موازنہ
08 ستمبر 2020 (19:06) 2020-09-08

یہ قدیم مسلم تاجروں کی روایت تھی کہ وہ صبح دکان کھولنے کے ساتھ ایک چھوٹی سی کرسی دکان کے باہر رکھتے تھے جوں ہی پہلا گاہک آتا دکاندار کرسی اس جگہ سے اٹھاتا اور دکان کے اندر رکھ دیتا تھا لیکن جب دوسرا گاہک آتا دکاندار اپنی دکان سے باہر نکل کر بازار پر اک نظر ڈالتا جس دکان کے باہر کرسی پڑی ہوتی وہ گاہک سے کہتا کہ تمہاری ضرورت کی چیز اس دکان سے ملے گی،میں صبح کا آغاز کرچکا ہوں۔کرسی کا دکان کے باہر رکھنا اس بات کی نشانی ہوتی تھی کہ ابھی تک اس دکاندار نے آغاز نہیں کیا ہے۔یہ مسلم تاجروں کا اخلاق اور محبت تھی نتیجتاً ان پر برکتوں کا نزول ہوتا تھا۔

جاپان میں پچھلے 30سال میں چوری نہیں ہوئی، نہ کوئی قتل ہوا، کوئی بھوکا نہیں سوتا ، زلزلے کے وقت کیمپوں میں سب کچھ رکھ دیا جاتا ہے، کوئی ایک چھٹانک ضرورت سے زیادہ نہیں لیتا ، دیانتداری میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ، سڑک پر ایک کروڑ پھینک دیں کوئی نہیں اٹھاتا، آپ کندھا ماریں سامنے والا معذرت کرتا دکھائی دے گا، ترقی اور ٹیکنالوجی میں دنیا سے دس سال آگے جیتے ہیں ، کام اتنا کرتے ہیں کہ وزیراعظم ہاتھ جوڑ کے آرام کے مشورے دے ، سگریٹ کی راکھ جھاڑنے کی ڈبیا جیب میں ، صفائی اتنی کہ سڑکوں میں منہ نظر آئے ، پابندی وقت اتنی کہ پانچ منٹ ٹرین لیٹ ہونے پر  پوری کمپنی بند۔ اخلاق اتنا بلند آپ حیرت سے منہ تکتے رہ جائیں ، اخلاص مہمان نوازی اور ثقافت 

کمال ، محبت اور وفا اتنی جاپانی بیوی پوجا کرنے لگ جائے ، آپ کو اتنا کھلائے موٹے ہونے کا خوف طاری ہو ، وہاں کونسا نظام ہے، چاول کی فصل مرغوب غذا، ایک دفعہ قحط پڑا ، تو تیس سال کا ایسا ذخیرہ کیا، کہ دنیا سے چاول نایاب ہو جائیں، لیکن ان کا ذخیرہ ختم نہ ہو، جس کے ہو گئے بس پتھر پر لکیر، نظام صحت ایسا کہ ٹوائلٹ آپ کو جسم کی پوری ڈیٹیل دے دیں، دھوکہ اور بے ایمانی کا تصور محال اور کیا کیا لکھیں سوچیں۔وہ کس نظام ، کس کتاب کے پیروکار ہیں، یہ علم نہیں ، ہاں اتنا ضرور پتہ ہے وہ مسلمان نہیں ہیں۔

قارئین! آپ خود موازنہ کیجیے کہ ہم کس ڈگر پر چل رہے ہیں اور ہمارے آباء و اجداد کس ڈگر پر چلتے تھے۔ ہم نے ستاروں پر کمندیں ڈالی ہیں یا ہمارے آباء و اجداد نے ستاروں پر کمندیں ڈالی تھیں؟ ہم نے اسلام کو تقویت دی ہے کہ انہوں نے اسلام کو تقویت دی تھی؟ ہم نے انسانیت کی قدر کو بحال کیا ہے یا وہ انسانیت سے محبت اور شغف رکھتے تھے؟ ہم نے اخلاقی اقدار کو بلند کیا ہے یا اخلاقی اقدار ان کے دم قدم سے زندہ تھیں؟ مادہ پسندی اور مادہ پرستی کبھی اسلام کا حصہ رہی ہی نہیں تھی مگر ہم نے مادہ پرستی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اپنے مذہب اور دین سے بہت دوری اختیار کر گئے ہیں۔ ہم حواس باختہ ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاق باختہ بھی ہو گئے ہیں۔ چوری، دھوکہ، فراڈ، دغابازی، بے ایمانی، لوٹ کھسوٹ، عوام کا نہیں ہمارے سرپرستوں کا بھی وطیرہ بن چکا ہے۔ ہم نے ’’مال مفت دل بے رحم‘‘ کی طرح اس ملک کو لوٹا ہے۔ اگر آج جاپان ترقی یافتہ ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس ملک کے حکمرانوں نے پہلے خود اپنے آئین کی پاس داری کی ہے اور اپنے ملک کے خزانے کو بے دردی سے نہیں لوٹا۔ وہاں کی عدالتوں نے کبھی کسی گناہگار کو عدم ثبوت کی بنا پر کسی کانسٹیبل کے قتل کو ’’اچکزئی‘‘ قبیلے کا سردار سمجھ کر رہا نہیں کیا ہے؟ وہاں کی عدالت نے کبھی کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑا ہے۔ جاپان میں آٹا مافیا نہیں ہے۔ جاپان میں چینی مافیا نہیں ہے۔ وہاں جعلی میڈیسن کمپنیاں نہیں ہیں۔ وہاں مہنگائی آسمان سے باتیں نہیں کرتی۔ وہاں چیزوں کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ نہیں ہوتا۔ وہاں بلیک میلنگ نہیں ہوتی۔ وہ تاجر مافیا نہیں ہے۔ وہاں غریبوں کے حقوق سلب کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہاں ریپ نہیں ہوتا۔ وہاں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں نہیں ہوتیں۔ وہ معصوم کلیوں کو نہیں مسلا جاتا۔ وہ ٹھیکیداروں کی بنائی ہوئی سڑکیں اور بلڈنگیں صدیوں تک قائم رہتی ہیں۔ وہاں کا نظام تعلیم دوہرا نہیں ہے۔ وہاں کے حکمران ریاست مدینہ، روٹی، کپڑا مکان کا نعرہ لگا کر عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرتے… قارئین آئیے ہم اپنے اصل کی طرف لوٹ جائیں۔ اپنے پرکھوں اور بزرگوں کے روشن اور تابناک ماضی کو پھر سے مستقبل کا خوبصورت پیرہن عطا کریں۔ ہم ظلمت شب کا شکوہ نہ کریں بلکہ اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔ اپنے آباء کے علوم اور کارناموں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اس ملک خداداد کی قدر کریں۔ اس نعمت کی قدر کریں۔ بقول اسد رحمن:

یہ صبر کی تلقین بھلی بات ہے لیکن

ناصح نے کوئی اپنا بچھڑتے نہیں دیکھا


ای پیپر