فیصلے کی طاقت؟
08 ستمبر 2018 2018-09-08




پاکستان امریکہ تعلقات ایسے موڑ پر آ ن پہنچے ہیں کہ ماضی کے دو اتحادیوں کے درمیان جو تھوڑا بہت رومانس باقی رہ گیا تھا وہ بھی دم توڑتا نظر آ رہا ہے۔۔۔ جوہری لحاظ سے دونوں کبھی اتحادی نہیں تھے۔۔۔ انجن اور گاڑی کے آخری ڈبے کا رشتہ تھا۔۔۔ پاکستان کو کبھی امریکہ کی فرنٹ لائن کبھی Client سٹیٹ کہا جاتا تھا۔۔۔ امریکہ اب بھی یہ کام لینا چاہتا ہے۔۔۔ اس کی خواہش ہے ہمارا ملک افغان کے خلاف اس کی موجودہ جنگ میں اسی طرح مددگار ثابت ہو جس طرح سوویت یونین کے معاملے میں تھا یا جیسا کہ نائن الیون کے بعد کی جنگ میں ایک فوجی ڈکٹیٹر نے اپنے تمام سٹریٹجک وسائل اس کے قدموں پر رکھ دیے تھے مگر مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا ہے طالبان کو امریکی خواہشات کے مطابق شکست سے دوچار یا دبا کر رکھ دینے کا نتیجہ اگر یہ ہو کہ بھارت سرزمین افغاناں پر پوری طرح چھا جائے اور پاکستان مشرقی سرحد کے ساتھ مغرب کی جانب سے اس کے گھیرے میں آجائے تو ہمیں منظور نہیں۔۔۔ دوسری امریکہ جانب مکمل طور پر بھارت کا اتحادی بن چکا ہے۔۔۔ چین کا گھیرا تنگ کرنے کے در پے آزار ہے۔۔۔ پاکستان ماسوائے طالبان کے قلع قمع کے اس کی ضرورت نہیں رہا۔۔۔ بھارت کی دشمنی چین سے زیادہ پاکستان کے ساتھ ہے۔۔۔ وہ امریکہ کے ساتھ ایسے دفاعی اور اقتصادی معاہدے کر رہا ہے جن کی لپیٹ میں چین کے ساتھ پاکستان بھی آئے۔۔۔ موجودہ حالات کے اندر واشنگٹن کے حکمرانوں کو اس پر زیادہ اعتراض نہیں۔۔۔ اگرچہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں افغان طالبان کے کمبل سے پاکستان ہی نجات دلا سکتا ہے۔۔۔ یہ کام ظاہر ہے بھارت کے بس کا روگ نہیں۔۔۔ یہ ہے وہ مخمصہ جس میں امریکہ پھنسا ہوا ہے۔۔۔ پاکستان کو مسلسل دھمیاں دی جا رہی ہیں۔۔۔ امداد عرصے سے بند ہے۔۔۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کے آٹھ سو ملین ڈالر بھی روک لیے گئے ہیں۔۔۔ واحد سپر طاقت نے آئی ایم ایف کے دروازوں پر بھی پہرہ بٹھا دیا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر پاکستان کو مزید قرضے نہ دیئے جائیں تاکہ وہ ان کے بوجھ سے کراہتا رہے۔۔۔ تاہم اگر وہ ’راہ راست‘ پر آجاتا ہے اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے الفاظ میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے (ڈو مور) پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ان کی سوچ کے تحت پاکستان کی روح اور جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے کچھ آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔۔۔ اسی طرح ایک مخمصہ پاکستان کا بھی ہے ہم امریکہ کی کھلی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔۔۔ آئی ایم ایف کے قرضے ہماری ضرورت ہیں۔۔۔ کئی دوسرے شعبوں میں تعاون بھی ناگزیر ہے۔۔۔ لیکن اس کی قیمت اگر یہ ادا کرنی پڑے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی ملک افغاناں کو اٹھا کر بھارت کی جھولی میں ڈال دیں اور خود سینڈ وچ بن کر رہ جائیں تو یہ ہمیں کسی طور گوارا نہیں۔۔۔ پائے ماندن نہ جائے رفتن ۔۔۔ اس کا ایک حل سابق وزیراعظم نوا زشریف نے اکتوبر 2016ء میں ڈان لیکس کے نام سے شہرت پانے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ پیش کیا تھا کہ ہم کم از کم اپنی سرحدات کی حد تک ساری دنیا کو یقین دلا دیں کہ غیر ریاستی عناصر ادھر سے ادھر نہیں جا رہے ۔۔۔ نواز شریف نے اسی اجلاس میں یہ بھی بتایا کہ ہمارے ہر مشکل وقت میں کام آنے والے دوست
چین کا بھی درپردہ یہی مطالبہ ہے۔۔۔ اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ خود کو والیان ریاست کے مقام پر فائز کرنے والوں کے غیظ و غضب نے نواز حکومت کو بھسم کر کے رکھ دیا مگر حل کیا ہے بظاہر امریکہ کی سمجھ میں آ رہا ہے نہ موجودہ پاکستانی حکمرانوں کی ۔۔۔
