آزادی کے سورج کا انتظار
08 ستمبر 2019 2019-09-08

کہا ایک سیانی بیانی حکومتی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے کہ’’ وہ دن دور نہیں جب وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا‘‘۔ کب ہوگا کوئی وقت، دن، تاریخ کچھ پتا نہیں، حتیٰ کہ انہیں بھی پتا نہیں 72 سال سے (یعنی ان کی پیدائش سے بہت پہلے) گھٹاٹوپ اندھیرا چھایا ہوا ہے روشنی پسند لوگ کہتے کہتے قبر کے اندھیروں میں جا سوئے کہ ’’کوئی چراغ جلائو بڑا اندھیرا ہے‘‘ علی گیلانی،یاسین ملک برسوں سے اسی انتظار میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں کہ ڈل جھیل کے پانیوں میں کسی دن لہراتا سورج نظر آئے تو وہ آزادی کا جشن منائیں ہم اب تک یہی کہتے اور سنتے آرہے ہیں کہ ’’وہ دن دور نہیں‘‘ جب آزادی کا سورج طلو ع ہونے والا تھا تو ہمارے بڑوں نے ’’بڑائی‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیش قدمی روک دی اور برائی کو پھلنے پھولنے کا راستہ دے دیا۔ اب برائی پھل پھول کر مودی کی شکل میں 22 کروڑ پاکستانیوں اور 80 لاکھ کشمیریوں کا راستہ روکے کھڑی ہے۔ مجاہد اول سردار عبدالقیوم مرحوم و مغفور سے بہت پہلے کراچی میں ملاقات ہوئی تو یادوں کا پنڈورا بکس کھول کر بیٹھ گئے کہنے لگے سری نگر ائر پورٹ تک پہنچ گئے تھے ہمارے بڑے صرف 24 گھنٹے کان لپیٹے پڑے رہتے تو مسئلہ کشمیر حل ہوجاتا۔ اقوام متحدہ چیختی رہتی اس کی قرار دادوں کا بھارت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہمارا کیا بگڑتا۔ مگر سب کچھ بگڑ گیا۔ نعروں، تقریروں اور قراردادوں کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ سردار قیوم کی باتوں سے ہمارے دور کے دانشور اور ادیب مستنصر حسین تارڑ کا ایک سدا بہار فقرہ یاد آگیا انہوں نے لکھا کہ ’’دنیا بھر کے کافر جتنی مرضی سازشیں کرلیں مگرمسلمانوں کو عقل استعمال کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے‘‘۔ ہم اب تک روایتی راستوں اور دیکھی بھالی پگڈنڈیوں پر چل رہے ہیں اور اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا اسی انتظار میں مشرقی پاکستان میں سورج غروب ہوگیا اور وہ ہم سے کٹ کر بزعم خود آزادی کے سورج کی تپش سے جھلس رہا ہے بھارت کی مدد سے آزادی کسے راس آئی۔ سکھوں نے اعتماد کیا دھوکا کھایا دیگر اقلیتیں بھگت رہی ہیں۔ مغربی بنگال میں برسوں سے مقیم 40 ہزار بنگالیوں کی شہریت ختم کردی گئی۔ کشمیر کو اپنے اندر ضم کرلیا۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام، مذاکرات کا ڈھونگ لیکن ایجنڈے پر عملدرآمد ،کرفیو کو 38 دن ہوگئے کشمیریوں پر زندگی تنگ کردی گئی۔ ہمارے وزیر خارجہ نے مذاکرات کے لیے 3 شرطیں رکھیں فرض کرلیجیے کرفیو ختم ہوگیا (ختم ہونا ہی ہے) لیڈر رہا کر دیے گئے (کب تک بند رکھے جائیں گے روز کا معمول ہے صیاد سے مانوس ہوگئے ہیں) تو کیا مودی مذاکرات کی میز پر کشمیر پلیٹ میں رکھ کر پیش کردے گا۔ سیانے لوگ کہتے ہیں کہ مذاکرات ہوئے تو وہ آزاد کشمیر پر بات کرے گا مذاکرات کی رٹ فضول، دل بہلاوے یا عوام کے دل بہلانے کی باتیں، لیڈر بھارت کو للکار رہے ہیں کہ

