں وہی ہے جو ’’رعیت‘‘ کے زمانہ میں تھا۔ مگر نہیں کہہ سکتا کہ اس میں کامیابی کہاں تک ہوئی یا کب ہو گی۔ بہرحال اگر کوئی شخص کامیاب زندگی حاصل کرنا چاہے تو اس کا معیار یہی ہونا چاہیے کہ جب مرے تو ہر دلعزیزی اور مقبولیت کے اعتبار سے ہزار ہا لوگ اس کے جنازہ کے ساتھ ہوں۔ 

نظیر اکبر آبادی کہتے ہیں روپیہ سے اتنی محبت کرنی چاہیے جتنی ایک انگریز اپنے بیرایا خانساماں سے کرتا ہے یعنی جب بیرایا خانساماں سے کام لینا ہو تو انگریز بیرا اور خانساماں کو اپنے کمرہ میں اپنے پاس بلا لیتا ہے مگر جب کام نکل جائے تو اس بیرا یا خانساماں کو صاحب کے کمرے میں ایک منٹ بھی ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یعنی روپیہ سے کام لو مگر اس سے محبت نہ کرو۔ مگر ہمارے ہاں روپیہ زندگی بن گیا۔ 

مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ’’زمین کی اچھائی برائی کی پیداوار کا معیار اس کی پیداوار ہے۔ جو زمین گنا اگائے گی وہ بہتر ہے جو نرکل اگائے وہ خراب ہے‘‘۔ اسی طرح حکومت کے عمل کا معیار اس کی کارکردگی ہے اگرا س کی کارکردگی کا نتیجہ عدم انصاف ہے تو پھر حکومت بد ترین زمین ہوا کرتی ہے جس پر جتنی مرضی امید باندھ لیں مایوسی ہو گی۔ رحم و کرم تو پھر کوئی معانی رکھتے ہیں ۔

کراچی کیا پاکستان کے کسی بھی شہر کو وزیراعظم کے وعدوں اور دعووںپر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کراچی بحالی کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز شامل کیے گئے اور مرکزی کردار وزیراعلیٰ سندھ کا ہو گا کیونکہ مرکزی پیسہ بھی سندھ حکومت کا خرچ ہو گا۔ 

وطن عزیز میں اقتدار کا تعین ہی نہیں ہو سکتا لہٰذا نواز شریف کو ابھی وطن واپس نہیں آنا چاہیے مکمل صحت یاب ہو بھی جائیں تو پاکستان میں اس وقت انصاف ناپید، حکومت اپوزیشن کی دشمن اور حکومتی ادارے جانبدارنہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ دینی اعتبار سے بھی پاکستان آنے سے گریز بہترین سیاسی حکمت عملی ہے۔ حکومت کے لیے میاں صاحب کی سیر کرنے کی تصویر، مریم نواز کی مقبولیت اور بلاول بھٹو کا بطور کامیاب ترین اپوزیشن لیڈر ہونا ہی کافی ہے۔ بہرحال وزیراعظم کا ’’ دورہ سندھ ‘‘ریلز ہو گئی۔ دیکھتے ہیں کتنے گھنٹے ،ہفتے یا مہینے چلتی ہے یا فلاپ ہوتی ہے۔


ای پیپر