ان دنوں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور جائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈینڈرف نے پاکستان اور بھارت کا ہی دورہ نہیں کیا واحد سپر طاقت کے وزیر دفاع جیمز میٹس بھی افغانستان کے دورے پر پہنچے ہوئے ہیں جبکہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی وانگ پاکستان کے تین روزہ دورے پر تشریف لائے ہوئے ہیں۔۔۔ پورے خطے کے اندر اپنے اپنے سٹریٹجک اہداف کی تکمیل کی خاطر باہمی مذاکرات کے ادوار جاری ہیں اور مستقبل قریب کی پیش بینی کے ساتھ اپنے اپنے لیے محفوظ راستوں کی تلاش پر بھی غور و فکر کیا جا رہا ہے۔۔۔ دنیا کا کوئی اور خطہ شاید اس وقت عالمی اور علاقائی سفارتی سرگرمیوں کا اس طرح مرکز نہیں بنا ہو اجس طرح پاکستان ، بھارت، چین اور سات سمندر پار سے آنے والے امریکی ہیں۔۔۔ شمال کی جانب روس جیسا طاقتور ہمسایہ ملک بھی نگاہیں گاڑھے ہوئے ہے۔۔۔ اگر شام، عراق و یمن جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکہ ، روس، سعودی عرب و ایران کے حربی و جنگی معرکوں کی آماجگاہ بن گئے ہیں تو پاک بھارت و افغانستان اور چین سفارتی محاذ آرائیوں کا میدان گرم کیے ہوئے ہیں۔۔۔ دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا۔۔۔ چین کو اپنے عالمی منصوبے ’ون روڈ ون بیلٹ‘ کی تکمیل جس کے سی پیک حصے کا پاکستان اہم جزو ہے عزیز تر ہے۔۔۔ پاکستان بھی اپنے داخلی اور علاقائی مفاد کی تکمیل سی پیک کی کامیابی میں دیکھ رہا ہے، بھارت کو مگر یہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔۔۔ وہ اس وقت امریکہ کے ساتھ جو سازباز کر رہا ہے اس تگ و تاز میں سی پیک اس کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔۔۔ امریکہ نے چین کے خلاف خطے کے اندر بھارت کی جغرافیائی قوت کے غبارے میں ہوا بھرنے کی خاطر ’ساؤتھ چائنہ سی‘ اور آبنائے ملاکا کے اردگرد پانیوں کو INDO PACIFIC کا نام دے دیا ہے۔۔۔ جبکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے حصو ل کا یقین بھی دلایا ہے۔۔۔ اس صورت حال نے پاکستان اور چین کے مفادات کو پہلے سے بھی زیادہ یکجا بلکہ مشترک کر دیا ہے۔۔۔ چین کے وزیرخارجہ کا جاری دورہ اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔۔۔ روس کے علاقائی نقطہ نگاہ میں ماضی کے برعکس خاصی تبدیلی آ چکی ہے۔۔۔ وہ بھارت کا اس نوعیت کا دم سازاور اتحادی نہیں رہا جیسا سردجنگ کے عہد میں تھا۔۔۔ پاکستان کی بھی نظریاتی مغائرت سابق سوویت یونین کے ساتھ تھی۔۔۔ موجودہ روس کے ساتھ نہیں۔۔۔ اسی وجہ سے پاکستان اور روس کے درمیان قربتیں بڑھ گئی ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان، چین اور روس کے مفادات میں اچھی خاصی ہم آہنگی پیدا ہو جائے۔۔۔ اسی سے خطے کے اندر طاقت کے توازن کے امکانات جنم لے سکتے ہیں۔
تیسری جانب امریکی پالیسی سازوں کو اتنی عقل ضرور آ گئی ہے کہ افغان طالبان کا مسئلہ خالی پاکستان پر دباؤ ڈالنے سے حل نہیں ہوسکتا اس کے لیے ضروری ہے کہ طالبان کو ملک افغاناں کی داخلی اور عوامی قو ت کے طور پر باقاعدہ تسلیم کر کے ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا ڈول ڈالا جائے۔۔۔ اس کا آغاز پچھلے دو ماہ کے دوران قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو چکا ہے۔۔۔ اس وقت جو امریکی وزیر دفاع افغانستان آئے ہوئے ہیں تو وہ طالبان کی اصل قیادت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔۔۔ افغانستان کے صدارتی انتخابات کا مرحلہ قریب آیا چاہتا ہے اور اشرف غنی جمع عبداللہ عبداللہ حکومت کے دن تمام ہونے والے ہیں۔۔۔ کئی اہم عہدیداراس حکومت کو چھوڑ کر اپنے لیے نیا راستہ تلاش کرنے کی راہ پر چل نکلے ہیں۔۔۔ دوسرے الفاظ میں کابل کی موجودہ امریکہ نواز انتظامیہ طالبان کی بپا کردہ مزاحمتی جنگ اور عوامی رسوخ دونوں کے مقابلے میں کمزور وکٹ پر ہے۔۔۔ امریکی سنبھالا اسے بچا نہیں پا رہا۔۔۔ اس عالم میں کیا امریکہ طالبان کی سیاسی طاقت اور اکثریتی پختون آبادی کے اندر نمائندہ حیثیت کو بھی تسلیم کرنے پر تیار ہوجائے گا۔۔۔ امر واقع یہ ہے کہ افغان مسئلے کا حل بڑی حد تک واشنگٹن کی جانب سے طالبان کی حقیقت کو عملاً تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔۔۔ اس مقام پر پاکستان کی مساعی امریکہ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔۔۔ ہمارا ملک امریکہ اور افغان طالبان کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔۔۔ مگر اس کے لیے پاکستان کو نہایت درجہ کی کامیاب اور اعلیٰ حکمت عملی و تدبر پر مبنی سفارت کاری رو بہ عمل لانا ہو گی۔۔۔ کیا پاکستانی حکمت کاروں نے اس کی تیاری کر لی ہے اور تمام دعووں کے علی الرغم آخری فیصلے کی طاقت ہمارے یہاں کس کے ہاتھوں میں ہو گی یہ بھی اہم سوال ہے۔


ای پیپر