لاہوری ناشتہ
08 ستمبر 2020 (19:07) 2020-09-08

یومِ دفاعِ پاکستان ہماری قومی و عسکری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس پرمجھے بطور پاکستانی ہمیشہ فخر رہے گا اور میں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتاتے ہمیشہ انہیں نصیحت کروں گا کہ پاکستانی فوج کا احترام ہرپل ملحوظِ خاط رکھنا کیونکہ افواجِ پاکستان نے 1965ء اور 1971ء میں دشمن کو جیسے ناکوں چنے چبوائے اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ہر سال یومِ دفاع پر سینکڑوں کالم لکھے جاتے ہیں،ٹی وی چینلز پر درجنوں ٹاک شوز ہوتے ہیں اور پاکستان کے ہر شہر میں اسی مناسبت سے تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جو یقینا ہونا بھی چاہیے مگر پچھلے کچھ عرصے میں ہماری نئی نسل میں ایک عجیب بیانیہ گردش کرنے لگا اور افسوس یہ کہ اس پر ہماری نئی نسل نے یقین بھی کر لیا اور وہ یہ کہ ’’پاکستان 1965ء کی جنگ بری طرح ہار گیا تھا اور دشمن نے ہمارا برا حشر کیا لیکن ہم نے تاریخ کو مسخ کر دیا‘‘۔یہ وہ بیانیہ ہے جس کا آغاز دشمن ملک کے میڈیائی دانشوروں نے شروع کیا اور رفتہ رفتہ یہ بیانہ پاکستانی ’’لنڈے کے لبرلز اور بونے دانشوروں‘‘کے پاس پہنچا اور یوں انہیں موقع مل گیا کہ کسی طریقے سے پاکستانی آرمی کے خلاف بیان بازی کی جائے اور کہیں کا غصہ کہیں اور نکالا جائے۔یومِ دفاع کی تاریخی و عسکری اہمیت کیا ہے اور اس دن کیا کچھ ہوا ،یہ ہم سب پچھلے تقریباً پچاس سالوں میںپچاس دفعہ تو سن چکے ہیں لہٰذا میں جب کالم لکھنے بیٹھا تو میں نے سوچا کہ تاریخی حوالے سے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ انڈین آرمی جو لاہور میں ناشتہ کرنے آئے تھی‘بے چاری اپنی فوجی ٹوپیاں،رائیفلیں اور جوتے تک پاکستان میں بھول کر واپس بھاگ گئی اور جس نے لاہوری ناشتے کا اعلان کیا تھا اس کا عبرت ناک انجام بھی تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے۔

1965ء کی جنگ میں پاکستانی بحری‘بری اور فضائی افواج نے ناپاک بھارتی عزائم کو جس انداز میں خاک میں ملایا اور 17روز تک جیسے ہماری افواج نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں‘مہارتوں‘بہادری و جانبازی سے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا اس کی مثال تاریخ میں شاید ہی کہیں موجود ہو۔پاکستان پر مسلط کی جانے والی 65ء کی جنگ بھارت کے لیے ایک خوفناک خواب ثابت ہوئی اور ہماری افواج نے ان کے گھر میں گھس کر انہیںمارا اور یہ بھارت کی خوش قسمتی تھی کہ عالمی برادری کے کہنے پر ہماری افواج نے واپسی کا راستہ لیا ورنہ اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا تھا ‘بھارت کو اندازہ ہی نہیںتھا۔600ٹینکوں کی یلغار کو اپنے سینوں پر بم کی طرح باندھ کر تباہ کر دینے والے جانبازوں نے پوری دنیا اور بالخصوص دشمن کو باور کروا دیا کہ ’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘۔

اب سوال یہ ہے کہ اس اہم ترین تاریخی پس منظر کے باوجود ہماری نئی نسل کی ایسی کیوں ذہن سازی کی جا رہی ہے کہ انہیں اپنی ہی افواج اور عسکری اداروں سے متنفر کیا جا رہا ہے اور انہیں ’’لنڈے کے 

