عروس البلاد کراچی کیوں مشکل میںہے
08 ستمبر 2019 2019-09-08

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر،اقتصادی حب اور پورے ملک کے لیے معاشی رگ جاں ہے۔یہ روشنیوں کا شہر مساجد و مدارس کا مرکز ، مخیر حضرات اور اللہ کی راہ میں دل کھو ل کر خرچ کرنے والوں کا بے مثال مسکن، شرافت، مہذہب، جمہوری برداشت کے مزاج کی قومی قیادت اس شہر سے ملی۔علمی ادبی ثقافتی دائروں میں رہنا اس شہر کا کردار ہے۔ پاکستان کیا برصغیر کے ہر شہر کا مسلمان ،انسان یہاں آیا اور اس شہر نے ملک کو تحفظ دیا۔ کراچی وہ شہر جہاں کا جمہوری رویہ،با اصول اختلاف کا سلیقہ اپنی مثال آپ تھا۔لیکن آج اڑھائی کروڑ سے زیادہ انسانوںوالی آبادی والا شہر کیوں وحشت و دہشت اورانتہاپسندی کا شکار اور شرافت،برداشت،علمی و تہذیبی قدریں چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے ۔انسانی مسائل کا جنگل گھنا ہوتا جارہاہے۔ پاکستا ن کے کل محصولات کا پچاس فیصد سے زائد ٹیکس دینے والا شہر جو دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے ،اندھیروں،بدامنی،جان و مال کے عدم تحفظ ،کچرے اور گندے پانی کے عذاب میں کیوں مبتلا کردیا گیا ہے۔ کراچی اپوزیشن کی جرأت مندآواز کا شہر تھا ،ماضی کی فوجی آمریتوں اور متعصب سول بیوروکریسی نے کراچی کو آمرانہ روش کی مخالفت کی سزاد ی۔عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے پریشان رہے۔سندھ کو دیہی اور شہری سیاست میں تبدیل کردیا گیا۔لسانی مفادات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ کراچی میں ہجر ت کرکے آنے والے جوپاکستان کی تعمیرو ترقی کی ابھی اساس بنے، ان میں ہی شدت سے احساس محرومی پیدا ہوا۔مہاجر نعرہ پر ایم کیو ایم کراچی کی سیاست پر مسلط ہوئی۔اندرون سندھ اور کراچی کی سیاست نے کراچی کو تباہی کی طرف دھکیلا۔وفاقی ،صوبائی حکومتیں مرضی سے ایم کیو ایم کو استعمال کرتی رہیں اور ایم کیو ایم بھی ہر حکومت کے جہیز میں ناکارہ سامان کی طرح شامل رہی لیکن کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے ،آج پورا کراچی سراپا احتجاج ہے۔

یہ حیران کن امر ہے کہ وفاقی حکومت،سندھ حکومت ،بلدیاتی اداروں میں براجمان جماعتیں بھی الزام تراشیوں،ایک دوسرے کو مطمئن کرنے کے ساتھ احتجاج بھی کررہی ہیں۔اس سے زیادہ سنگین مذاق کراچی کے عوام سے نہیں ہوسکتا۔ ندامت،شرمندگی کی بجائے کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ڈھٹائی سے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔عوامی مزاج میں مزیدنفرتیں اور زہر انڈیل رہے ہیں۔جماعت اسلامی جس نے کراچی کی قومی صوبائی ،شہری سیاست پر مثبت خدمت،امانت و دیانت وحدت یکجہتی کے نقش قائم کئے ہیں، مشکل ترین حالات میں کارکنان کی شہادتیں برادشت کیں ،کارکنان پر بد ترین تشدد سہا لیکن اپنے نظریہ ،اصول، دعوت دین، عوامی خدمت کا علم نہیں گرنے دیا۔ کراچی کے ان حالات میں ایسے مرحلہ میں جب کراچی کے عوام کا کوئی یار ومددگار نہیں ،وزیراعظم ،وزیراعلیٰ حکمران پارٹی کے رہنما اور ممبران جھوٹ فریب اور نمائش سے عوامی زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔جماعت اسلامی کراچی نے بہت سلیقہ،جرأت مندی اور عوام کو درپیش حقیقی مسائل پر منظم احتجاج اورعوام کی مشکلات کے حل کے لیے آواز اٹھائی ،جماعت اسلامی کے بر وقت اقدام و کردار نے سیاست اور حکمرانی پر قابض عناصر کو بھی جھنجوڑا ہے۔

