تھو ڑے عر صے کی با تیں اور 208ارب رو پے کا ٹیکا
08 ستمبر 2019 2019-09-08

تحر یکِ ا نصا ف کی حکو مت کو بر سرِ اقتدا آ ئے تیر ہ ما ہ سے ز یا دہ کا عر صہ بیت چکا ہے۔ پا کستا ن کی بسا طِ سیا ست پہ ا نجا نی سمت سے نمو دا ر ہو نے وا لی اس سیا سی جما عت کا مو جو دہ وز یرِ اعظم عمرا ن خا ن کا یہا ں کے متو سط اور غر یب عوا م کی نبضو ں پہ ہا تھ رکھنے وا لا نعرہ ملک میں معا شی انصا ف فر اہم کر نا تھا۔ ان کا وعد ہ تھا کہ وہ یہ کا م تین ما ہ کے تھو ڑے عر صے میں مکمل کر دکھا ئیںگے۔ تین ما ہ کا عر صہ گذ ر گیا،مگر جس طور سنو رنے کی بجا ئے مز ید بگڑے وہ سب نے دیکھا۔ تب عمرا ن خا ن اور ان کی پا رٹی کے بڑو ں نے کہا کہ دس سا لو ںکے گند کو صا ف کر نے کے لیئے بس تھو ڑا عر صہ اور لگے گا۔ سا دہ لو ح عوا م نے پھر یقین کر لیا۔ پھر تھو ڑا عر صہ اور لگے گا، مز ید تھو ڑا عر صہ اور لگے گاکہنا،ان کی عا دت بن گئی ۔ کئے گئے وعد و ں سے پھر نے کے لیئے یو ٹر ن کی اصلا ح معر ضِ و جو د میں آ گئی۔ اب عوا م کی قو تِ خر ید اس حد تک گر چکی ہے کہ با زا ر اور تجا رتی ما ر کیٹس گا ہکو ں سے خا لی ہیں۔ تجر بے کے طو ر پہ آ پ اعظم ما رکیٹ، لبر ٹی ما ر کیٹ اور انا ر کلی با زا ر وغیر ہ کا دورہ کر کے دیکھ لیجئے۔آ پ کو گا ہک نا م کی کو ئی شے تو نظر نہیں آئے گی، البتہ دو کا نو ں کے ما لکا ن پنکھو ںکے نیچے آ را م کر تے نظر آ ئیں گے۔ اہلِ اقتدا ر کی نظر اس جا نب مبذ ول کر وائی جا ئے تو وہ کہتے ملیں گے کہ تھو ڑے عر صے کی بات اور ہے۔ اب تو جی میں آ تا ہے کہ ان سے پو چھا جا ئے کہ تھو ڑا عر صہ آ خر کتنا عر صہ ہو تا ہے جو ختم ہو نے ہی میں نہیں آ رہا؟ٹھیک ہے کہ وطنِ عز یز سے کر پشن کا خا تمہ انتہا ئی ضر وری ہے، مگر یہ بھی ضر و ری ہے کہ اس سلسلے میں کئے جا نے والے سلو ک میں کو ئی امتیا ز نہ بر تا جا ئے۔ مگر کیا کہیں گے آ پ ملک کے چند خصو صی بڑے صنعت کا رو ں کو ان کے کل واجبا ت 416 ارب ر وپے کا پچا س فیصد حصہ ، جو 208ارب رو پے بنتا ہے ، معا ف کیئے جا نے کے با رے میں۔پھر سنتے جا یئے کہ208 ارب روپے ہی قومی خزانے کو ہو نے وا لا وا حد نقصا ن نہیں ہے- واجب الادا رقم پر کائبور پلس چار فیصد سالانہ کا انٹرسٹ بھی واجب الادا تھا۔ کائبور کا تین ماہ کا ریٹ 13.7 فیصد ہے یعنی 17 فیصد کا مزید فائدہ صنعتکاروں کو پہنچایا گیا ہے ۔ یوں اس مد میں ہونے والا نقصان 300 ارب روپے سے زائد بن جاتا ہے۔

گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس 2011 میں پی پی حکومت نے عائد کیا تھا۔ مقصد ایران پاکستان مجوزہ گیس پائپ لائن اور ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا گیس پائپ لائن کے منصوبوں کی فنانسنگ تھا۔ حکومتی سوئی سدرن اور ناردرن کمپنیوں، او جی ڈی سی ایل، فرٹیلائزرز، ٹیکسٹائل، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز، کیپٹو پاور پروڈیوسرز اور جینکوز پر یہ سیس یکساں شرح سے لاگو کیا گیا تھا۔ تقریباً سب بڑے صنعتکار جی آئی ڈی سی (GIDC)کے خلاف عدالتوں میں چلے گئے اور مختلف عدالتوں سے سٹے آرڈر لے کر بیٹھ گئے۔ تاہم ان کی چالاکی ملاحظہ فرمائیں کہ وہ عوام سے تو بدستور یہ سیس Cess وصول کرتے رہے۔ مثلاً یوریا کھاد پر کسان فی بوری 405 روپے سیس ادا کرتا ہے، مگر یہ رقم حکومتی خزانے میں جمع کروانے سے بچنے کیلئے سٹے آرڈر کا سہارا لیتے رہے۔ یہ مسئلہ ابھی چل ہی رہا تھا کہ عمران حا ن کی PTI کی حکومت آ گئی۔ اس حکومت نے جس دھوکہ دہی سے پاکستان اور پاکستان کے عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈالا اور لوٹا ہے یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی انوکھی کرپشن ہے۔