تو ایٹمی طاقت پہ جو اترانے لگا ہے

تو نے ابھی اسلام کا لشکر نہیں دیکھا

اسلام کا لشکر برحق، لیڈروں کے نعرے سچے، مگر اقبال کا مرد مومن کہاں سے ملے گا۔

مکاری و عیاری و غداری و ہیجان

اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان

شیخ رشید کے نعرے لگاتے عمر گزر گئی، اب تو نعرہ لگاتے سانس پھولنے لگی ہے کہنے لگے 70 سالوں میں 10 جنگیں لڑی گئیں، اب جنگ ہوئی تو آخری ہوگی، آخری کی کوئی وضاحت نہیں کون باقی بچے گا، 65ء کی جنگ بھی کشمیر سے شروع ہوئی اور لاہور پہنچی قوم کا جذبہ دیدنی تھا جو دنیا میں مثال بنا ،54 سال بعد بھی 6 ستمبر کے موقع پر شہدا کی یاد میں کتنے آنسو بہائے گئے، جی ایچ کیو کی تقریب میں ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل فگار تھا۔ وطن کا وفاع کرنے والوں کی یاد میں ہر آنکھ سے آنسو ٹپکے، ہر دل رویا، زندہ قوموں کی نشانی، اپنے مجاہدوں اور محسنوں کو نہیں بھولتیں، فقرہ برسوں پرانا لیکن ہر سال دہرا کر تجدید وفا کی جاتی ہے۔ اے وطن کے سجیلے جوانو تم نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کردیا ہم تمہارے ممنون احسان ہیں، ہماری بہادر فوج الرٹ، ہمارے گھوڑے تیار، سینوں میں اللہ اکبر کی صدائیں تڑپ رہی ہیں۔ رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن، سب کچھ بجا لیکن زمینی حقائق کسی حل کے متقاضی ہیں ہم آزادی کے سورج کو کفر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ کرنا کیا ہے اپنے وزیر خارجہ کی ’’آنیاں جانیاں‘‘ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ہر طرف ٹیلیفون کھڑکا دیے ہیں۔ لیکن بقول ساجد میر حکومت کے کچھ ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ امارات کے حکمرانوں نے مشورہ دیا ہے کہ کشمیر کو امت مسلمہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے، کیوں نہ بنایا جائے؟ ہمارے وزیر خارجہ چبا چبا کر بات کرنے کے عادی ہیں جب تک وہ اپنی بات ختم کرتے ہیں اس وقت تک مخاطب کہیں اور مصروف ہوجاتا ہے۔ انہیں واضح طور پر بغیر کوما فل اسٹاپ اپنے ہم منصبوں کو بتانا چاہیے کہ مسئلہ صرف کشمیر کا نہیں مودی بھارت میں رہنے والے 30 کروڑ مسلمانوں کو بھی زبردستی ہندو بنانا چاہتا ہے۔ معمولی باتوں پر مسلمان قتل کیے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے اقدامات پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے؟ مسلم حکمرانوں کو کون سمجھائے گا؟ لگتا ہے ہم نے جن ممالک سے رابطہ کیا ہے وہ مسئلہ کشمیر پر اکتاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ گول مول سا جواب دے کر رخصت ہوجاتے ہیں، ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ نہیں بننے دیتا۔ مسلم ممالک امت مسلمہ کا مسئلہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ارد گرد کے دوستوں کا مشورہ کہ ڈیل کرلی جائے ہم نے واضح کردیا کہ ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ڈیل کرنے والے اپنے 9 نکات لے کر باہر جا بیٹھے مسئلہ کیسے حل ہوگا۔ آزادی کا سورج کیسے طلوع ہوگا۔ سیانے سرجوڑ کر بیٹھے اور ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ ہماری کوششیں کامیاب ہوں گی اور مودی آئندہ ایک دو سال میں مذاکرات پر مجبور ہوجائے گا ساتھ بیٹھے ایک بزرجمہر نے سر نفی میں ہلا دیا۔ پوچھا آپ کا کیا خیال ہے بولے نا ممکن مودی کبھی ہماری شرائط پر مذاکرات نہیں کرے گا۔ مذاکرات ہوئے تو اپنے موقف پر ڈٹا رہے گا آرٹیکل 370 کی بحالی اس کی موت ہے بحال کرے گا تو خود نہیں رہے گا۔ انتہا پسند ہندو اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے ایک فارغ البال جس کے سر پر بال نام کو نہیں تھے نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا حضرات ہمارا دفاع مضبوط، بھارت آزما چکا بلا شبہ پہل نہیں کرے گا لیکن جو کچھ کرچکا اس سے پیچھے بھی نہیں ہٹے گا۔ ایک بات ذہن میں رکھیے کہ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا دفاع اس کی معیشت جس کا ہم نے اپنے ہاتھوں سے جنازہ نکال دیا یاد رکھیے کشکول لے کر جانے والوں کو خیرات دی جاتی ہے۔ ان کی بات نہیں مانی جاتی ان کا موقف تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ڈالر قابو سے باہر ایک سال میں 46 روپے اضافہ، مہنگائی 11.6 فیصد بڑھ گئی خسارہ صرف کاغذات میں کم ہوا ادائیگیوں کا توازن بدستور ڈانواں ڈول، زر مبادلہ انتہائی کم سطح پر موجود عوام روز مرہ مہنگائی سے تنگ، گھر کا گھر بیمار ہے باہر کسی سے کیا کہیں، سرمایہ کار ندارد، ترسیلات زر ناقابل ذکر ،کس بات کا ذکر کیا جائے یہ الگ رونا ہے، سیاسی حالات دگرگوں، بیرونی ممالک مذاکرات اور ثالثی کے لیے قدم بڑھاتے ہوئے بہت کچھ سوچتے ہیں، انہوں نے ہمیں ان افریقی ممالک کی صف میں ڈال دیا ہے جہاں روز حکومتیں تبدیل کی جاتی ہیں، روز ہنگامے ہوتے ہیں اور وہاں کے حکمران کشکول لئے دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں۔ ہم سوچتے نہیں روز کچھ نہ کچھ کہتے ہیں لیکن بد قسمتی ہے کہ

کاٹ رہی ہے شاخ گلہری وہی کہ جس پر بیٹھی ہے

میری طرح یہ بھی جینے سے جنم جلی بیزار لگے

مسئلہ کشمیر حل کیسے ہوگا؟ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کا سورج کب طلوع ہوگا۔ وہ دن دور نہیں توکب آئے گا ہماری سیانی بیانی حکومتی ترجمان ہی بتا سکتی ہیں۔


ای پیپر