یقین اللہ پر رکھتے ہیں ہم
08 ستمبر 2018 2018-09-08




نئی حکومت ابتدائی ہلکے پھلکے نزاعی امور ، ہیلی کاپٹر، پروٹوکال، سادگی مہم، سموسوں پکوڑوں کی بندش سے نکل کر حد درجے حساس اور متنازع مسئلے میں جا پھنسی، ایک جانے پہچانے پاکستانی امریکی قادیانی پروفیسر عاطف میاں کی وزیر اعظم کی معاشی مشاورتی کونسل میں بطور مشیر تعیناتی، موصوف امریکہ، کینیڈا میں پاکستان مخالف، قادیانی لابی میں مرزا مسرور کے معاون اور سرگرم کارکن ہیں ۔فعال ، متحرک کمر بستہ قادیانی جو ختم بنوت بارے آئین پاکستان کی شقوں کا شدید مخالف اور ان کے خاتمے کو ملکی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ ( ایکسپریس ٹریبون انٹرویو : 13 ستمبر 2014 ء) پاکستان کے معاشی مسائل کی ذمہ داری جوہری دھماکوں پر ڈالنے والا ماہر معاشیات اور مسئلہ کشمیر کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرانے والا ! المیہ یہ ہے کہ اس حد درجے المناک، سوچے سمجھے فیصلے پر ابتداً چوری اور سینہ زوری کا ایک طومار باندھا گیا۔ بینڈ باجے بجاتے سارے سیکولر پیچھے ہوئے۔ اقلیتوں کے حقوق، کے نام پر سینہ کوبی شروع ہو گئی۔ خلط مبحث کرتے ہوئے پوری قوم کے دینی شعور کو انتہا پسندی ، کے طعنے دیے گئے۔ ریاست مدینہ بارے حد درجے دینی جہالت پر مبنی جملے بولے گئے۔ اس تعیناتی کے بارے میں فواد چوہدری نے یہ تک کہا کہ یہ ہمارا مذہبی فریضہ ہے بحیثیت مسلمان ! اللہ ! اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کو پہلے قرآن، بنیادی عقائد ، تاریخ اسلام ، تاریخ پاکستان اور ختم نبوت ؐ شان رسالت بارے ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہی کر دیا جاتا۔ یہ شاخسانہ ہے دین ناشناسی، نا خواندگی کا ! سب سے بڑا جواز پاکستان کو معاشی مسائل سے نکالنے اور میرٹ کا پیشِ کیا جا رہا تھا۔ یہ جان لیجئے کہ شاندار سے شاندار میرٹ ختم نبوتؐ کے عقیدے میں اٹک کر صفر ہو جاتا ہے۔ قوم نے ، حتیٰ کہ خود تحریک انصاف کے کارکنوں تک نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جمائما خان نے قوم کے شدید دباؤ پر عاطف میاں کی تعیناتی کی منسوخی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اصلاً قادیانیت ایک عالمی ایجنڈے کا اہم جزو ہے۔ سو ان کا دکھ بجا ہے ! جمائما نے سرظفر اللہ کے وزیر خارجہ ہونے کا حوالہ دیا ۔ قادیانی ظفر اللہ نے درپردہ پاکستان کو جو چر کے لگائے وہ تاریخ کا حصہ ہیں ۔ بحیثیت ممبر باؤنڈری کمیشن ، کشمیر کو پاکستان سے کاٹ کر بھارت کو راستہ دینے میں اس کا کردار ہر کوئی جانتا ہے۔ اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے سفارتخانوں میں قادیانی مراکز بنا ڈالے۔ جرمنی، قادیانی گڑھ یونہی تو نہیں بن گیا۔ یہ سر ظفر اللہ کے اہتمام کا نتیجہ ہے۔ یہاں سے فراغت پر عالمی عدالت برائے انصاف کے جج بن گئے ! قادیانی ، پاکستان میں مناصب پر فرائض ادا کرنے کے بعد اسی طرح مغرب میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے رہے۔ رہی معاشی مسیحائی کی بات، تو ایم ایم احمد کے کارہائے نمایاں بھی تازہ کر لیجئے۔ عاطف میاں تو مسلمان سے خودارتداد اختیار کر کے قادیانی بنا۔ ( جو سنگین تر ہے۔) ایم ایم احمد مرزا غلا م احمد قادیانی کا پوتا تھا۔ ایوب خان دور میں پاکستان کا مضبوط ترین اور با اختیار ترین بیورہ کریٹ۔ ڈپٹی چیئر مین پلاننگ کمیشن، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری کامرس رہا۔ اسکی معاشی مہارت کے نتیجے میں پاکستان دولخت ہوا۔ حتیٰ کہ سابق ایئر چیف نور خان نے بھی ایم ایم احمد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ایوب خان کو فرانس سے ( قبل از 1968 ءNPT ) بر وقت ری پروسسنگ پلانٹ کے حصول سے روکنے اور ایٹمی قوت کے حصول میں مشکلات، بھاری مالی بوجھ برداشت کرنے کے پیچھے بھی
یہی قادیانی ہاتھ تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام( نوبل پرائز قادیانی) و دیگر قادیانی لابی بھی اس گناہ میں برابر کی شریک رہی۔ عاطف میاں امریکی شہری ہے۔ ایم ایم احمد بھی پاکستان سے عہدہ براء ہو کر آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات رہ کر وہیں انتقال فرماگئے تھے۔ پہنچی وہیں پہ خاک! پاکستان کا معاشی مسئلہ ایم ایم احمد نے یوں حل کیا کہ ، بچے کم خوشحال گھرانہ، کے مصداق پاکستان آدھا کر دیا۔ معیشت پر سے اضافی بوجھ ختم ہو گیا۔ تحریک انصاف اور اس فیصلے کو تھوپنے والوں کو سبق ہو جانا چاہیے۔ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان نہیں۔ آتے ہی انگاروں میں ہاتھ ڈال دینے کی جسارت کی؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ عالمی ایجنڈہ ہے جو دیدہ دلیرانہ بڑھانے کو کوشش کی گئی۔ یہ مشرف کا ادھوراٰ ایجنڈہ ہے۔ نہ میرٹ نہ معاشی ترقی۔ ختم نبوت ، ناموس رسالت قوانین کا خاتمہ مقصود ہے۔ قوم سے ایمان، حیا ، غیرت ختم کرنے کو 9/11 تا اس دم ، کیا کیا پاپڑنہ بیلے گئے۔ سیکولرازم گھونٹ گھونٹ پلانے کو تعلیم، ذرائع ابلاغ، اخلاقی تباہی بربادی کے بے شمار سامان ہوئے۔ لیکن ناموس رسالت ، ختم نبوت آج بھی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ خطرہ 22 ہزار وولٹ ہے۔ اس کے قریب آنے کی جرات کوئی نہ کرے! انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں عاطف میاں کی حقیقت چھپانا نا ممکن تھا۔ سامنے ہی تو وہ قادیانی سالانہ جلسے میں مرزا مسرور کے پہلو بہ پہلو سر پر مخصوص ٹوپی جمائے خطاب فرما رہے تھے۔ محتاط رہیے ! ایسی ہی ٹوپی پہنے گستاخ قرآن سلمان احمد ( مارچ 2013 ء یوٹیوب، BBC ورلڈ ) عمران خان کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔جسے آپ لائق فائق اکیڈمک بنا کر پیش کر رہے تھے۔ وہ Epidemic( متعدی، و بائی بلا) نکلا۔ قوم کا ایمان اس امتحان میں سرخرو ہوا۔ آئندہ ایسی کسی حماقت سے بچنے کے لیے جسٹس شوکت صدیقی کے اس ضمن میں فیصلے کو روبہ عمل لانا ضروری ہے۔ جھوٹے حلف ناموں کے پردے میں اعلیٰ عہدوں پر بہت سے قادیانی براجمان ہیں ۔ ان کے مطابق، ریٹائرمنٹ کے بعد حقیقت حال کھلتی اور ان کے حقیقی چہروں کی رونمائی ہوتی ہے۔ سواحتیاط لازم ہے سماجی بحرانوں، حادثوں سے بچنے کے لیے فتنۂ دجال کی چاپ بلند آہنگ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ قادیانیت، یہودیت کے پہلو بہ پہلو ہے۔ امریکہ فلسطینیوں کو فلسطینی ریاست کا خواب دکھاتا رہا۔ ٹرمپ نے پے در پے اقدامات سے اسے سراب ثابت کر دکھایا۔ اسرائیل کی محبت میں اگلا قدم دیکھیئے۔ 50 لاکھ فلسطینی مہاجروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں غزہ، مغربی کنارا، شام اردن، لبنان میں بکھیر پھینک دینے کے بعد 70 سال سے UNRWA کے ذریعے مدد فراہم کی جا رہی تھی۔ اقوام متحدہ کی یہ ریلیف ایجنسی ان کی تعلیم، طبی امداد اور خوراک کے لیے امداد فراہم کر رہی تھی۔ 5 لاکھ 26 ہزار بچوں کی تعلیم، 35 لاکھ مریض اور 17 لاکھ خوراک کی مد میں ضرورت مند مستفید ہو رہے تھے۔ ٹرمپ نے یہ فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کے نام پر تعلیم کی آڑ میں طوفان کھڑے کرتے پروپیگنڈا جنگ اور نوبل انعام دینے والا مغرب، لاکھوں بچوں کی تعلیم ختم کرنے چلا ہے ؟ ( نوبل انعام کے پس پردہ عوامل کا پول بھی کھل جاتا ہے ! ) امریکہ اسرائیل ، فلسطینیوں کو حتیٰ المقدور صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کے درپے رہے۔ 70 سالہ تاریخ گواہ ہے۔ اب اگلا قدم انہیں کاغذوں، ریکارڈوں سے مٹا دینے کا ہے۔ بر سر زمین انتظام میں فلسطینی اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں سے کلیتاً بے دخل کر کے غزہ،صحرائے سینا میں محصور کر کے بہت بڑا فلسطینی جھنڈا گاڑ کر اسے، ریاست ، فلسطین، قرار دینے کے ارادے میں ہے۔ مشرق و سطیٰ کے مسلمان ممالک کو کشند کے دوروں ، مراعاتی وعدوں نے رام کر لیا ہے۔ گریٹر اسرائیل کی طرف پیش قدمی ببانگ دہل جاری ہے۔ اسکا اہم ترین حصہ مسجد اقصیٰ کو اب یہودیوں کے مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لیے کھول دینے کا عزم ہے۔ اس کا اظہار اسرائیل سپریم کورٹ میں ہو چکا ۔ غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے امداد کی بندش کی دھمکی، بلیک میلنگ مزید ہے۔ شام لٹ پٹ چکا۔ ترکی شدید دباؤ تلے اپنے مسائل میں الجھا دیا گیا۔ پاکستان کے نظریاتی تشخص پر حملے جاری ہیں ۔ پومپیو 40 منٹ کی ملاقات میں دھمکا کر انڈیا اپنی بارات لیے دو دن کے لیے جا بیٹھے۔ ( نام کے اعتبار سے پومپیو، اٹلی کے ( قدیم رومی ) شہر پومپیائی کی یاد دلاتے ہیں ۔ جو آتش فشاں کے لاوے تلے دب گیا تھا۔) افغانستان چھچھوند بنا امریکہ کے گلے میں پھنسا ہے۔ ہم پر امریکی غصے کا لاوا ابل ابل پڑ رہا ہے کہ یہ جنگ ہم جیت کر اس کی جھولی میں ڈالیں۔ روس 1989 ء میں جہاں کھڑا تھا آج امریکہ کھربوں ڈالر جھونک کر نامراد اسی مقام پر کھڑا ہے!
پاکستان کو بھی اس امریکی جنگ نے ادھ مواء کر دیا۔ پاکستان کی بقا ایمان اور اسلام میں ہے۔ اللہ پر عزم آزاد مسلم مملکت کے شایان شان فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے۔ ( آمین ) سیکولرزم کے فریب سے نکل آئیے ! کس لیے بندوں کی آخر بندگی، جب یقین اللہ پر رکھتے ہیں ہم ۔


ای پیپر