کون کرے گا؟
08 ستمبر 2019 2019-09-08

کاش کوئی آگے بڑھے اور سوشل میڈیا پر چلتی پولیس تشدد میں جاں بحق صلاح الدین کی ویڈیو ڈیلیٹ کر دے۔فیس بک , ٹویٹر پر ، انسٹا گرام ہر جگہہ یہ ویڈیو رات کو سونے نہیں دیتی۔ سارا دن خالی الذہنی کے عالم ، کبھی کسی آئٹم کی سر چ میں یہ ویڈیو سامنے آتی ہے۔ مایوسی ، خوف اور رنج سے دل رکنے لگتا ہے۔ کاش کوئی یہ ویڈیو ڈیلیٹ کردے۔ اک قلمکار ہی نہیں کون ایسا ہوگا جس نے انسانی روپ میں ان باوردی درندوں کے قہقہے نہ سنے ہوں گے۔ جو وہ اپنے ایسے گوشت پوشت کے انسان کو جانوروں کی طرح مارتے ہوے تفریح طبع کے لئے لگاتے تھے۔ لیکن نئے پاکستان میں کچھ ایسے بے حس ہیں جو اشارہ ملنے پر اس جرم کے دفاع کیلئے اتر آے ہیں۔ حاکم وقت کی خوشنودی کیلئے ہوتے ہی کچھ ایسے بھی۔ حب جاہ، دولت دنیا ، عہدہ منصب کا لالچ ایسے لوگوں کو لشکر یزید میں جا کھڑا کرتا ہے۔سو اب ایسے رضاکار میدان میں اترے ہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا پر۔ جو اس ذہنی معزور شخص کو چور ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ کوئی اس کو کسی بڑے گینگ کا کارندہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہلکان ہورہا ہے۔ ایک وہ رحیم یار خان کا ڈاکٹر ہے۔ طبیب کیا بس پیسے کمانے کی مشین ہے۔ جس نے لکھ دیا کہ مقتول پر کوئی تشدد نہیں ہوا۔ پھر وہ پولیس کا اعلیٰ افسر ہے۔جو یقینی طور سول سروس کا اعلی ترین امتحان اچھی پوزیشن میں پاس کرکے پولیس فورس میں آیا ہوگا۔حیرانگی ہوئی اس کو ٹی وی چینل پر شستہ انگریزی میں اس جرم کا دفاع کرتے ہوئے۔ ایک ویڈیو میں صلاح الدین کے مردہ دریدہ بدن کی تصویریں چل رہی تھیں۔ اور دوسری جانب اس اعلیٰ تعلیم یافتہ پولیس افسر کا انکار کہ تشدد تو ہوا ہی نہیں۔ بے غیرتی اور پیشہ وارانہ بے حسی کا ایسا نمونہ اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ وہ کسی نے کہا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ لیکن ایسے تنخواہ داروں میں بالکل نہیں ہوتی۔بس اگلے عہدے پر ترقی کی خواہش ہوتی ہے۔ اور اپنے سے کمزوروں پر طاقت کے اظہار کی جبلت۔ درندوں کی مانند۔ انسانیت کی اس سے بڑی تذلیل اور کیا ہوگی کہ تشدد سے چور آخری سانسیں لیتا ،مضروب پانی مانگتا ہے۔ اور آگے فرمائش آتی ہے کہ کتے کہ طرح بھونک کر دکھاؤ۔ڈھٹائی ، بے خوفی ، بے شرمی کا یہ عالم کہ اس سارے غیر انسانی تشدد کی ویڈیو بھی بنتی ہے۔ کیونکہ یہ نیا پاکستان ہے۔ پرانے پاکستان سے بھی زیادہ زبوں حال۔ سسکتا روتا کرلاتا پاکستان۔پولیس مقابلے ، پولیس حراست میں ہلاکتیں بھی ہوتی تھیں۔ لیکن پھر پراپیگنڈہ کی لیبارٹری میں ایک مسیحا تیار کیا گیا۔ایک خوبصورت پروڈکٹ کی مانند۔ اور ہم عامیوں کو بتایا گیا بس اپنے ووٹ کی پرچی نچھاور کردو۔ تمہارے سب دلدر دور ہو جائیں گے۔ بیورو کرسی کو نکیل ڈال دی جائے گی۔ تھانہ پٹواری کلچر تبدیل ہوجائے گا۔ ایک صوبہ کی مثالیں دی گئیں۔ دادو تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے۔اس اصلاحاتی انقلاب کی حقیقت بھی ہم کم علموں کو معلوم ہے۔ لیکن وہ ہمارا موضوع نہیں۔ اب سب سے بڑے صوبے کی حالت یہ ہے کہ صرف ایک ہفتہ میں پولیس حراست میں ہلاکتوں کا سکور سات تک پہنچ چکا۔ نہ جانے خفیہ نجی عقوبت خانوں میں کتنے بے جان لاشے منتظر ہیں کہ کوئی خفیہ ویڈیو منظر عام پر آئے اور ان کے لواحقین کو خبر ہوجائے۔ نئے پاکستان میں تو ان پر شہری کو اپنے پاس ، ارد گرد کسی ویڈیو کیمرہ کا بندو بست رکھنا ہوگا۔ تاکہ جرم کا ، ظلم کا کوئی ثبوت تو ہو۔ ورنہ تو تاریک راہوں میں موت کی گھاٹ اتر جائیں گے اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ صلاح الدین کے دانستہ متشدد قتل کا سراغ بھی کبھی نہ ملتا۔ سوشل میڈیا پر شور مچا تو پنجاب کے وسیم اکرم پلس کا نظام انصاف حرکت میں آیا۔ کمیٹیاں بن رہی ہیں۔ کمشن قائم ہورہے ہیں۔ بیانات داغے جارہے ہیں۔ نیا پاکستان کی ایک ندرت یہ بھی ہے کہ اب حاکم وقت مظلوم کے آنسو پونچھنے کیلئے ، داد رسی ، پرسے دلا سے کیلئے اس کو اپنے گھر بلاتا ہے۔ کمال ہے۔ ہے ناں نیا پاکستان۔ سانحہ ساہیوال کے مظلوموں کو بھی ایک روز گورنر ہاؤس بلایا گیا۔ جہاں بنی گالا سے آئے حاکم وقت نے ان بچوں کے ساتھ فوٹو سیشن کیا۔ ان بچوں کے ساتھ جن سے اس نے ماہ جنوری میں بذریعہ ٹویٹ وعدہ کیا تھا۔ ان کو ہی نہیں پوری قوم سے کہا تھا۔قطر سے واپسی پر ظالموں کو عبرت کی مثال بنا دوں گا۔کوئی اچھا فوٹو گرافر جائے اور تصویر بنائے۔ عبرت کی تصویر وہ بن ماں باپ بچے ہیں یا ان کے قاتل ؟ جن میں سے کچھ عہدوں پر بحال بھی ہونے کی اطلاع ہے۔پنجاب میں کئی آئی جی تبدیل ہوگئے۔ اصلاحاتی کمیٹی کا سربراہ مستعفی ہوچکا۔ ہر روز تبادلوں کے جھکڑ چلتے ہیں۔ خانوادہ شاہی سے نسبت رکھنے والے کسی انڈر نائینٹین فرد کی پیشانی پر بل آجائے تو آبائی ضلعے کا پولیس افسر بیک جنبش قلم تبدیل ہوجاتا ہے۔ کچھ دن میڈیا پر وا ویلا مچتا ہے۔ اور پھر سارا معاشرہ چپ کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ اگلے سانحہ کے انتظار میں۔ کسی نئی تحقیقاتی کمیٹی کے انتظار میں۔ کسی نئے کمیشن کی خبر سننے تک۔ حاکم وقت کی انصاف پسندی کیلئے پروگرام کرنے کی غرض سے۔ صلاح الدین کے معمعر والد سے دست عرض ہے۔سیالکوٹ میں جیل وزٹ پر آئے جج قتل کرد یے گئے۔ سیالکوٹ میں دو بھائی سر عام تشدد کر کے ہلاک کر دیئے گئے۔ ماڈل ٹاون کے نام پر شیخ شعبدہ نے خوب سیاست کی۔ انجام کار کچھ بھی نہ ہوا۔ آج تک کسی پولیس حراست قتل ، کسی جعلی پولیس مقابلے کے مرتکب افسر کو سزا نہیں ملی۔ آئندہ بھی نہیں ملے گی۔ جب تک پولیس اصلاحات نہیں کی جاتیں۔ جب تک منہ زور پولیس اہلکاروں کو حاصل اندھے اختیارات کو قانون کی لگام نہیں ڈالی جاتی۔ جب تک پولیس اہلکاروں کو انسانی جان کی حرمت کا سبق نہیں پڑھایا جاتا۔ جب تک تفتیش اور سراغ رسانی کیلئے ٹیکنالوجی کی مدد نہیں لی جاتی۔ یہ سب کچھ ہوگا معلوم نہیں۔ کون کرے گا۔ معلوم نہیں۔


ای پیپر