کراچی کے پینے کے پانی ،گندے پانی کی نکاسی ،ٹوٹی خستہ حال سڑکوں،بجلی بحران،سٹریٹ کرائم ،ٹرانسپورٹ کے بدترین مسائل سے دوچار ہے۔ان مسائل کے حل کے لیے ہر دور میں وفاقی ،صوبائی حکومتیں اعلان کرتی ہیں لیکن عمل نہیں ہوتا۔وقت آگیا ہے کہ وفاق،صوبہ اور بلدیاتی نظام ان مسائل کا حل نکالے وگرنہ یہ مسائل صرف شہری سطح ہی نہیں قومی سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لیں گے ،پھر کوئی چارہ گری کام نہیں آئے گی۔نواز شریف دور میں فنڈز،منصوبوں کے اعلانات ہوئے۔پی پی پی کا تیسرامسلسل دورچل رہا ہے باربار اعلانات ہوئے ،عمران خان کی حکومت آنے سے توقع بندھی کہ اب جھوٹ رخصت ہوگااور کراچی میں ترقی کا دور شروع ہوگالیکن وزیراعظم کے اعلان کردہ 162 ارب کے منصوبوں کی جگہ یہ فنڈ45ارب رہ گیا۔ ان پر عمل نہیں ،فنڈز کا کوئی اتہ پتہ نہیں کراچی کے عوام سے جھوٹے وعدوں کا تسلسل جاری ہے۔عملاً وفاقی حکومت کی تبدیلی کا دعویٰ کراچی کے لیے بھی سراسرسر اب ثابت ہوا ہے۔یہ رویے بدلنا ہونگے عوام ووٹ دیکر حکومتوں سے توقع نہ رکھیں تو کیا کریں۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے کے تینوں منصوبے K 4ناگزیر ہیں۔طویل عرصے سے کام جاری لیکن تکمیل کی منزل نہیں آرہی- حکومتیں ہدف مقرر کریں کہ نامکمل منصوبہ ایک سال میں مکمل کیا جائے۔بجلی کا بحران ناگفتہ بہ ہے حالیہ بارشوں میں بجلی کی فراہمی کے ناقص ناکارہ نظام سے کئی جانیں رخصت ہوئیں۔K الیکٹرک نجی شعبہ کے حوالے کیا گیا کہ نظام بہتر ہوگا لیکن یہ ادارہ عوام کے لیے عذا ب بن گیا ہے۔ کراچی کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کرنا صارفین کو اوربلنگ کے دبائو میں نہ لانا، عوالتی فیصلوں کے مطابق اضافی رقومات کی واپسی K الیکٹرک کی ذمہ داری ہے لیکن کوئی حکومت ہے جو اس پر عمل کرائے ،ظلم اور لوٹ مار کا ہاتھ روکے۔ کراچی ٹرانسپورٹ کے تہہ در تہہ مسائل سے دوچار ہے۔ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بس اور ریل کا ذریعہ خوشگوار ہے،لیکن شہر کھنڈر بنا دیا بس اور لین کا کام مکمل ہی نہیں ہورہا۔سرکلر ریلوے کے لیے لاتعداد لوگوں کو بے روزگار کرددیا اور غریبوں سے چھت چھین لی گئی۔لیکن ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا ۔ماس ٹرانزٹ پروگرام کراچی کی آباد ی کے تناسب سے کم از کم ایک ہزار بسوں کی فراہمی ،سرکلر ریلوے منصوبہ پر عمل کیا جائے۔یہ حکومتوں کا ہی کام ہے آخر عوام کو اس درد ناک صورتحال سے کون نجات دلائے گا۔ بلدیاتی ادارے، بھتہ خوروں ،بدعنوان گروہوں کے قبضہ میں ہیں۔عوام کو یاد رہے کہ کراچی کے مئیر عبدالستار افغانی،اور ناظم نعمت اللہ خان نے ان اداروں کا رخ عوام کی خدمت اوروسائل کو امانت و دیانت کا تحفہ دیا۔