عمران خا ن حکومت کے اس فیصلے کے درپردہ محرکات اور اس سے مستفید ہونے والی عالی مرتبت شخصیات ! اسد عمر کے وزارت خزانہ سنبھالتے ہی جنوری کے منی بجٹ ہی میں جی آئی ڈی سی GIDC کا معاملہ صنعتکاروں کو عوام سے وصول شدہ رقم کا نصف ہڑپ کرنے کا موقع دینا تھا۔ یاد رہے کہ یہ جناب حسین داؤد ہی تھے جنہوں نے 2004 تا 2012 آٹھ برس تک اسد عمر جیسے نکھٹو کو اینگرو کارپوریشن کا سی ای او بنائے رکھا۔ کامیاب بزنس مین بہت دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی لانگ ٹرم انویسٹمنٹ انہیں فائدہ دیتی ہے۔ ایک اور حسین اتفاق یہ ہے کہ ہمارے وفاقی وزیر کا درجہ رکھنے والے مشیر برائے صنعت و پیداوار جناب عبد الرزاق داؤد اور جناب حسین داؤد آپس میں فرسٹ کزن ہیں۔ اربوں روپے کی لاٹری کس کس کی نکلی ہے تو باقی باتیں آپ خود ہی سمجھ جائیں گے۔ کیا کو ئی بتا ئے گا کہ کہا ں گئے اقر با پر وری ختم کر نے کے دعوئیـ؟

صرف فرٹیلائزرز انڈسٹری نے سیس کی مد میں 138 ارب روپے جمع کر رکھے تھے یوں اس سیکٹر کی پانچ چھ کمپنیوں کو 59 ارب کا سیس کی مد میں اور چھ سے سات ارب کا سرچارج کی مد میں فائدہ پہنچا ہے۔ گویا ہر کمپنی دس سے بارہ ارب گھر بیٹھے کما چکی ہے۔ بینفشریز میں پاک عرب اور فاطمہ فرٹیلائزرز جانے مانے عارف حبیب کی ملکیت ہیں ، جبکہ اینگرو فرٹیلائزرز کے مالک حسین داؤد ہیں۔ سیٹھ احمد داؤد کے اس لائق جانشیں کا اس معاملے میں کلیدی کردار رہا ہے۔ اب آ جائیںعمران خا ن کا سب سے بڑا فنانسرعارف نقوی جس کے ذکر کے بغیر یہ لازوال کرپشن کی کہانی ادھوری رہ جائے گی۔ اس بندے کے عمران خا ن تحریک انصاف پر اس قدر احسانات ہیں کہ جس نے گرفتاری کے وقت بھی صدر پاکستان جناب عارف علوی کا موبائل نمبر دیا تھا۔ اب یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ جناب عارف علوی آرڈننس جاری کرتے وقت عارف نقوی کو بھول جائے۔ اس عارف نقوی کی K کے الیکٹرک اور جینکوز کے ذمے 57 ارب سے زائد کے واجبات تھے، بیک جنبش قلم صدر پاکستان عارف علوی نے سیس Cess کی مد میں 28.7 ارب اور اس پر سرچارج کی مد میں تین ساڑھے تین ارب معاف کر دئیے ہیں۔ارب کے الیکٹرک اور شنگھائی الیکٹرک کے مابین ڈیل کے راستے کی بڑی رکاوٹ دور ہو گئی۔اس معاملے کے دو تین شرمناک پہلو مزید بھی ہیں۔ یعنی ایک تو جو تین سو ارب معاف کیا گیا ہے یہ 1971 تا 2018 تک معاف کئے گئے بنک قرضوں سے بھی بڑی رقم بنتی ہے۔ دوسرا یہ کہ قرضے تو خیر لوٹائے ہی نہیں گئے تھے، یہ رقم تو عوام کی جیبوں سے نکل کر ان صنعتکاروں کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو چکی تھی۔

چلیں خیر، یہ تو میگا کر پشن اور بڑے بڑے مگر مچھو ں کی با تیں ہو گئیں، مگر حا لا ت تو اس حد تک دگر گو ں ہیں کہ عوا م کو تحفظ پہنچا نے والے بنیا دی ادارے یعنی پو لیس کو تھو ڑے عر صے میں ٹھیک کر دینے کے وعد وں نے تو کیا پو را ہو نا تھا، الٹا حا لت یو ں بگڑی نظر آ تی ہے کہ ایک مجذ وب کو پولیس حوا لا ت میں پیٹ پیٹ کراس سوال پہ ہلا ک کر دیتی ہے کہ تسی اینا ما رنا کتھو ں سیکھیا۔


ای پیپر