لبرلز‘‘یہ کہہ کر اپنے دفاعی اداروں کے خلاف کر رہے ہیں کہ ہماری فوج میں اتنا دم خم نہیں تھا سوہم 1965ء کی جنگ ہار گئے تھے اور پاکستانی مورخین نے فوج اور پاکستان کی محبت میں اپنی تاریخ کو مسخ کردیا حالانکہ اس حوالے سے بھارتی فوج میں اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہونے والے ائیر مارشل بھارت ہری کمار نے اپنی کتاب ’’ڈیولز آف دی ہمالینز ایگلز‘دی فرسٹ انڈو پاک وار‘‘اور ہربخش سنگھ جو پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت کی مغربی کمان کے سربراہ تھے‘کی یاداشتوں پر مبنی کتاب ’’ان دی لائن آف ڈیوٹی‘‘انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور ہمارے جن دانشوروں کو اپنی فوجی اور عسکری قیادت پر کوئی شک ہے تو انہیں دشمن کی لکھی کتابیں ہی کم از کم پڑھ لینی چاہیے۔ تاریخ مسخ کرنے کا کام سب سے پہلے تو مودی نے کیاکہ جس نے پچاس سال بعد نیا شوشہ چھوڑ دیا کہ ہم جنگ جیتے تھے۔مودی نے اپنی حکومت کے تیسرے برس نہ جانے کس کے کہنے پر یہ کہنا شروع کر دیا کہ 1965ء کی جنگ تو انڈیا نے جیتی تھی‘پاکستان تو بھاگ گیا تھا حالانکہ تاریخ اس معاملے 

میں کبھی جھوٹ نہیں بول سکتی اور عالمی برادری نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ پاک بھارت1965ء کی جنگ پاکستان نے جیتی تھی۔ان دونوں انڈین مورخین اور فوجی آفیسرز کی کتب اس بات کی غماز ہیں کہ پاکستانی افواج نے کس طرح دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنایا تھا اور جو لاہور میں ناشتہ کرنے آئے تھے‘وہ بی آر بی تک نہ پہنچ سکے اور ناشتہ تو دور کی بات ہے وہ اس مقدس سر زمین کا پانی تک نہ پی سکے۔

میرا خیال ہے کہ فوج کے خلاف بیانیہ متعارف کروانے میں جہاں دشمن لابیوں اور مغربی ایجنٹوں نے بنیادی کردار ادا کیا وہاں ہم سے ایک غلطی یہ بھی ہوئی کہ ہم نے پاکستان میں سوشل میڈیا کو مکمل آزاد کر دیااور یوں ہم نے ’’بندر کے ہاتھ ماچس تھما دی‘‘۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ سوشل میڈیا نے ہمیں لاکھوں کی تعداد میں ان پڑھ مذہبی اسکالر بھی دے دیے اور مؤرخین بھی،ہزاروں دانشور بھی مل گئے اور ’’چور دروازے‘‘ سے داخل ہونے والے صحافی اور لکھاری بھی۔یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نئی نسل مذکورہ لبرلز کے نرغے میں آگئی ہے اور یوں ہم اپنا قومی بیانیہ تک بھول گئے۔ہمارے قومی و تاریخی دنوں پر سوشل میڈیا کے ذریعے نئی نسل کی ایسی عجیب و غریب ذہن سازی کی جا رہی ہے کہ ہم اس پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔مجھے کبھی کبھی ایسے لوگوں پر حیرت ہوتی ہے کہ جن کی اپنے گھر میں کوئی نہیں سنتا ‘ وہ بھی سوشل میڈیا پر بیٹھے نوجوانوں کو اپنے فوجی و عسکری اداروں کے خلاف کر رہے ہیں حالانکہ قومی دنوں میں ہمیں اپنے دشمنوں کو ہمیشہ اپنا مثبت چہرہ پیش کرنا چاہیے۔ہمیں قومی و تاریخی دنوں میں عالمی برادری کویہ پیغام دینا چاہیے کہ ہم اپنی افواج اور سیکیورٹی اداروں سے شدید محبت کرتے ہیں اور ہزار اختلاف کے باوجود ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس ملک کا دفاع‘ہماری افواج کے سر پہ ہے اور پاکستانی فوج بلاشبہ دنیا کی چند بہترین افواج میں آتی ہے۔اگر کوئی ملک یہ بات تسلیم نہیں کرتا تو انہیں 1965ء کی جنگ کی کہانی لازمی پڑھنی چاہیے کہ جو لاہور میں ناشتہ کرنے آئے تھے‘ان میں درجنوں زندہ و سلامت واپس بھی نہ جا سکے اور چونڈہ ‘واہگہ کی سرحدیں اس بات کی گواہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔


ای پیپر