مستقبل میں کراچی کے بلدیاتی اداروں کو عوام کی خدمت کے راستہ پر ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ بد عنوان عناصر کی کرپشن کا احتساب ہو اگر آج بھی نعمت اللہ خان کے ورک ماسٹر پلاننگ پر عملدرآمد کردیا جائے تو کراچی کو مسائل سے مکمل نجات مل جائے گی۔جان و مال کے تحفظ کی فراہمی حکومت اور ریاسی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج،رینجرز،اور سیکورٹی اداروں نے کمال محنت اور توجہ سے کراچی کو امن لوٹا یا ہے،لیکن پھر سے دہشتگردی ،بھتہ خوری،امن و امان کے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔صوبائی حکومت اور پولیس صوبائی کمانڈ کی چپلقش نے پولیس نظام کو جام کردیاہے۔قانون کی بالادستی ہو ۔پسند وناپسند کی بجائے اہل اور دیانت دار اہلکار تعینات ہوں ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیانت داری سے فرائض ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کاکام بھی تو پولیس کو ہی کرنا ہے ۔میگا سٹی کے شایان شان ٹریفک کنٹرول کا نظام ناگزیر ہے۔ کراچی صنعتی کاروباری ،درآمدات و برآمدات کے لیے پورے ملک کا بنیاد ی شہر ہے۔صنعت تجارت سب سے زیادہ ریونیو دیتے ہیں۔ایف بی آر ،ایف آئی اے،صوبائی سرکاری ادارے عملاً کاروباری طبقہ کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں۔خوف وہراس کا ماحول ملکی معیشت کو اور زیادہ ڈبو دے گا۔ناجائز تجاوزات ،غریبوں کی جھگیاں ،بستیاں از خود نہیں سرکاری اداروں کی ملی بھگت سے بنیں۔طویل مدت سے غریبوں نے خون پسینے کی کمائی سے کاروبار اور سر چھپانے کا سامان کیا لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں غریب کے درد کا احساس کئے بغیر کاروبار چھیننے جھگی اور چھت چھینے تو یہ انتہائی غیر انسانی سلوک ہے۔کوئی سوچ،متبادل رہائش اور روزگار کی سبیل پیدا کی جائے یہی افراتفری امن عامہ کی خرابی، کرپشن اور جرائم میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔ کراچی کی اہمیت ہے کراچی کا حق ہے کہ قومی قیادت ،وفاقی و صوبائی حکومت اور ریاستی ادارے کا مل یکسوئی و توجہ سے کراچی کے عوام کے درد،آواز اور احتجاج کو سنیں۔جھوٹے دعوئوں، اعلانات اوردعوئو ں سے عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ آخر کب تک یہ فریب کا دھندا جاری رہ سکتا ہے۔ کراچی بین الاقوامی حیثیت کا حامل شہر ہے۔ کراچی کی بہتری اور ترقی ملک کی بہتری اورترقی ہے۔مجموعی طورپر کراچی کے پانی، سیوریج، ٹوٹی سڑکوں ،بجلی بحران، ٹرانسپورٹ، امن عامہ جیسے مسائل کے حل کا ماسٹر پلان تیار ہو۔وسائل کی فراہمی اس کے مطابق ہو اور پھر عملدرآمدبھی ہو۔پاکستان کی شہ رگ کشمیر پر تو حکمرانوں پالیسی سازوں کے غیر ذمہ دارنہ روئیوں کی آڑ میں بھارت کاری وار کر گیا ہے۔ اقتصادی شہ رگ کراچی کو ایسی صورتحال سے دوچار نہ کیا جائے۔ کراچی میں سیاسی، انتخابی، اقتصادی انصاف چاہیے۔ کراچی کے عوام کو مکمل آزادانہ اور غیر جانبدارانہ قیادت کے انتخاب کا حق لوٹا دیا جائے۔ کراچی کو درپیش ہمہ پہلو ہمہ گیر بحرانوں سے نجات دلانے کے لیے بس سنجیدگی، احساس اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔


ای پیپر