پنجاب میں بلدیاتی انتخابات،گزارشات،تجاویز
08 ستمبر 2020 (19:05) 2020-09-08

  پنجاب بھر میں بلدیاتی انتخابات نومبر کے وسط میں کرانے کے اعلان کے ساتھ ہی امیدواروں نے شہریوںکی خوشی، غمی اوران سے رابطوں کوتیز کردیاہے، پی ٹی آئی،مسلم لیگ ن ،مسلم لیگ ق سمیت جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی ابھی سے گھوڑے دوڑانے شروع کر دئیے ہیں قارئین جن ترقی یافتہ یورپی ممالک کی مثالیں دیتے ہم نہیں تھکتے وہاں پربلدیاتی نظام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ہم صرف گراس روٹ لیول کی ترقی کی باتیں کرتے ہیں جبکہ وہاں عملی اقدامات کیے جاتے ہیں وہاں بااختیار بلدیاتی نظام ہے اور عدلیہ، پولیس، صحت، تعلیم سمیت تمام شعبے بلدیاتی نمائندوں کی سرکردگی میں بہترین طور پر وہ امور سرانجام دے رہے ہوتے ہیں جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہے افسوس ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے بلدیاتی نظام کو گھر کی مرغی دال برابربنا کررکھ دیا ہے اسمبلیوں میں بیٹھے افراد جوخود کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں اپنے اختیارات کسی اورکو دینا نہیںچاہتے اورجو الیکشن جیتنے کے بعد اپنے حلقے سے غائب ہو جاتے ہیں اوراس وقت تک منہ نہیںدکھاتے جب تک نئے الیکشن کا اعلان نہ ہوجائے؟ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں ترقیاتی فنڈزصرف اور صرف بلدیاتی اداروں کیلئے ہی مختص کئے جاتے ہیں، جس کا اصل مقصد گراس روٹ لیول پرترقیاتی کاموں کا کروانا ہوتا ہے جن میں 

گلیاں،بازار ودیگرگلی محلے کا کام ہوتے ہیں،شہر کی صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھتے ہوئے عوام کے معیار زندگی کو بہترکرنا ہوتا ہے، مقامی لوگوں کو دور دراز جانے کی بجائے اپنے علاقے میں ہی بلدیاتی نمائندے کے ذریعے اپنے مسائل حل کرانے میں مدد ملتی ہے،ارکان پارلیمان تک تو عام آدمی کی رسائی ہی ممکن نہیں ہوتی، بلدیاتی نظام گراس روٹ لیول پر تبدیلی کیلئے بہت اہم ہے اور عام آدمی ان اداروں تک رسائی باآسانی حاصل کر سکتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب کبھی کوئی توجہ نہیں دی ہے، پی ٹی آئی حکومت نے نواز لیگ دور میں کرائے گئے بلدیاتی الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہونے والے میئر،ڈپٹی میئر ،کونسلرزکو صرف اس لئے فارغ کردیا کہ کہیں یہ ان کیخلاف نہ چلیں حالانکہ یہی لوگ چھوٹے چھوٹے کام کر کے عوام کی ہمدردریاں حاصل کرکے حکومت کی نیک نامی میں اضافہ کر سکتے تھے لیکن تبدیلی سرکار کو یہی خوف لے ڈوبا؟ آج کہیں بھی کوئی کام نہیں ہو رہا بڑے منصوبے ملکی ترقی کے ضامن ہیں لیکن گلی محلے کی سیاست اہم ہو تی ہے شہریوں کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کیا جائے،گراس روٹ لیول پر انتخابات کرانے سے عوام اور ووٹرز میں سیاسی آگاہی آتی ہے،حکومت کو بلاتاخیر بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے سنجیدہ ہونا ہوگا،حکومت کو بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیارکرنے کے بجائے عوام کو سامنا کرنا پڑے گا،حکومت کواب بھی خوف ہے کہ کہیں دوبارہ ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدوارکامیاب نہ ہو جائیں اس خوف کو دیکھتے ہوئے حکومت وقت یہ بھی تو دیکھے کہ دو سالوں میں اس کیا کیا ہے بجائے معیشت کی تباہی کے اداروں کو آپس میں لڑانے کے ،جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے سے جمہوریت اور سیاسی پارٹیاں مزید مضبوط ہوں گی، بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پرسیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینے ہوں گے ورنہ سیاسی رسی کشی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا،بلدیاتی انتخابات سے راہ فرارحاصل کی گئی توآنے والے عام الیکشن میں اس کا خمیازہ تبدیلی سرکار کو بھگتنا پڑے گا کیونکہ حکومت کی دو سالہ کارکردگی صفرہے بلدیاتی ادارے نہ ہونے سے گلی محلوں میں ترقیاتی کام ٹھپ ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ کہیں ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی تو بے جا نہ ہو گا اور حقیقت ہے کہ صوبے میںشہر کے شہرکھنڈربنے ہوئے ہیں خاص کر صوبائی دارالحکومت لاہور میں اب تک حکومت نے کوئی کام نہیں کیا سوائے وعدوں کے؟ بلکہ آدھے سے زائدفلٹر پلانٹ بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو صاف پانی کی جگہ زہریلا پانی پلایا جا رہا ہے وفاقی اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پرشہری اور دیہاتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کرے تاکہ بلدیاتی الیکشن میں کامیابی اور آئندہ عام انتخابات میں جیت کیلئے پلاننگ کی جا سکے جب تک گراس روٹ لیول کی سطح پر اختیارات کی منتقلی نہیں ہو گی تب تک لوگوں کا معیار زندگی بلند نہیں کیا جا سکتا صوبوں کی محرومیاں بھی بڑھتی ہی چلی جائیں گی اس لئے بلدیاتی انتخابات میں اب کسی بھی بہانے دیر نہیں ہونی چاہیے۔


ای پیپر